صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

جس نے اسلام کے سوا کسی دوسرے مذہب کی جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائی، وہ ویسے ہی ہو گیا جیسے اس نے کہا۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
2995Sahih صحیح
عن ثابِت بْن الضَّحَاكِ رضي الله عنه أنه بايع رسول الله صلى الله عليه وسلم تحت الشجرة، وأن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من حلف على يمين بملة غير الإسلام، كاذبا مُتَعَمِّدًا فهو كما قال، ومن قتل نفسه بشيء عُذِّبَ به يوم القيامة، وليس على رجل نَذْرٌ فيما لا يملك» وَفِي رِوَايَة: «ولَعْنُ المؤمنِ كَقَتْلِهِ». وفي رواية: «من ادَّعَى دَعْوَى كَاذِبَةً لِيَتَكَثَّرَ بها لم يَزِدْهُ اللهُ -عزَّ وجل- إلا قِلَّةً».
ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نےرسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر درخت کے نیچے بیعت کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین پر ہونے کی جھوٹی قسم قصداً کھائے، وہ ویسا ہی ہو جائے گا، جیسا کہ اس نے کہا ہے۔ جو شخص خود کو دھار دار چیز سے ذبح کر لے، اسے جہنم میں اسی ہتھیار سے عذاب ہوتا رہے گا اور آدمی پر اس چیز کی نذر نہیں، جس کا وہ مالک نہ ہو“۔ اور ایک روایت میں ہے: ”مسلمان پر لعنت بھیجنا ،اس کا خون کرنے کے برابر ہے“۔ ایک دوسری روایت میں ہے:”جس نے (مال میں) اضافے کے لیے جھوٹا دعویٰ کیا، اللہ تعالیٰ اس ( کے مال) کی قلت ہی میں اضافہ کرے گا“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Thābit ibn Ad-Dahhāk (may Allah be pleased with him) reported: I gave an oath of allegiance to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) under the tree. Then, the Messenger (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "If anyone swears by a religion other than Islam falsely and intentionally, he is as he has said. If anyone kills himself with something, he will be punished with it on the Day of Judgment. A man cannot make a vow on something that he does not possess." Another narration reads: "Cursing a believer is like killing him." A third narration stipulates: "If anyone makes a false claim to an increase of something, Allah, the Exalted and Glorified, will only give him a decrease."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #2995

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

ثابت بن ضحاک انصاری رضی اللہ عنہ، جو ان صحابۂ کرام میں سے ہیں، جنھوں نے صلح حدیبیہ کے دن بیعت رضوان کے موقع پر درخت کے نیچے نبی ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ جس کا معنی یہ ہے کہ جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین و مذہب کی قسم کھاتے ہوئے یوں کہے:اگر اس نے اس طرح اور ایسے کیا تو وہ یہودی، نصرانی یا مجوسی ہوجائے گا یا کافر ہوجائے گا یا اللہ اور اس کے رسول سے بری و بیزار ہوجائے گا، جب کہ وہ جانتا ہو کہ وہ جھوٹی قسم کھا رہا ہے، تو وہ انھی کافر ملتوں میں شمار کیا جائے گا، جن کی جانب اس نے خود کو منسوب کیا۔
جس نے تلوار یا چاقو یا پستول کی گولی جیسے دیگر کسی قتل کے اوزار سے خود کو قتل کرلیا، اس کو اسی اوزار سے قیامت تک عذاب دیا جائے گا۔
جو شخص کوئی ایسی نذر مانے، جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے، جیسے کوئی یہ نذر مانے کہ وہ فلاں غلام کو آزاد کردے گا یا فلاں کے مال میں سے اتنا صدقہ و خیرات کرے گا، تو اس کی نذر بے کار و کالعدم ہوگی؛ کیوں کہ وہ نذر ،صحیح موقع و محل میں وقوع پذیر ہی نہیں ہوئی۔
جو شخص کسی مومن پر لعنت کرے، تو گویا اس نے اس کو قتل کردیا؛ کیوں کہ لعنت کرنے والا اور قاتل دونوں، اللہ تعالیٰ کی قابل حرمت مخلوق کی پامالی کے مرتکب ہونے میں برابر کے شریک ہیں، اسی بنا پر دونوں کے حق میں ایک ہی طرح کا گناہ لکھا جائے گا اور دونوں ایک ہی طرح کے عذاب کے مستحق قرار پائیں گے۔
جو شخص اپنی بڑائی کے اظہار میں اور مال، علم، حسب و نسب،فضل و شرف، منصب و جاہ اوردیگر امور کی کثرت کے بارے میں ایسےجھوٹے دعوے کرے،جو حقیقت سے پرے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر چیز میں ذلت وخواری اور پستی کو زیادہ کردے گا؛ کیوں کہ اس شخص نے اپنی شخصیت کو ایسے امور کے ذریعے اونچاو بلند کرنا چاہا، جن کا اس میں وجود ہی نہیں۔ لہٰذا اس کو اسی قبیل سے تعلق رکھنے والی سزا دی جائے گی۔

Explanation

Thābit ibn Ad-Dahhāk al-Ansāri (may Allah be pleased with him) is one of those who gave an oath of allegiance to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) under the tree in Bay‘at Ar-Ridwān on the day of Hudaybiyah. He reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said that if someone intentionally swears by a religion other than Islam, he would be as he swore. In other words, he would be a Jew, Christian, Zoroastrian, or a disbeliever, or he would be disassociated from Allah and His Messenger if did such and such. If he falsely makes such an oath intentionally, he would belong to the non-Islamic religion that he had ascribed himself to in the oath. And if someone kills himself with a sword, knife, bullet, or any lethal object, he will be punished with that object on the Day of Judgment. Additionally, if a person makes a vow on something that he doesn't possess, like vowing to free a slave that he does not own or to give charity from someone else's money, such a vow is null and void, because the one making the vow doesn't own what he is making the vow on. Also, cursing a believer is like killing him, because both acts violate what Allah, the Almighty, has prohibited and are considered as sins and warrant a punishment. Furthermore, if someone exaggerates and proudly claims to have what he does not possess, such as wealth, knowledge, family background, position, etc., Allah will increase him in nothing but humiliation and degradation. This is because such a person wants to elevate himself through something he doesn't have. So, he will be punished with the opposite of his objective.

Topics موضوعات