صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

محرم شخص کا ایسے شکار کے گوشت کو کھانا جو اس کے لیے شکار نہ کیا گیا ہو اور نہ ہی اس نے اس کے شکار میں کوئی…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3099Sahih صحیح
عن أبي قَتَادَةَ الأنصاري رضي الله عنه «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج حاجًّا، فخرجوا معه، فصرف طائفة منهم -فيهم أبو قَتَادَةَ- وقال: خذوا ساحِل البحر حتى نَلْتَقِيَ. فأخذوا ساحل البحر، فلما انصرفوا أحرموا كلهم، إلا أبا قَتَادَةَ فلم يُحرم، فبينما هم يسيرون إذ رأوا حُمُرَ وَحْشٍ، فحمل أبو قَتَادَةَ على الْحُمُرِ، فَعَقَرَ منْها أَتَانَاً، فنزلنا فأكلنا من لحمها، ثم قلنا: أنأكل لحم صيد، ونحن محرمون؟ فحملنا ما بقي من لحمها فأدركنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فسألناه عن ذلك؟ فقال: منكم أحد أمره أن يحمل عليها، أو أشار إليها؟ قالوا: لا، قال: فكلوا ما بقي من لحمها»، وفي رواية: «قال: هل معكم منه شيء؟ فقلت: نعم، فناولته الْعَضُدَ ، فأكل منها».
ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حج کے ارادے سے نکلے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ ﷺ نے صحابہ کی ایک جماعت کو جس میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے یہ ہدایت دے کر واپس بھیج دیا کہ تم لوگ ساحل سمندر کے راستہ پکڑ کر چلو یہاں تک کہ ہم سےآملو۔ چنانچہ انہوں نے ساحلِ سمندر کا راستہ اختیار کیا۔ جب واپس ہوئے تو سوائے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے سب نے احرام باندھ لیا۔ وہ جب چلے آ رہے تھے تو انہیں کچھ نیل گائیں دکھائی دیں۔ ابوقتادہ نے نیل گایوں پر حملہ کر کے ایک مادہ کا شکار کر لیا۔ ہم نے (ایک جگہ) پڑاؤ کیا اور اس کا گوشت کھایا۔ پھر ہمیں خیال آیا کہ کیا ہم حالت احرام میں ہونے کے باوجود شکار کا گوشت کھا سکتے ہیں؟ چنانچہ جو کچھ گوشت بچا وہ ہم نے ساتھ لے لیا اور جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے تو آپ ﷺ سے اس کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ ﷺنے پوچھا کیا تم میں سے کسی نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو اس پر حملہ آور ہونے کے لیے کہا تھا؟ یا کسی نے اس شکار کی طرف اشارہ کیا تھا؟ سب نے کہا نہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر بچا ہوا گوشت بھی کھا لو۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اس (شکار کے گوشت) میں سے کچھ ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ یہ کہہ کر میں نےآپ ﷺ کو شانے کا گوشت دیا تو آپ ﷺ نے اس میں سے تناول فرمایا۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Qatādah al-Ansāri (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) set out for Hajj and so did his Companions. He sent a group of them by another route, and Abu Qatādah was one of them. He (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Proceed along the sea-shore until we meet up." So, they took the route of the sea-shore, and when they departed, all of them entered in the state of Ihrām for Hajj except Abu Qatādah. While they were proceeding on, they saw a group of onagers. Abu Qatādah chased the onagers and wounded a she-onager. They got down and ate some of its meat and said to each other: "How do we eat the meat of the game while we are in a state of Ihrām?" So, we carried the rest of its meat, and we met the Messenger of Allah and asked him about it. He (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Did anyone of you order Abu Qatādah to attack it or point at it?" They replied in the negative. He said: "Then eat what is left of its meat." And in another narration: He said: "Is there any more left with you?" I said: "Yes" and I gave him its upper arm to eat and he ate from it.
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3099

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

صلح حدیبیہ کے سال نبی ﷺ عمرہ کے ارادے سے نکلے۔ اہل مدینہ کا میقات یعنی ذو الحلیفہ،جو مدینہ کے قریب ہی واقع ہے، تک پہنچنے سے پہلے ہی آپ ﷺ تک یہ خبر پہنچی کہ ساحلِ سمندر کی طرف سے دشمن ان پر حملہ آور ہونے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس لیے آپ ﷺنے اپنےصحابہ کے ایک گروہ کوجس میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے حکم دیا کہ وہ ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ داہنی طرف والا راستہ لے لیں تا کہ دشمن کو روک سکیں۔ چنانچہ وہ اس طرف چلے گیے۔ جب مقررہ وقت پر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے وہ واپس ہوئے تو سوائے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے سب نے احرام باندھ لیا۔ دورانِ سفر انھیں کچھ نیل گائیں نظر آئیں اور دل ہی دل میں انھوں نے چاہا کہ کاش ابوقتادہ اسے دیکھ لیں کیوں کہ وہ حالتِ احرام میں نہیں ہیں۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے جب نیل گایوں کو دیکھا تو ان پر حملہ آور ہوئے اور ایک مادہ نیل گائے کو شکار کر لیا اور سب نے اس کا گوشت کھایا۔
پھر انہیں کچھ شک لاحق ہوا کہ کیا حالت احرام میں ان کے لیے اسے کھانا جائز ہے یا نہیں؟ چنانچہ انھوں نے اس کے باقی ماندہ گوشت کو اپنے ہمراہ لیا یہاں تک کہ نبی ﷺ کے پاس آن پہنچے اور آپ ﷺ سے اس کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ کیا ان میں سے کسی نے ابو قتادہ کو شکار کرنے کو کہا تھا؟ یا پھر انھیں بتا کر یا اشارہ کر کےان کی مدد کی تھی؟ انھوں نے جواب دیا کہ ایسی کوئی بھی بات نہیں ہوئی۔
اس پر آپ ﷺ نے انھیں اطمئنان دلایا کہ یہ ان کے لیے حلال ہے بایں طور کہ آپ ﷺ نے اس کے باقی ماندہ گوشت کو بھی کھانے کا حکم دیا اور ان کی طیب خاطر کے لیے آپ ﷺ نے خود بھی اس کا گوشت تناول فرمایا۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) set out in the year of Hudaybiyah intending to perform ‘Umrah. Before he arrived at the designated place of Ihrām for the inhabitants of Madīnah, which is Dhu al-Hulayfah, he was informed that an enemy was coming from the direction of the sea-shore intending to fight him. So, he commanded a group of his Companions – among whom was Abu Qatādah – to take the right direction on the sea-shore route in order to avert them. They proceeded toward that direction. When they departed to meet up with the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) at his appointed time, they all entered in the state of Ihrām except Abu Qatādah. While they were walking they saw a group of onagers, and they hoped inside themselves that Abu Qatādah would see them since he was not in a state of Ihrām (he could hunt). When he saw them, he chased them and wounded a she-onager. So, they all ate from its meat. Then they felt some doubt concerning the permissibility of their eating from it, while they were in a state of Ihrām. So they carried what was left of its meat until they caught up with the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and asked him about it. He asked them if anyone of them ordered Abu Qatādah or helped him by pointing or hinting at it. They replied that nothing of the sort happened. So he assured their hearts by telling them that it was lawful for them, and ordered them to eat what was left thereof. He also ate from it, in order to give comfort to their hearts.

Topics موضوعات