صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

انھیں تین یا پانچ یا اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ مرتبہ بیری کے پتے اور پانی سے غسل دو اور آخر میں…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
1751Sahih صحیح
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضيَ اللهُ عنها قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا، أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الآخِرَةِ كَافُورًا -أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ-، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي»، قَالَتْ: فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ، فَقَالَ: «أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ»، وَقَالَتْ: وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلاَثَةَ قُرُونٍ.
ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی ﷺ کی ایک بیٹی کی وفات ہوئی تو آپ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: «انھیں تین یا پانچ یا اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ مرتبہ بیری کے پتے اور پانی سے غسل دو اور آخر میں کافور -یا یہ کہا کہ کچھ کافور- کا استعمال کر لینا اور غسل سے فارغ ہوکر مجھے بتا دینا»۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: چنانچہ جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ ﷺ کو خبر دی، تو آپ ﷺ نے ہمیں اپنا حقوہ (ازار) دیا اور فرمایا: «ان کے بدن کو اس سے لپیٹ دو»۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم نے ان کے سر کی تین چوٹیاں بنا دیں۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
’Umm ‘Atiyyah (may Allah be pleased with her) reported: One of the daughters of the Prophet (ﷺ) passed away, so the Prophet (ﷺ) went out and said: "Wash her three times, or five times, or more if you find that necessary. Wash her with water and Sidr (ground lote leaves), add camphor—or a pinch of camphor—to water in the last time, and let me know when you finish." She said: When we finished, we told him, so he gave us his lower garment and said: "Let it be the first thing you shroud her in." She said: We plaited her hair into three braids.
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق عليه
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #1751

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

نبی ﷺ کی بیٹی زینب کی وفات ہوئی، تو آپ ﷺ ان عورتوں کے پاس تشریف لائے جو انھیں غسل دینے والی تھیں اور ان سے فرمایا: انھیں بیری کے پتے اور پانی سے تین یا پانچ مرتبہ یا اگر ضرورت ہو تو اس سے بھی زیادہ مرتبہ غسل دو، اور آخری غسل میں کچھ کافور ملا دینا، اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتا دینا۔ جب وہ خواتین ان کو غسل دے چکیں تو انہوں نے آپ ﷺ کو اطلاع دی۔ آپ ﷺ نے اپنا تہ بند (ازار) غسل دینے والیوں کو دیا اور فرمایا: ان کو اس میں لپیٹ دو اور اسے اس کے جسم سے متصل پہلا کپڑا بناؤ۔ پھر ان کے سر کے بالوں کی تین چوٹیاں بنا دی گئیں۔

حدیث کے فوائد

  • مسلمان میت کو غسل دینا واجب ہے، اور یہ فرض کفایہ ہے۔
  • عورت کو عورتوں کے سوا کوئی غسل نہیں دے سکتا اور مرد کو مردوں کے سوا کوئی غسل نہیں دے سکتا، البتہ بیوی اور شوہر، لونڈی اور اس کا آقا اس سے مستثنیٰ ہیں، چنانچہ ان میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کو غسل دے سکتا ہے۔
  • غسل تین بار دیا جائے، اگر کافی نہ ہو تو پانچ بار، اور اگر یہ بھی کافی نہ ہو تو مصلحت اور ضرورت کے مطابق اس میں اضافہ کیا جائے، اس کے بعد اگر جسم سے کوئی نجاست نکلے تو نجاست نکلنے کی جگہ کو بند کر دیا جائے۔
  • غسل دینے والا غسل کو طاق عدد پر ختم کرے، تین، یا پانچ، یا سات۔
  • سندی کہتے ہيں: اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ میت کو غسل دینے کی کوئی تحدید نہیں ہے، بلکہ صفائی مطلوب ہے، لیکن طاق عدد کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
  • پانی کے ساتھ بیری ہو؛ کیونکہ یہ پاک کرتا اور میت کے جسم کو سخت کرتا ہے۔
  • میت کو آخری غسل کے ساتھ خوشبو لگائی جائے، تاکہ پانی اسے زائل نہ کردے، اور یہ خوشبو کافور کی ہو، کیونکہ یہ اپنی اچھی خوشبو کے ساتھ ساتھ جسم کو سخت بھی کرتا ہے، جس کی وجہ سے اس میں جلد بگاڑ پیدا نہیں ہوتا۔
  • معزز اعضاء سے غسل شروع کیا جائے، یعنی دائیں اعضاء اور اعضائے وضو۔
  • مرنے والی کے بالوں میں کنگھی کرنا، انہیں تین چوٹیوں میں باندھنا، اور انہیں اس کے پیچھے ڈال دینا مستحب ہے۔
  • میت کو غسل دینے میں مدد کرنا جائز ہے، لیکن صرف وہی حاضر ہو جس کی ضرورت ہو۔
  • نبی ﷺ کے آثار مثلاً آپ ﷺ کے لباس سے تبرک حاصل کرنا، یہ عمل آپ ﷺ کے ساتھ خاص ہے، چنانچہ اس میں آپ ﷺ کے علاوہ دیگر علماء وصالحین کو شامل نہیں کیا جا سکتا؛ کیونکہ یہ امور توقیفی ہیں، صحابہ کرام نے آپ ﷺ کے علاوہ کسی اور کے ساتھ ایسا ہرگز نہیں کیا؛ اور اس لیے بھی کہ آپ ﷺ کے علاوہ کسی اور کے ساتھ یہ عمل شرک کا وسیلہ اور اس شخص کے لیے فتنہ کا باعث ہے جس سے تبرک حاصل کیا جائے۔
  • امین شخص کو اس امانت میں تصرف کا اختیار سونپنا جائز ہے، اگر وہ اس کا اہل ہو۔

Explanation

Zaynab, the daughter of the Prophet (ﷺ), passed away. The Prophet (ﷺ) entered upon the women who were to wash her and said to them: Wash her with water and lote leaves an odd number of times—three, or five, or more if needed—and in the final wash, add some camphor. When you finish, inform me. When they finished washing her, they informed him. He then gave his lower garment to the women who washed her and said: Wrap her in it, and make it the garment closest to her body. Then her hair was braided into three plaits.

Topics موضوعات