صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

تمتع کی آیت نازل ہوئی یعنی حج تمتع کی، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس کا حکم دیا اور پھر حج تمتع کی منسوخی پر کوئی…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3067Sahih صحیح
عن عمران بن حصين رضي الله عنهما قال: «أُنْزِلَت آيَةُ المُتْعَةِ في كتاب اللَّه تعالى ، فَفَعَلْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ، وَلَم يَنْزِلْ قُرْآنٌ يُحَرِّمُهَا، وَلَم يَنْهَ عَنهَا حَتَّى مات، قال رجل بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ»، قال البخاري: «يقال إنه عمر».
وفي رواية: « نَزَلَت آيَةُ المُتْعَةِ -يَعْنِي مُتْعَةَ الحَجِّ- وَأَمَرَنا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ، ثُمَّ لَم تَنْزِل آيَةٌ تَنْسَخُ آيَةَ مُتْعَةِ الْحَجِّ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى مَاتَ». ولهما بمعناه.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :کتاب اللہ میں حج تمتع کے بارے میں آیت نازل ہوئی ۔ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمتع کیا اور قرآن میں اس کی حرمت اور ممانعت کی کوئی دلیل نازل نہ ہوئی یہاں تک کہ آپﷺ فوت ہو گیے۔ صرف ایک صاحب ہیں جو اپنی رائے علیحده رکھتے ہیں۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :یہ صاحب عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔
اور دوسری روایت میں ہے:تمتع کی آیت نازل ہوئی یعنی حج تمتع کی، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس کا حکم دیا اور پھر کوئی ایسی آیت بھی نازل نہیں ہوئی جوحجِ تمتع کے حکم کو منسوخ کرتی۔ اور نہ ہی رسول اللہﷺ نے مرتے دم تک اس سے منع کیا تھا۔ (بخاری ومسلم میں اس معنی کی حدیث موجود ہے)
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Imrān ibn Husayn (may Allah be pleased with him) reported: The verse of Hajj Tamattu‘ was revealed in Allah's Book. We performed it with the Messenger (may Allah's peace and blessings be upon him) and nothing was revealed in Qur'an to make it unlawful, nor did the Prophet prohibit it till he died. No regard is therefore given to anyone suggesting otherwise. Al-Bukhāri said: "It was said that man is ‘Umar." In another narration: "As the verse of Hajj Tamattu‘ was revealed, the Messenger (may Allah's peace and blessings be upon him) ordered us to perform it. Nothing was revealed in the Qur'an abrogating it, nor did the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) prohibit it till he died." And they both narrated it with this meaning.
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3067

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

عمران بن حصین رضی اللہ عنہ عمرہ کے ساتھ حج (حجِ تمتع) کرنے کےبارے میں ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:اس کو کتاب اللہ اور سنت رسول میں مشروع قرار دیا گیا ہے۔ کتاب اللہ میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: {فمن تمتع بالعمرة إلى الحج فما استيسر من الهدي}.’’جو شخص عمرے سے لے کر حج تک تمتع کرے پس اسے جو قربانی میسر ہو اسے کر ڈالے۔‘‘ جب کہ سنت یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حج تمتع کیا،اس کو برقرار رکھا ،قرآن میں اس کی حرمت پر کوئی چیز نازل نہیں ہوئی اور نہ ہی رسول اللہﷺ نے اس سے منع فرمایا حتیٰ کہ رسول اللہﷺ دنیا سے چلےگیے اور یہ حکم باقی رہا اس کو منسوخ نہیں کیا گیا۔ تو پھر ایک آدمی اپنی رائے سے (ممانعت کی بات) کیسے کہہ سکتا اور اس سے (کیسے) روک سکتا ہے۔؟ اس سے ان کا اشارہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف تھا جنھوں نے ایامِ حج میں اپنی اجتہاد سے اس سے منع کر دیا تھا تاکہ پورے سال زائرینِ بیت اللہ کثرت سے آتے رہیں، اس لیے کہ ان ایام میں جس تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں موسم حج کے علاوہ اس طرح نہیں آتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا منع کرنا بطورِ تحریم یا کتاب و سنت پرعمل کو ترک کرتے ہوئے نہیں تھا بلکہ عمومی مصلحت کا خیال کرتے ہوئے عارضی طور پر منع کردیا تھا۔

Explanation

‘Imrān ibn Husayn (may Allah be pleased with him) says that Hajj Tamattu‘ was laid down in the Qur'an and the Sunnah. In the Qur'an, Allah, the Almighty, says: {And whosoever performs the 'Umrah in the months of Hajj, before (performing) the Hajj, he must slaughter a Hady such as he can afford} [Sūrat al-Baqarah: 196]. As for its legislation in the Sunnah, this is represented by the Prophet's performance and approval of this act, whereas no Qur'anic verses were revealed to prohibit it, nor did the Prophet forbade it later, till he died. So, ‘Imrān wonders: How can anybody prohibit it after that! By this, he refers to ‘Umar ibn al-Khattāb, who prohibited Hajj Tamattu‘, based on his own reasoning, aimed at boosts the pilgrims' numbers throughout the year. If a pilgrim performs ‘Umrah along with Hajj, he or she will only come during the season of Hajj. So, ‘Umar's ban was not meant as prohibition or abandonment of the application of the Qur'an and Sunnah in this respect; rather, it was a temporary ban for the public interest.

Topics موضوعات