مسلمانوں میں سے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مسجد میں تشریف فرما تھے۔ اس نے آپ کو آواز دی…
فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبع شهادات: دَعَاهُ رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم ، فَقَالَ: أَبِكَ جُنُونٌ؟ قَالَ: لا، قَالَ: فَهَلْ أُحْصِنْت؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ الله: اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ».
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ. سَمِعَ جَابِرَ بنَ عَبْدِ الله يَقُولُ: «كُنْت فِيمَنْ رَجَمَهُ، فَرَجَمْنَاهُ بِالمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ هَرَبَ، فَأَدْرَكْنَاهُ بِالحَرَّةِ، فَرَجَمْنَاهُ».
جب اس نے اپنے خلاف چار گواہیاں دے دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا اور پوچھا: کیا تم پاگل ہو؟ اس نے عرض کیا نہیں۔ پھر پوچھا: کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے لے جاؤ اور سنگ سار کردو۔
ابن شہاب کہتے ہیں: مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے خبر دی، جنھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جابر رضی اللہ عنہ کہتے تھے: ”میں ان لوگوں میں شامل تھا، جنھوں نے اسے رجم کیا۔ ہم نے اسے عیدگاہ میں سنگ سار کیا۔ پس جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگ گیا، ہم نے اسے میدان حَرۃ میں پایا اور سنگ سار کردیا“۔
Ibn Shihāb said: "Abu Salamah ibn ‘Abdur-Rahmān informed me that he heard Jābir ibn ‘Abdullāh say: ‘I was one of those who stoned him. We stoned him at the place of prayer. When the stones hurt him, he ran away. We caught him in Al-Harrah and stoned him (to death).'"
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #2933Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 2933)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ، نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت آپ ﷺ مسجد میں تشریف فرماتھے۔ انہوں نے آپ کو آواز دی اور زنا کے ارتکاب کا اعتراف کیا۔ آپ ﷺ نے ان سے اپنا چہرہ پھیر لیا۔ شاید آپ کا مقصد یہ تھا کہ وہ واپس لوٹ جائیں اور ان کے اور اللہ تعالیٰ کے علم میں مخفی اس امر سے توبہ کرلیں، لیکن وہ اپنے گناہ سے سخت نالاں تھے اور حد رجم کے ذریعے خود کو پاک و صاف کرانے کا پختہ عزم لیے حاضر ہوئے تھے۔ چنانچہ وہ دوبارہ آپ کے روبرو آئے اور پھر زنا کے ارتکاب کا اعتراف کیا۔
آپ ﷺ نے اس مرتبہ بھی ان سے اپنا چہرہ پھیر لیا، تاآں کہ انھوں نے چار مرتبہ ارتکاب زنا کا اعتراف کیا۔ اس مرتبہ آپ ﷺ اس معاملے کی تحقیق کے لیے متوجہ ہوئے اور ان سے دریافت کیا کہ تمھیں پاگل پن کی بیماری تو نہیں؟ انھوں نے جواب دیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے ان کے گھر والوں سے ان کی عقل کے بارے میں دریافت فرمایا، تو انھوں نے ان کی عقل کو درست قرار دیا۔ پھر آپ ﷺ نے ماعز رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آیا وہ شادی شدہ ہیں یا غیر شادی شدہ کہ وہ رجم کے حق دار نہیں ہوتے؟ انھوں نے بتایا کہ وہ شادی شدہ ہیں۔ آپ ﷺ نے ان سے دریافت کیا کہ شاید انھوں نے چھونے یا بوس و کنار کرنے جیسی حرکات کی ہوں کہ جس سے حد رجم واجب نہیں ہوتی، تاہم انھوں نے واقعتا زنا کے ارتکاب کی وضاحت کر دی۔
جب نبی ﷺ نے ہر اعتبار سے معاملے کی چھان بین فرمالی اور حد رجم کے نفاذ کا وجوب ثابت ہوگیا، تو اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ انھیں لے جاکر سنگ سار کردیں۔
چنانچہ صحابۂ کرام، انھیں لے کر بقیع غرقد کی جانب نکلے -یہ نماز جنازہ کی جگہ تھی- اور انھیں رجم کرنا شروع کیا۔ جب انھیں پتھروں کی شدت محسوس ہوئی، تو اس سے بچنا چاہا اور موت سے بھاگنے کی آرزو کی؛ کیوں کہ انسانی نفس اس سزا کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ وہ بھاگ پڑے۔ صحابہ نے انھیں مقام حرۃ (مدینے میں واقع کثرت سے پائے جانے والےسیاہ پتھروں کی سرزمین) پر آلیا اور مارنے لگے، یہاں تک کہ ان کی موت ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے اور ان سے راضی ہو۔
Explanation
Mā‘iz ibn Mālik al-Aslami (may Allah be pleased with him) went to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) while he was in the mosque and confessed to having committed adultery. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) turned away from him, hoping that he would retract his statement and repent to Allah in secret. Yet, Mā‘iz was angry with himself, and he was determined to purify his soul through the prescribed punishment. Hence, he went to face the Prophet from the other side and again confessed to having committed adultery.
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) once more turned his face to the other side, and he kept doing so until Mā‘iz confessed to having committed adultery four times. Afterwards, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) asked him if he was suffering from any form of insanity, and he answered in the negative. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) then asked his family about the state of his mind, and they said that he was fine.
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) then asked him if he was (currently or previously) married or a virgin, as the punishment of the virgin does not amount to stoning. He told him that he was married. Furthermore, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) asked him if he had committed complete adultery, and not merely touching or kissing, but the man admitted to having committed complete adultery.
After the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) had made sure of the veracity of all of those conditions which require the implementation of the legal prescribed punishment, he ordered his Companions to take the man and stone him to death. They took him to Baqī‘ al-Gharqad [a place where the funeral prayer is performed in Madīnah] and stoned him. When he experienced the severity of stoning, he asked to be released and tried to escape death. He ran away as the human soul is unable to bear this. The Companions caught up to him in a place called "Al-Harrah" and continued stoning him until he died (may Allah have mercy upon him and be pleased with him).