اللہ عز و جل تمھیں اپنے باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #2945Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 2945)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ تعالی نے باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کیا ہے۔ لہذا جسے قسم کھانی ہو، وہ اللہ کی قسم کھائے۔ کسی اور کی نہیں۔ بعد ازاں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ جس دن سے انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، انھوں نے باپ دادوں کی قسم نہيں کھائی ہے۔ نہ جان بوجھ کر اور نہ کسی دوسرے کے ذریعے غیراللہ کی کھائی ہوئی قسم کو نقل کرتے ہوئے۔
حدیث کے فوائد
- اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھانا حرام ہے۔ آپ نے یہاں باپ دادوں کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں باپ دادوں کی قسم کھانا ایک عام بات تھی۔
- عربی لفظ "الحَلِف" کے معنی ہیں، کسی بات کی تاکید کے لیے اللہ، اس کے اسما یا صفات کی قسم کھانا۔
- عمر رضی اللہ عنہ کی یہ فضیلت کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے احکامات کو فورا بجا لاتے، شرعی اسرار و رموز کو سمجھتے اور پرہیزگاری کی بہترین مثال پیش کرتے تھے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed us that Allah Almighty forbids swearing by the forefathers. So, whoever wants to swear should swear by Allah only and none but Him. ‘Umar ibn al-Khattāb, then, mentioned that ever since he heard the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) prohibit it, he never swore by other than Allah neither intentionally nor by reporting such an oath on behalf of others.