رسول اللہ ﷺ منیٰ تشر یف لا ئے پھر جمرہ عقبہ کے پاس آئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر منیٰ میں اپنے پڑاؤ پر آئے…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
وفي رواية: لما رمى الجَمْرَةَ، ونحر نُسُكَهُ وحلق، ناول الحلاق شِقَّهُ الأيمن فحلقه، ثم دعا أبا طلحة الأنصاري رضي الله عنه فأعطاه إياه، ثم ناوله الشِّقَّ الأَيْسَرَ، فقال: «احْلِقْ»، فحلقه فأعطاه أبا طلحة، فقال: «اقْسِمْهُ بين الناس».
ایک دوسری روایت میں ہے کہ رمی جمرہ کے بعد آپ ﷺ نے قربانی کی اور سر منڈایا؛ نائی کو سر کا دایاں حصہ (مونڈنے کے لیے) دیا اُس نے اسے مونڈ دیا، آپ ﷺ نے ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو بلا کر وہ بال دے دیے، پھر نائی کو بایاں حصہ دیا اور اُس سے فرمایا مونڈ دو، اُس نے مونڈ دیا، آپ ﷺ نے اُسے بھی ابوطلحہ کو دے دیا اور فرمایا ’’اسے لوگوں کے مابین تقسیم کردو‘‘۔
In another narration: "After he threw pebbles at "Jamarat al-‘Aqabah", he slaughtered his animal, then shaved his head. The barber started with the right side of his head, then he called Abu Talhah al-Ansāri and gave the hair to him. Then, he asked to shave his left side, and said: "Shave it!" The barber shaved it and he gave the hair to Abu Talhah. Then, he said: "Distribute it among the people!"
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اس حديث کی دونوں روایتوں کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3052Sahih Muslim (HadeethEnc 3052)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پرجب عید کے دن منیٰ آئے توجمرات کی رمی کی، پھر اپنے ٹھکانے کی طرف گیے اور اپنے قربانی کے جانور کی نحر کی، اس کے بعد نائی کو بلایا اس نے آپ کے سر کے بال مونڈے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی دائیں جانب اشارہ کیا تو حلاق(نائی) نے دائیں جانب سے بال مونڈنا شروع کیا۔ پھرآپﷺ نے ابو طلحہ انصاری کو بلایا اور اپنی دائیں جانب کے کٹے ہوئے تمام بال ان کو دے دیے۔ پھر باقی سر مونڈا گیا اور آپ نے ابو طلحہ کو بلایا اور وہ بھی ان کو دے دیے اور فرمایا کہ اس کو لوگوں میں تقسیم کر دو۔ انھوں نے وہ بال لوگوں میں تقسیم کر دیے کسی کو ایک بال ملا، کسی کو دو اور کسی کو اس سے زیادہ جو میسر ہوا ملا۔ اور یہ نبی ﷺ کے اس مبارک بال کے تبرک کی وجہ سے ہوا۔ اور یہ صرف رسول اللہ ﷺ کے آثار کے ساتھ خاص اور جائز ہے۔
Explanation
When the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) arrived at Mina on the day of Eid during his Farewell Pilgrimage, he threw pebbles at "Jamarat al-‘Aqabah", and then he went to his tent and slaughtered his sacrifice. Then, he called for a barber to shave his head. He told the barber to start with the right side of his head, and he started from there. Then he called Abu Talhah al-Ansāri and gave him the hair that was shaved off his right side. Then, he shaved the remainder of his head and gave the hair to Abu Talhah, and said: "Distribute it among the people!" He did it. Some people received one hair, some two, and some more than that. This was to seek blessings in his hair. Such act is permissible but exclusive to Prophet Muhammad's belongings.