صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

جہاں تک میری بات ہے، تو اللہ کی قسم! اگر اللہ نے چاہا، تو جب بھی میں کسی بات کی قسم کھاؤں گا اور دوسری بات کو…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
2961Sahih صحیح
عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ رضي الله عنه قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ أَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ: «وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ، مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ» ثُمَّ لَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ فَأُتِيَ بِإِبِلٍ، فَأَمَرَ لَنَا بِثَلاَثَةِ ذَوْدٍ، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: لاَ يُبَارِكُ اللَّهُ لَنَا، أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَنْ لاَ يَحْمِلَنَا فَحَمَلَنَا، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ، بَلِ اللَّهُ حَمَلَكُمْ، إِنِّي وَاللَّهِ -إِنْ شَاءَ اللَّهُ- لا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي، وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ».
ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں : میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس اشعری قبیلے کے کچھ لوگوں کے ساتھ پہنچا۔ میں نے آپ سے سواری مانگی، تو آپ نے کہا : "اللہ کی قسم! میں تمھیں سواری نہيں دے سکتا اور نہ میرے پاس کوئی سواری ہے، جو تمھیں دے سکوں۔" پھر ہم وہاں جتنی دیر اللہ نے چاہا، اتنی دیر رکے۔ اسی درمیان آپ کے پاس کچھ اونٹ آ گئے، تو آپ نے ہمیں تین اونٹ دینے کا حکم دیا۔ جب ہم چل پڑے، تو ہمارے بیچ کے کچھ لوگوں نے دوسرے لوگوں سے کہا : اللہ ہمارے لیے برکت نہ دے۔ ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آکر سواری مانگی اور آپ نے قسم کھاکر بتایا کہ ہمیں سواری نہيں دے سکیں گے اور پھر دے دی۔ ابو موسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : چنانچہ ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے اور آپ کے سامنے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے کہا : "سواری میں نے تمھیں نہيں دی ہے۔ سواری تو تمھیں اللہ نے دی ہے۔ جہاں تک میری بات ہے، تو اللہ کی قسم! اگر اللہ نے چاہا، تو جب بھی میں کسی بات کی قسم کھاؤں گا اور دوسری بات کو اس سے بہتر دیکھوں گا، تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں گا اور وہی کروں گا، جو بہتر ہو۔"
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Mūsa al-Ash‘ari (may Allah be pleased with him) reported: I went to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) along with a group of Ash‘ari people, asking him for mounts. He said: "By Allah, I will not give you anything to ride, and I have nothing to mount you on." We stayed there as long as Allah wished. Then some camels were brought to him, and he ordered that we be given three camels. When we set out, some of us said to others: "Allah will not bless us, as we all went to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) asking him for mounts, and although he had sworn that he would not give us mounts, he did give us." Abu Mūsa said: We went to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and mentioned that to him. He said: "I have not provided you with mounts, but Allah has. By Allah, Allah Willing, if I ever take an oath and then see that another option is better than the first, I will make expiation for my oath and do what is better."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق عليه
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #2961

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بتا رہے کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے۔ ان کے ساتھ ان کے قبیلے کے کچھ اور لوگ بھی موجود تھے۔ مقصد یہ تھا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم انھیں سواری کے لیے کچھ اونٹ دیں، تاکہ وہ جہاد میں شریک ہو سکیں۔ لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قسم کھاکر بتا دیا کہ آپ انھیں سواری نہيں دے سکتے۔ آپ کے پاس انھیں دینے کے لیے سواری کا انتظام نہيں ہے۔ لہذا واپس ہو گئے۔ کچھ دیر رکے۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس تین اونٹ آئے، تو ان کے یہاں بھجوا دیے۔ یہ دیکھ کر ان میں سے کچھ لوگوں نے دیگر لوگوں سے کہا : اللہ ہمار لیے ان اونٹوں میں برکت نہ دے۔ کیوں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں سواری نہ دینے کی قسم کھا لی تھی۔ لہذا وہ آپ کے پاس آئے اور پوچھا، تو آپ نے کہا : تمھیں سواری تو دراصل اللہ نے دی ہے۔ کیوں کہ انتظام اسی نے کیا ہے اور توفیق اسی نے دی ہے۔ میں تو بس ایک سبب ہوں کہ یہ میرے ہاتھوں انجام پایا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے آگے فرمایا : جہاں تک میری بات ہے، تو اللہ کی قسم، جب بھی میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھاؤں گا اور بعد میں دیکھوں گا کہ میں نے جس کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھائی تھی، اس سے بہتر کام دوسرا ہے، تو قسم کھائے ہوئے کام کو چھوڑ کر دوسرا کام، جو اس سے بہتر ہے، اسے کروں گا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔

حدیث کے فوائد

  • کسی خبر کی تاکید کے لیے، خواہ وہ مستقبل ہی سے جڑی ہوئی کیوں نہ ہو، قسم کے مطالبہ کے بغیر بھی قسم کھانا جائز ہے۔
  • قسم کے بعد "اگر اللہ نے چاہا" کہہ کر استثنا جائز ہے۔ استثنا کی نیت جب قسم کے ساتھ ہی کر لی جائے اور وہ قسم کے ساتھ جڑی ہوئی ہو، تو قسم توڑنے والے پر کفارہ واجب نہيں ہوگا۔
  • اس بات کی ترغیب کہ جب کوئی شخص کسی چيز کی قسم کھالے اور اس کے بعد دیکھے کہ دوسری چیز اس سے بہتر ہے، تو اپنی قسم توڑ دے اور اس کا کفارہ ادا کرے۔

Explanation

Abu Mūsa al-Ash‘ari (may Allah be pleased with him) informs that he went to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) along with a group of people from his tribe. They aimed to ask the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) to give them camels to ride so that they could take part in Jihad. He (may Allah's peace and blessings be upon him) swore that he would not provide them with mounts and that he did not have any to give them. They went back and stayed for a period of time. Then, three camels were brought to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him), who sent them to them. They said to one another: Allah will not bless these camels for us, for the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) swore that he would not provide us with mounts. So, they went and asked him about this issue. Thereupon, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: Allah Almighty is the One Who has provided you with mounts, for He has granted help and sustenance. I am only a means through which this has come to pass. Then, he (may Allah's peace and blessings be upon him) said: By Allah, Allah Willing, I do not take an oath to do or abandon something and then see that another choice is better and preferable except that I choose to do what is better, aleave the thing upon which I swore, and make expiation for my oath.

Topics موضوعات