صحیح بخاری
Sahih al-Bukhari

کبیرہ گناہ ہيں: اللہ کا شریک ٹھہرانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کا قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3044Sahih صحیح
عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الْكَبَائِرُ: الْإِشْرَاكُ بِاللهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ».
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے : "کبیرہ گناہ ہيں: اللہ کا شریک ٹھہرانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کا قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا۔"
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Abdullāh ibn ‘Amr ibn al-‘Aas (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "The major sins are associating partners with Allah, undutifulness to parents, murder, and intentional false oath."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhari
Original wording: رواه البخاري
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3044

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کبیرہ گناہ بیان کر رہے ہيں۔ دراصل کبیرہ گناہ سے مراد وہ گناہ ہیں، جن میں ملوث ہونے والوں کو دنیا یا آخرت کی کوئی سخت وعید سنائی گئی ہو۔

چنانچہ سب سے پہلا کبیرہ گناہ ہے اللہ کا شریک ٹھہرانا۔ یاد رہے کہ شرک نام ہے کوئی بھی عبادت اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے کرنے اور غیراللہ کو الوہیت، ربوبیت اور اسما و صفات میں اللہ کے برابر لا کھڑا کرنے کا۔

دوسرا کبیرہ گناہ ہے والدین کی نافرمانی کرنا۔ واضح رہے کہ اس سے مراد ہر والدین کو تکلیف دینے والا ہر قول وفعل اور ان کے ساتھ حسن سلوک نہیں کرنا ہے۔

تیسرا گناہ ناحق کسی کو جان سے مار دینا ہے۔ مثلا کسی کو ظلم و سرکشی کے طور پر مار دینا۔

چوتھا گناہ ہے جھوٹی قسم کھانا۔ یعنی جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھانا۔ اسے عربی میں "یمین غموس" اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ قسم کھانے والے کو گناہ یا جہنم میں ڈوبا دیتی ہے۔

حدیث کے فوائد

  • جھوٹی قسم کھانا اتنا خطرناک گناہ اور بڑا جرم ہے کہ اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے۔بلکہ توبہ ہی اسے مٹا سکتی ہے۔
  • اس حدیث میں ان چار کبیرہ گناہوں پر اکتفا دراصل ان کی سنگینی کے پیش نظر کیا گیا ہے، یہ بتانے کے لیے نہيں کہ کبیرہ گناہ یہی چار ہیں۔
  • گناہ کی دو قسمیں ہيں؛ صغیرہ گناہ اور کبیرہ گناہ۔ کبیرہ گناہ سے مراد ہر وہ گناہ ہے، جس کی کوئی دنیوی سزا متعین ہو، جیسے حدود اور لعنت وغیرہ یا جس پر کوئی اخروی وعید سنائی گئی ہو، جیسے جہنم میں داخلے کی وعید۔ کبیرہ گناہوں میں سے بھی کچھ گناہ کی حرمت دیگر کبیرہ گناہوں کے مقابلے میں زیادہ شدید ہے۔ جب کہ صغیرہ گناہوں سے مراد کبیرہ گناہ کے علاوہ دیگر گناہ ہیں۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) demonstrates the major sins, whose perpetrators are given a severe warning in this world and the Hereafter.

The first of them is "associating partners with Allah": This is to devote any form of worship to other than Allah and regard anyone as equal to Allah in His peculiar traits, including His divinity, lordship, names, and attributes.

The second among them is "undutifulness to parents": Anything that causes hurt to one's parents, whether by word or deed and not showing kindness to them.

The third among them is "murder": without right, like killing by way of oppression and aggression.

And the fourth is "the intentional false oath": This is to take a false oath while knowing it to be false. It is called that (in Arabic: ghamūs) because it dips (taghmis) its perpetrator in sin or Hellfire.

Topics موضوعات