نبی کریم ﷺ نے ایک ڈھال (کی چوری) پر ہاتھ کاٹا تھا، جس کی قیمت تین درہم تھی۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #2947Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 2947)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ عز و جل نے لوگوں کی جان، آبرو اور مال کو ان تمام ذرائع سے تحفظ فراہم کیا ہے، جو فسادی اور سرکش افراد کو(ان کی شر انگیزیوں سے) باز رکھنے کی ضمانت دیتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس چور کی سزا جو مخفی طریقے سے مال کو اس کے محفوظ مقام سے لے اڑتا ہے، اس ہاتھ کو کاٹنا رکھی ہے جو اس چرائے گئے مال کو اٹھاتا ہے؛ تا کہ ہاتھ کاٹنا اس کے گناہ کا کفارہ بن جائے اور آئندہ وہ اور دیگر لوگ (حصول مال کے) ان گھٹیا طریقوں سے باز رہیں اور شرعی اور باعزت طریقوں سے مال کمائیں، جس کے نتیجے میں کام کاج کو فروغ ملے، منافع کا حصول ہو، یہ عالم تعمیر و ترقی کی جانب گامزن ہوجائے اور لوگ باعزت زندگی گزاریں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے تقاضے کے تحت، مال کی اس اقل ترین مقدار کا تعین فرما دیا، جس کے چرانے پر ہاتھ کو کاٹا جائے گا، جو کہ تین درھم یعنی سونے سے بنے دینار کے ایک چوتھائی کے مساوی ہے، تا کہ مال و جان محفوظ رہیں، امن کا دور دورہ ہو، دل پر سکون ہوں اور حصول رزق اور سرمایہ کاری کی غرض سے لوگ اپنا مال (بلا خوف و خطر) لگائیں۔
اور ایک چوتھائی دینار ایک گرام اور ربع کے چوتھائی گرام کے مساوی ہوتا ہے؛ کیونکہ ایک دینار 4.25 گرام کا ہوتا ہے۔
Explanation
Allah, the Exalted, protected people’s lives, honor, and money through penalties that deter the aggressors. Hence, the penalty of the thief (who steals money or property from a place where it had been put away) is the amputation of the organ used to take the stolen property. This penalty atones the sin of the thief and deters others who might think of following such despicable ways to earn a living. Alternatively, such people would change their minds and try to make money in legitimate and modest ways. Ultimately, there would be more fruitful work, the world will be cultivated, and souls will be dignified.
In order to protect people’s properties and lives, maintain security, and encourage people to invest their money and make profits, Allah, the Exalted, out of His Wisdom, set a certain limit for the value of the stolen money or property, which is a quarter of a gold dinar. This is equal to one gram and one sixteenth of a gram, because the dinar weighs 4.25 grams.