جو شخص مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے، تو اسے چاہیے کہ اپنے مال کے ذریعے غلام کو پوری آزادی دلا دے۔…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #2993Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 2993)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
جس نے اپنے زیر ملکیت غلام کا ایک حصہ آزاد کر دیا، اس پر لازم ہے کہ وہ پورے غلام کو آزاد کردے، اگر اس کے پاس اتنا مال ہو۔ یعنی اپنا حصہ آزاد کرنے والے کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ غلام میں اپنے حصہ داروں کو ان کے حصوں کی قیمت ادا کر کےاسے پورا آزاد کر سکتا ہو۔ البتہ اگر اس کے پاس مال نہ ہو یا مال تو ہو لیکن اتنا نہ ہو کہ آزادی کا خرچ برداشت کر سکے یا پھر ایسا کرنے سے اسے کوئی نقصان ہو، تواس صورت میں وہ غلام کو دو امور کا اختیار دے گا۔
اول:یہ کہ غلام کا اس قدر حصہ ملک میں رہے جو باقی ہے۔ چنانچہ اس صورت میں یہ غلام "مبعض" ہو گا۔ یعنی اس کا بعض حصہ غلام ہو گا اور بعض آزاد۔ اس صورت میں اس کے لیے جائز ہے کہ وہ جزوى غلام بن کر رہے۔
دوم:وہ غلام اس شخص کو رقم ادا کرنے کے لیے کام کرے جس نے اپنا حصہ آزاد نہیں کیا، بعد اس کے کہ غلام کی منصفانہ انداز میں قیمت لگوائی جائے۔ اسے استسعا کہا جاتا ہے۔
Explanation
If one of the joint owners of a slave decides to emancipate his share of that slave, he should pay to completely emancipate him, if he can afford that, by paying to his partners the value of their shares of that slave in order for him to be free. However, if he cannot do so, whether because he does not have money, or he has money but it is not enough, or this would harm him, then, in such case, the slave should be given two options to choose from: 1. to remain partly slave and partly free. 2. to work in order to pay for his freedom after a fair price is set for him. This procedure is known as Istis‘ā’.