جب اللہ کسی حاکم کے ساتھ خیر کا اِرادہ فرماتا ہے تو اُسے راست باز (خیر خواہ) وزیر عطا کر دیتا ہے۔ وہ اگر…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi DawudOriginal wording: اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3011Sunan Abi Dawud (HadeethEnc 3011)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ کسی حاکم کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے“۔ اس حدیث میں ارادے سے مراد کونی و قدری ارادہ ہے۔ اسی لیے اس میں خیر و شر دونوں ہی اقسام کے ساتھ تعلق کا ذکر ہوا ہے؛ کیونکہ اللہ اسے کبھی پسند کرتا ہے اور کبھی ناپسند کرتا ہے۔ یہ ارادہ اپنی وسعت کے ذریعے شرعی ارادے کو بھی شامل ہے جسے اللہ پسند کرتا ہے۔ حکمرانوں میں سے جسے راست باز و خیر خواہ وزیر مل جائے اس کو ملنے والی اس خیر کی تفسیر دونوں جہانوں کی بھلائی کی توفیق ملنے سے کی گئی ہے، اسی طرح اس خیر کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد جنت ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ راست باز وزیر عطا کر دیتا ہے۔" یعنی جو قول و فعل اور ظاہر و باطن میں سچا ہوتا ہے۔ وزیر کی اضافت سچ کی طرف کی گئی ہے کیونکہ صحبت وغیرہ میں سچائی ہی بنیاد ہوتی ہے۔
”اگر وہ بھول جائے“۔ یعنی وہ امیراگر اپنی کسی ضرورت کی بات کو بھول جائے – اور بھولنا انسان کی فطرت ہے – ، یا کسی شرعی حکم یا مظلوم کے معاملے یا رعیت کے مفاد کا خیال کرنے سے بھٹک جائے تو ”وہ اس کو یاد دہانی کرا دیتا ہے“۔ یعنی یہ سچا وزیر اسے یاد کرا دیتا ہے اور اس کی راہنمائی کرتا ہے۔
اگر حاکم کو وہ یاد ہو تو پھر رائے اور قول و فعل کے ذریعے سے اس کی مدد کرتا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اللہ کا اس کے علاوہ کسی اور شے کا ارادہ ہو“۔ یعنی خیر کے بجائے کسی اور شے کا ارادہ ہو جیسے کہ شر کا ارادہ ہو۔ آپ ﷺ نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ اس کو بیان کیا تا کہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ شر سے اجتناب کرنے پر ابھارا جا رہا ہے۔ کیونکہ جب آپ ﷺ اس کی قباحت اور شناعت کی وجہ سے اس کے نام یعنی شر کے ذکر سے بھی اجتناب کر رہے ہیں تو اس کے مدلول سے تو بطریق اولی اجتناب کرنا چاہیے۔ خیر کے لئے اسم اشارہ "ذلک" استعمال کیا گیا جو کہ بعید کے لئے وضع کیا گیا ہے۔ اس میں خیر کی تعظیم اور اس کے علو مرتبت کا بیان ہے اور اسے پانے اورحاصل کرنے پر ابھارا گیا ہے۔
خیر کے علاوہ کے ارادہ کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ”اللہ اس کے لیے برا وزیر مقرر کر دے گا“۔ یعنی ایسا وزیر جو قول و فعل میں برا ہو گا۔ یعنی سابق الذکر وزیر کا الٹا ہو گا۔
”اگر وہ بھول جائے“۔ یعنی کسی ضروری شے کو چھوڑ دے تو ”وہ اسے یاد نہیں کراتا“ کیونکہ اس کے پاس وہ قلبی نور نہیں ہوتا جو اسے اس کام پر ابھارے۔
”اور اگر اسے یاد ہو تو وہ اس کی مدد نہیں کرتا“ بلکہ وہ اپنی فطری برائی اور بد کرداری کی وجہ سے اسے اس سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔
Explanation
The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "If Allah wills to do good to a ruler." This goodness of granting an honest adviser was interpreted as the good of both abodes; this life and the Hereafter. It was also interpreted to be Paradise. His statement: "He appoints for him a truthful adviser" means truthful in his words and deeds, both inwardly and outwardly. He described him as being truthful because that is the basis of good companionship. So, if this ruler forgets something that he needs —given that forgetfulness is part of human nature— or if he is misled in a religious matter or a verdict against an oppressed person or in something related to the welfare of his subjects, then this truthful adviser will remind him and guide him to a sound judgment. Also, if this ruler knows the sound judgment, his truthful adviser will support him with his words and deeds. His statement: "If Allah wills otherwise for him" means other than good. His statement: "He appoints for him a bad adviser who will not remind him if he forgets, nor will he help him if he remembers" means that He will grant him an evil adviser who will be evil in his words and deeds, the opposite of the first case. If the ruler forgets or is misled, he will not assist him or guide him to what is right because he lacks the light in the heart which would allow him to help the ruler. If the ruler knows what to do, he will not assist him; rather, he will discourage him from doing the right thing due to his evil nature and bad intentions.