صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

آدمی سوئے گا اور امانت اس کے دل سے قبض کر لی (اٹھالی) جائے گی، چنانچہ اس کا اثر ایک معمولی نشان کی طرح باقی…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3016Sahih صحیح
عن حذيفة بن اليمان رضي الله عنه قال: حَدَثَنا رسول الله صلى الله عليه وسلم حدِيثَين قَد رَأَيتُ أَحَدَهُما وأنا أنتظر الآخر: حدثنا أنَّ الأمَانة نَزَلَت في جَذر قُلُوب الرِّجال، ثمَّ نزل القرآن فَعَلِموا مِن القرآن، وعَلِمُوا مِن السُنَّة، ثمَّ حدَّثنا عن رفع الأمانة، فقال: «يَنَامُ الرَّجُلُ النَّومَة فَتُقْبَضُ الأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ، فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثلَ الوَكْتِ، ثُمَّ يَنَامُ النَّومَةَ فَتُقبَض الأَمَانَة مِن قَلْبِه، فَيَظَلُّ أَثَرُها مِثل أَثَر المَجْلِ، كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلى رِجْلِكَ فَنَفِطَ، فَتَرَاهُ مُنْتَبِراً وَلَيس فِيه شَيء»، ثم أَخَذ حَصَاةً فَدَحْرَجَه على رجله «فَيَصبَح النَّاس يَتَبَايَعُون، فَلاَ يَكَاد أَحَدٌ يُؤَدِّي الأَمَانَةَ حَتَّى يُقَال: إِنَّ فِي بَنِي فُلاَن رَجُلاً أَمِيناً، حَتَّى يُقَال للرَّجُل: مَا أَجْلَدَهُ! مَا أَظْرَفَه! مَا أَعْقَلَه! وَمَا فِي قَلبِه مِثْقَالُ حَبَّة مِن خَرْدَل مِنْ إيمان»، ولَقَد أتى عَلَيَّ زَمَان وما أُبَالي أَيُّكُم بَايعت: لئِن كان مُسلِمًا لَيَرُدَنَّه عَلَيَّ دِينه، وَإِن كان نصرانيا أو يهوديا ليَرُدنَّه عَلَيَّ سَاعِيه، وأَمَّا اليوم فَمَا كُنت أَبَايِعُ مِنكُم إِلاَّ فُلاَنا وفُلاَناً».
حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ ﷺ نے دو باتیں بیان فرمائیں: ان میں سے ایک کو میں نے دیکھ لیا ہے اور دوسری کا میں انتظار کر رہا ہوں۔ آپ ﷺ نے ہم سے بیان کیا کہ: امانت لوگوں کے دلوں کی جڑ (گہرائی) میں اتری (یعنی اسے فطرت کا حصہ بنایا) پھر قرآن کا نزول ہوا اور انہوں نے اسے (یعنی امانت کو) قرآن اور سنت سے جانا۔ پھر آپ ﷺ نے ہم سے امانت کے اٹھ جانے کا حال بیان کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’(اس طرح کہ) آدمی سوئے گا اور امانت اس کے دل سے قبض کر لی (اٹھالی) جائے گی، چنانچہ اس کا اثر ایک معمولی نشان کی طرح باقی رہ جائے گا۔ پھر وہ سوئے گا اور امانت اس کے دل سے نکال لی جائے گی، تو اس کا نشان آبلے کی مانند باقی رہ جائے گا۔ جیسے ایک انگارہ ہو، جسے تو اپنے پیر پر لڑھکائے تو اس سے چھالہ نمودار ہو جائے، چنانچہ تو اسے ابھرا ہوا تو دیکھتا ہے لیکن اس میں کوئی چیز باقی نہیں ہوتی’’۔ پھرآپ ﷺ نے ایک کنکری کو لیا اور (مثال سمجھانے کے لیے) اسے پاؤں پر لڑھکایا۔ ‘‘پس لوگ صبح کے وقت آپس میں خرید وفروخت کرتے ہوں گے لیکن کوئی امانت ادا کرنے کے قریب بھی نہ پھٹکتا ہوگا یہاں تک کہ کہا جائے گا کہ فلاں شخص کی اولاد میں ایک امانت دار آدمی تھا، حتی کہ آدمی کے متعلق کہا جائے گا کہ: وہ کس قدر مضبوط، کس قدر ہشیار اور کس قدر عقل مند ہے! حالانکہ اس کے دل میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان نہیں ہو گا’’۔ (راوی حدیث حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) ‘‘بلا شبہ مجھ پر ایک وقت ایسا گزرچکا ہے کہ مجھے یہ پرواہ نہ ہوتی تھی کہ میں کس سے خرید و فروخت کروں، اس لیے کہ (مجھے یقین ہوتا تھا کہ) اگر مسلمان ہے تو اس کو اس کا دین مجھ پر میری چیز لوٹا دے گا اور اگر عیسائی یا یہودی ہے تو اس کا ذمے دار (نگراں) مجھے میری چیز واپس کر دے گا، لیکن آج میں تم میں سے صرف فلاں فلاں آدمی (یعنی خاص لوگوں) سے خرید وفروخت کرتا ہوں۔‘‘
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Hudhayfah ibn al-Yamān (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) told us two Hadīths. I have seen one fulfilled, and I am waiting for the other. He told us: "A man will go to sleep and honesty will be taken out of his heart and only a trace of it will remain, like the trace of a dark spot. And a man will go to sleep again and the honesty will decrease further still, so its trace will resemble that of a blister, as when an ember is dropped on one's foot and makes it swell. One would see it swollen but there would be nothing inside it." He took a small stone and rolled it on his leg. He then continued: "People will be carrying out their trades, but there will hardly be a trustworthy person. It will be said: 'In such-and-such tribe there is an honest man.' And later it will be said about some man: 'What a wise, polite, and strong man he is,' even though he will not even have faith equal to a mustard seed in his heart." No doubt, there was a time when I did not mind dealing with any of you, because if he was a Muslim, his Islam would compel him to pay me what is due to me, and if he was a Christian, the Muslim official would compel him to pay me what is due to me, but today I will only deal with this person and that person from you.
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3016

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

یہ حديث وضاحت کرتی ہے کہ امانت لوگوں کے دلوں سے دھيرے دھيرے ختم ہو جائے گی۔ جب پہلی بار امانت کا کچھ حصہ ختم ہوگا تو اس کا نور ختم ہوجاے گا اور اس کی جگہ داغ کی طرح ایک دھندلا سا نشان رہ جائے گا یعنی پہلے رنگ کے برخلاف دوسرا رنگ چڑھ جائے گا۔ اور جب امانت کا کچھ اور حصہ ختم ہوگا تو اس کا نشان آبلہ کی طرح باقی رہے گا، اوریہ ایسا مستحکم نشان ہے جو کچھ مدت کے بعد ہی ختم ہو گا، اور يہ تاريکی پہلے والی تاريکی کے اوپر ہوگی، پھر اس نور کے دل ميں پيدا ہونے کے بعد زائل ہونے کو، اور اس کے دل ميں جگہ بنانے کے بعد اس سے نکل جانے اور اس کی جگہ تاريکی کے لے لینے کو، اس انگارہ سے تشبيہ دی گئی ہے جس کو آدمی اپنے پیر پر لڑھکائے يہاں تک کہ اس کے پیر ميں اثر انداز ہونے کے بعد وہ چنگاری ٗختم ہو جائے اورصرف داغ باقی رہ جائے، اور آپ ﷺ کا کنکری لے کر اسے لڑھکانے کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کے لیے یہ بات خوب واضح ہو جائے۔
(فيصبح الناس) اس نيند کے بعد جس ميں امانت اٹھا لی جاے گی (لوگ آپس میں خرید وفروخت کریں گے) تو کوئی بھی شخص امانت کے قریب بھی نہ پھٹکے گا، چہ جائے کہ وہ عملاً امانت کی ادائیگی کرے۔
(یہاں تک کہ کہا جائے گا) امانت کی برتری اور جو اس وصف سے متصف ہوگا اس کی شہرت کے لیے۔
(بے شک فلاں شخص کی اولاد میں سے ایک آدمی امین تھا) یعنی امانت دار تھا۔
(یہاں تک کہ آدمی کے متعلق کہا جائے گا کہ: وہ کس قدر مضبوط ہے) عمل میں، (کس قدر ہشیار ہے) بمعنی مہارت و ہوشیاری اور (کس قدر عقل مند ہے) یعنی وہ انتہائی ذہین و فطین شخص ہے۔ (جب کہ اس کے دل میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان نہیں ہوگا) چہ جائے کہ اس کے اندر مانت پائی جائے جو کہ ایمان کی شاخوں میں سے ہے۔
(بلا شبہ مجھ پر ایک وقت ایسا گزر چکا ہے کہ مجھے یہ پرواہ نہ ہوتی تھی کہ میں کس سے خرید و فروخت کروں) یعنی مجھے اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی تھی کہ میں کس سے خرید و فروخت کر رہا ہوں کيوں کہ مجھے معلوم تھا کہ امانت ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اور یہ کہ لوگ وفادار ہیں، تو جس سے بھی ملاقات ہوتی اس کے حالات کی چھان بین کیے بغیر اس سے خرید و فروخت کر لیتا تھا اس لیے کہ لوگوں کے اندر امانت و دیانت عام تھی۔
(اور رہا آج کا وقت) تو امانت داری بہت کم باقی بچی ہے اسی لیے آپ نے کہا:
(میں تم میں سے صرف فلاں فلاں آدمی سے خرید وفروخت کرتا ہوں) یعنی چند افراد سے خرید و فروخت کرتا ہوں جنہیں میں پہچانتا ہوں اور جن پر مجھے بھروسہ ہے۔

Explanation

The Hadīth states that honesty shall be gradually uprooted from people’s hearts. As the first part of honesty leaves, the heart loses its light leaving a faint trace of darkness, different in color from the color preceding it. Further loss of honesty leaves a substantial irremovable mark, except for after a period of time. This darkness is denser than the previous one. The Prophet (may Allah’s peace and blessings be upon him) likened the elimination of the deep-rooted light from the heart and its replacement with darkness to an ember rolling down a man’s leg and leaving a mark on it. The ember rolls away, but the blister remains. The Prophet (may Allah’s peace and blessings be upon him) picked up a small stone and rolled it over his leg to make his point clearer. After the sleep during which honesty is removed, people who are trading will rarely be willing to return the things that they were entrusted with, let alone actually return them in reality. Due to such rarity, very few people will be labeled as honest and trustworthy. You may even see a man who is hardworking and intelligent, but there will be no grain of faith in his heart, let alone honesty, which is a branch of faith. The narrator reflected on a past time in his life when he would carry out transactions with anyone, without caring who they were, because he was certain that honesty was flourishing and people would fulfill their promises. Fully trusting people’s honesty, he used to trade with anyone, without investigating their situation. Later, however, when honesty disappeared, except in rare cases, he would only conduct transactions with those he knows and trusts.

Topics موضوعات