ایک انصاری شخص نے اپنے ایک غلام کو مدبَّرْ قرار دے دیا۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #2966Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 2966)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ایک انصاری آدمی نے اپنے غلام کی آزادی کو اپنی موت کے ساتھ معلق کر دیا(اسی کو غلاموں کی تدبیر کہتے ہیں)۔ اس غلام کے علاوہ اس کے پاس کوئی دوسرا مال نہیں تھا۔ جب نبی ﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپ ﷺ نے اس آزادی کو تفریط گردانتے ہوئے اس کے اس فعل کی تایید نہیں فرمائی بلکہ آپ ﷺ نےاسے مسترد کرتے ہوئے اس غلام کو آٹھ سو درہم کے عوض بیچ دیا اور یہ دراہم اس کی طرف بھیج دیئے۔ اس شخص کا اپنی اور اپنے اہل خانہ کی کفالت کرنا آزاد کرنے سے بہتر اور افضل تھا تاکہ وہ لوگوں کا دست نگر نہ ہو جائے۔
اس طرح کی احادیث میں ایسے احکام ہوتے ہیں جن سے انسان کو واقف ہو نا چاہیے، اگرچہ وہ ان پر عمل نہ ہی کرے۔ یہ مناسب نہیں کہ اس حجت کی بنا پر وہ انھیں سیکھنا اور سمجھنا ہی چھوڑ دے کہ آج کل غلام پائے ہی نہیں جاتے۔ غلامی افریقہ کے بعض علاقوں میں ابھی بھی موجود ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ پھر سے رائج ہو جائے جب کہ یہ قدیم زمانے سے لے کر اسلام کی آمد اور اس کے بعد تک موجود رہی ہے۔ تاہم غلامی کی صورت میں اسلام حریت اور آزادی کی طرف میلان رکھتا ہے۔
Explanation
A man from the Ansār promised that a slave that he owned would be free after his own death although the master had no other property. As the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was told of this, he considered this deal a waste of resources. So, he did not approve of this act. Meanwhile, he sold the slave for eight hundred dirhams and sent the money to the master.
The priority for the poor master was to take care of himself and his family rather than emancipate his productive slave, and thus the indigent family would survive on begging.
Finally, even though this tradition was applicable at some point in history and has no relevance today, something can be learned from it. Slavery is still practiced in some places like Africa, just as it was practiced since the time of Adam until after the coming of Islam. However, the attitude of Islam toward slavery is to eliminate it.