صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو اس طرح کاٹتا ہے جس طرح کوئی سانڈ۔ کاٹتا ہے، (جاؤ) تمہارے لئے کوئی دیت نہیں۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
2950Sahih صحیح
عن عمران بن حصين رضي الله عنهما «أن رجلا عَضَّ يَدَ رجل؛ فَنَزَعَ يَدَهُ من فِيهِ؛ فوقعت ثَنِيَّتُهُ؛ فاختصما إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يَعَضُّ أحدُكم أخاه كما يَعَضُّ الفَحْلُ؛ لا دِيَةَ لك».
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کے ہاتھ کو (دانتوں سے) کاٹ لیا، تو اس نے اس کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا تو کاٹنے والے کے اگلے دانت ٹوٹ کر گر گئے۔ وہ دونوں یہ جھگڑا لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو اس طرح کاٹتا ہے جس طرح کوئی سانڈ۔ کاٹتا ہے؛ (جاؤ) تمہارے لئے کوئی دیت نہیں۔“
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Imrān ibn Husayn (may Allah be pleased with him) reported: A man bit another man's hand, so the latter pulled his hand out of his mouth by force, causing two of the former's incisors to fall out. They referred their dispute to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him), who said: "One of you bites his brother like a male camel does! There is no blood money for you."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #2950

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

ایک آدمی نے دوسرے آدمی پر حملہ آور ہو کر اس کے ہاتھ پر کاٹ لیا۔ جس شخص کے ہاتھ پر کاٹا گیا تھا اس نے کاٹنے والے کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کے سامنے کے دو دانت گر گئے۔ دونوں اپنا مقدمہ نبی ﷺ کے پاس لے کر آئے۔ دانت کاٹنے والا اپنے گر جانے والے دونوں دانتوں کی دیت مانگ رہا تھا، جب کہ جس کے ہاتھ پر کاٹا گیا تھا وہ اپنے دفاع میں یہ دلیل دے رہا تھا کہ اس نے تو اپنے ہاتھ کو اس کے دانتوں کی گرفت سے آزاد کرنا چاہا تھا۔ نبی ﷺ نے دانت کاٹنے والے مدعی پر نکیر کی کہ اس نے کیسے ایسا عمل کیا جسے اکھڑ (اجڈ) جانور کرتے ہیں؟ اور فرمایا: تم میں سے ایک شخص اپنے بھائی کو دانت کاٹتا ہے اور پھر زیادتی کا مرتکب ہونے والے اپنے دانتوں کی دیت کا مطالبہ کرنے کے لئے آجاتا ہے؟! تمہارے لئے کوئی دیت نہیں؛ کیونکہ آغاز کرنے والا ہی جارح اور زیادتی کرنے والا ہے۔

Explanation

A man attacked another man and bit his hand. The one who was bitten pulled his hand by force from the other man's mouth, causing his two incisors to fall out. They submitted their case to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him).
The one who bit the man's hand was claiming blood money for his two teeth that fell out, whereas the other man defended himself saying that he only wanted to save his hand from the other man's teeth.
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) refuted the claim of the former and expressed his discontent at what he had done, likening that to the attitude of fierce animals. He said: "One of you bites his brother like a male camel does! There is no blood money for you." Because the one who starts is the aggressor.

Topics موضوعات