انھیں تین یا پانچ یا اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ مرتبہ بیری کے پتے اور پانی سے غسل دو اور آخر میں…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #1751Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 1751)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
نبی ﷺ کی بیٹی زینب کی وفات ہوئی، تو آپ ﷺ ان عورتوں کے پاس تشریف لائے جو انھیں غسل دینے والی تھیں اور ان سے فرمایا: انھیں بیری کے پتے اور پانی سے تین یا پانچ مرتبہ یا اگر ضرورت ہو تو اس سے بھی زیادہ مرتبہ غسل دو، اور آخری غسل میں کچھ کافور ملا دینا، اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتا دینا۔ جب وہ خواتین ان کو غسل دے چکیں تو انہوں نے آپ ﷺ کو اطلاع دی۔ آپ ﷺ نے اپنا تہ بند (ازار) غسل دینے والیوں کو دیا اور فرمایا: ان کو اس میں لپیٹ دو اور اسے اس کے جسم سے متصل پہلا کپڑا بناؤ۔ پھر ان کے سر کے بالوں کی تین چوٹیاں بنا دی گئیں۔
حدیث کے فوائد
- مسلمان میت کو غسل دینا واجب ہے، اور یہ فرض کفایہ ہے۔
- عورت کو عورتوں کے سوا کوئی غسل نہیں دے سکتا اور مرد کو مردوں کے سوا کوئی غسل نہیں دے سکتا، البتہ بیوی اور شوہر، لونڈی اور اس کا آقا اس سے مستثنیٰ ہیں، چنانچہ ان میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کو غسل دے سکتا ہے۔
- غسل تین بار دیا جائے، اگر کافی نہ ہو تو پانچ بار، اور اگر یہ بھی کافی نہ ہو تو مصلحت اور ضرورت کے مطابق اس میں اضافہ کیا جائے، اس کے بعد اگر جسم سے کوئی نجاست نکلے تو نجاست نکلنے کی جگہ کو بند کر دیا جائے۔
- غسل دینے والا غسل کو طاق عدد پر ختم کرے، تین، یا پانچ، یا سات۔
- سندی کہتے ہيں: اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ میت کو غسل دینے کی کوئی تحدید نہیں ہے، بلکہ صفائی مطلوب ہے، لیکن طاق عدد کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
- پانی کے ساتھ بیری ہو؛ کیونکہ یہ پاک کرتا اور میت کے جسم کو سخت کرتا ہے۔
- میت کو آخری غسل کے ساتھ خوشبو لگائی جائے، تاکہ پانی اسے زائل نہ کردے، اور یہ خوشبو کافور کی ہو، کیونکہ یہ اپنی اچھی خوشبو کے ساتھ ساتھ جسم کو سخت بھی کرتا ہے، جس کی وجہ سے اس میں جلد بگاڑ پیدا نہیں ہوتا۔
- معزز اعضاء سے غسل شروع کیا جائے، یعنی دائیں اعضاء اور اعضائے وضو۔
- مرنے والی کے بالوں میں کنگھی کرنا، انہیں تین چوٹیوں میں باندھنا، اور انہیں اس کے پیچھے ڈال دینا مستحب ہے۔
- میت کو غسل دینے میں مدد کرنا جائز ہے، لیکن صرف وہی حاضر ہو جس کی ضرورت ہو۔
- نبی ﷺ کے آثار مثلاً آپ ﷺ کے لباس سے تبرک حاصل کرنا، یہ عمل آپ ﷺ کے ساتھ خاص ہے، چنانچہ اس میں آپ ﷺ کے علاوہ دیگر علماء وصالحین کو شامل نہیں کیا جا سکتا؛ کیونکہ یہ امور توقیفی ہیں، صحابہ کرام نے آپ ﷺ کے علاوہ کسی اور کے ساتھ ایسا ہرگز نہیں کیا؛ اور اس لیے بھی کہ آپ ﷺ کے علاوہ کسی اور کے ساتھ یہ عمل شرک کا وسیلہ اور اس شخص کے لیے فتنہ کا باعث ہے جس سے تبرک حاصل کیا جائے۔
- امین شخص کو اس امانت میں تصرف کا اختیار سونپنا جائز ہے، اگر وہ اس کا اہل ہو۔
Explanation
Zaynab, the daughter of the Prophet (ﷺ), passed away. The Prophet (ﷺ) entered upon the women who were to wash her and said to them: Wash her with water and lote leaves an odd number of times—three, or five, or more if needed—and in the final wash, add some camphor. When you finish, inform me. When they finished washing her, they informed him. He then gave his lower garment to the women who washed her and said: Wrap her in it, and make it the garment closest to her body. Then her hair was braided into three plaits.