جہاں تک میری بات ہے، تو اللہ کی قسم! اگر اللہ نے چاہا، تو جب بھی میں کسی بات کی قسم کھاؤں گا اور دوسری بات کو…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #2961Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 2961)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بتا رہے کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے۔ ان کے ساتھ ان کے قبیلے کے کچھ اور لوگ بھی موجود تھے۔ مقصد یہ تھا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم انھیں سواری کے لیے کچھ اونٹ دیں، تاکہ وہ جہاد میں شریک ہو سکیں۔ لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قسم کھاکر بتا دیا کہ آپ انھیں سواری نہيں دے سکتے۔ آپ کے پاس انھیں دینے کے لیے سواری کا انتظام نہيں ہے۔ لہذا واپس ہو گئے۔ کچھ دیر رکے۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس تین اونٹ آئے، تو ان کے یہاں بھجوا دیے۔ یہ دیکھ کر ان میں سے کچھ لوگوں نے دیگر لوگوں سے کہا : اللہ ہمار لیے ان اونٹوں میں برکت نہ دے۔ کیوں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں سواری نہ دینے کی قسم کھا لی تھی۔ لہذا وہ آپ کے پاس آئے اور پوچھا، تو آپ نے کہا : تمھیں سواری تو دراصل اللہ نے دی ہے۔ کیوں کہ انتظام اسی نے کیا ہے اور توفیق اسی نے دی ہے۔ میں تو بس ایک سبب ہوں کہ یہ میرے ہاتھوں انجام پایا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے آگے فرمایا : جہاں تک میری بات ہے، تو اللہ کی قسم، جب بھی میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھاؤں گا اور بعد میں دیکھوں گا کہ میں نے جس کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھائی تھی، اس سے بہتر کام دوسرا ہے، تو قسم کھائے ہوئے کام کو چھوڑ کر دوسرا کام، جو اس سے بہتر ہے، اسے کروں گا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔
حدیث کے فوائد
- کسی خبر کی تاکید کے لیے، خواہ وہ مستقبل ہی سے جڑی ہوئی کیوں نہ ہو، قسم کے مطالبہ کے بغیر بھی قسم کھانا جائز ہے۔
- قسم کے بعد "اگر اللہ نے چاہا" کہہ کر استثنا جائز ہے۔ استثنا کی نیت جب قسم کے ساتھ ہی کر لی جائے اور وہ قسم کے ساتھ جڑی ہوئی ہو، تو قسم توڑنے والے پر کفارہ واجب نہيں ہوگا۔
- اس بات کی ترغیب کہ جب کوئی شخص کسی چيز کی قسم کھالے اور اس کے بعد دیکھے کہ دوسری چیز اس سے بہتر ہے، تو اپنی قسم توڑ دے اور اس کا کفارہ ادا کرے۔
Explanation
Abu Mūsa al-Ash‘ari (may Allah be pleased with him) informs that he went to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) along with a group of people from his tribe. They aimed to ask the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) to give them camels to ride so that they could take part in Jihad. He (may Allah's peace and blessings be upon him) swore that he would not provide them with mounts and that he did not have any to give them. They went back and stayed for a period of time. Then, three camels were brought to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him), who sent them to them. They said to one another: Allah will not bless these camels for us, for the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) swore that he would not provide us with mounts. So, they went and asked him about this issue. Thereupon, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: Allah Almighty is the One Who has provided you with mounts, for He has granted help and sustenance. I am only a means through which this has come to pass. Then, he (may Allah's peace and blessings be upon him) said: By Allah, Allah Willing, I do not take an oath to do or abandon something and then see that another choice is better and preferable except that I choose to do what is better, aleave the thing upon which I swore, and make expiation for my oath.