سنن ابو داؤد · مسند احمد
Sunan Abi Dawud · Musnad Ahmad

نبی کریم ﷺ نے ابنِ اُمّ مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر کیا تھا، وہ لوگوں کی امامت کرتے تھے، حالانکہ وہ…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
11308Sahih صحیح
عن أنس رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه وسلم اسْتَخْلَفَ ابن أُمِّ مَكْتُومٍ يَؤُم الناس وهو أعْمَى.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ابنِ اُمّ مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر کیا تھا، وہ لوگوں کی امامت کرتے تھے، حالانکہ وہ نابینا تھے۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Anas (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) appointed Ibn Umm Maktūm as his successor to lead the people in prayer, and he was blind.
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudمسند احمدMusnad Ahmad
Original wording: اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #11308

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

نبی اکرم ﷺ نے ابن اُمّ مکتوم رضی اللہ عنہ کو کسی سفر میں اپنا نائب بنایا۔ وہ آپ ﷺ کی عدم موجودگی میں آپ کا نائب بن کر لوگوں کی امامت کراتے تھے۔ آپ ﷺ دوسروں کو چھوڑ کر ابنِ امّ مکتوم رضی اللہ عنہ کو ان کے سبقتِ اسلام کی وجہ سے اپنی نیابت کے لیے چنتے تھے، وہ ابتدائی دور میں ہجرت کرنے والوں میں سے تھے نیز وہ قرّاء اور علماء میں سے تھے، چنانچہ ان تمام فضائل کی وجہ سے وہ امامت کے زیادہ مستحق تھے۔ آپ ﷺ کا ابنِ امِّ مکتوم رضی اللہ عنہ کو ذمہ دار بنانا صرف نماز پڑھانے کی حد تک محصور نہیں تھا بلکہ یہ عام ذمہ داری تھی جو نماز اور دیگر سب چیزوں کو شامل تھی، انہیں فتویٰ دینے کا بھی حق تھا، لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کا بھی حق تھا، وہ آپ ﷺ کی غیرموجودگی میں مدینہ والوں کے تمام معاملات سنبھال تھے۔ اس پر طبرانی کی روایت دلالت کرتی ہے جسے عطا رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ابن امِّ مکتوم رضی اللہ عنہ کو نماز اور مدینہ کے معاملات طے کرنے کے لیے اپنا نائب بنایا۔ إرواء الغليل میں علامہ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ ابو داؤد کی دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے ابنِ مکتوم رضی اللہ عنہ کو دو مرتبہ مدینہ پر اپنا نائب بنایا۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) appointed Ibn Umm Maktūm as his successor in Madīnah as he went on some journeys. This is because Ibn Umm Maktūm was more qualified than others. He was one of the first people to accept Islam, and he was also a scholar and a skilled reciter of the Qur’an. Therefore, he deserved to be put in a leadership position. He would issue Islamic verdicts, judge between people, and manage all the affairs of Madīnah while the Messenger was absent. This is proven by a narration in which Ibn ‘Abbās (may Allah be pleased with him) reported: “The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) appointed Ibn Umm Maktūm as his successor in prayer and the other affairs of Madīnah.” [At-Tabarāni]
In another narration: “The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) appointed Ibn Umm Maktūm as his successor in Madīnah twice.” [Abu Dawūd]

Topics موضوعات