”جب جمعہ کے دن امام خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے پاس بیٹھے ہوئے آدمی سے کہو کہ “خاموش ہو جاؤ” تو (ایسا کہہ کر)…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3107Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3107)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جمعے کے خطبے میں شریک ہونے والے کے لیے ایک لازمی ادب یہ ہے کہ وہ خاموش ہوکر پوری توجہ کے ساتھ خطیب کی باتیں سنے، تاکہ نصیحتوں پر غور کر سکے۔ آگے آپ نے بتایا کہ جس نے خطبے کے دوران کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی کہی، جیسے کسی دوسرے شخص سے خاموش رہو یا دھیان سے سنو وغیرہ کہا، وہ جمعے کی نماز کی فضیلت سے محروم ہو جائے گا۔
حدیث کے فوائد
- خطبہ سنتے وقت بات کرنا حرام ہے۔ یہاں تک کہ کسی غلط کام سے روکنے، سلام کا جواب دینے اور چھینکنے کے بعد الحمد للہ کہنے والے کے جواب میں یرحمک اللہ کہنے کے لیے بات کرنا بھی منع ہے۔
- اس ممانعت کے دائرے سے وہ آدمی باہر ہے، جو امام کو مخاطب کرکے کوئی بات کہے یا امام اس کو مخاطب کرکے کوئی بات کہے۔
- ضرورت کے وقت دو خطبوں کے درمیان بات کرنا جائز ہے۔
- جب خطبے کے دوران اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا نام آئے، تو آپ پر درود و سلام سری طور پر بھیجا جائے گا۔ یہی حال دعا پر آمین کہنے کا بھی ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) points out that one of the ethics that should be observed by those who attend the Friday sermon is to listen to the preacher to ponder over the delivered lessons and that whoever speaks – albeit the least of words – while the Imām is giving the sermon and tells someone to "keep silent" or to 'listen' has thus missed the merit of the Friday prayer.