ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات پر بیعت کی کہ مشکل اور آسانی میں، چستی وسستی میں اور خود پر ترجیح دیے جانے کی…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3061Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3061)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ساتھیوں سے اس بات کا عہد لیا ہے کہ وہ آسان اور مشکل حالت اور مال داری اور غربت میں، حکام کے فرمان ان کو پسند ہوں یا نہ ہوں، یہاں تک کہ حکمراں عوامی دولت اور عہدوں وغیرہ کی تقسیم کے معاملے میں ان پر کسی کو ترجیح ہی کیوں نہ دیتے ہوں، حکمرانوں کی بات مان کر چلیں گے اور ان کے خلاف بغاوت کا پرچم نہيں اٹھائیں گے۔ کیوں کہ ان سے لڑنے کے نتیجے میں جو فتنہ و فساد برپا ہوگا، وہ ان کے ظلم کے نتیجے میں ہونے والے فتنہ و فساد سے زیادہ بڑا ہوگا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے اس بات کا بھی عہد لیا کہ وہ جہاں بھی رہیں گے، اللہ کی رضا جوئی کے لیے حق بات کہیں گے اور کسی کی سرزنش کی پرواہ نہیں کریں گے۔
حدیث کے فوائد
- حکمرانوں کی بات سننے اور ماننے کا فائدہ یہ ہوگا کہ مسلمان متحد رہیں گے اور ان کے درمیان اختلاف و انتشار کو راہ نہیں ملے گی۔
- حکمرانوں کی باتوں کو، جب تک وہ اللہ کی نافرمانی کا حکم نہ دیں، سننا اور ماننا ضروری ہے، آسان حالت میں بھی اور مشکل حالت میں بھی، پسند ہو تب بھی اور ناپسند ہو تب بھی، یہاں تک کہ کسی اور کو ترجیح دی جائے، تب بھی۔
- ہم جہاں بھی رہیں، کسی کی سرزنش کی پرواہ کیے بغیر حق بات کہنا واجب ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) took the pledge of allegiance from the Companions over obedience to the rulers in what is easy and what is hard and in the state of richness and poverty, and whether they like or dislike their commands; even if the rulers prefer themselves over the subjects concerning the public funds, positions, and the like, they should listen and obey them in what is good and not revolt against them. This is because the strife and corruption that would result from fighting them are worse than the corruption caused by their oppression. Among the things they pledged allegiance to is to speak the truth wherever they may be, being sincere to Allah and not fearing those who reproach them.