صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

”جب جمعہ کے دن امام خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے پاس بیٹھے ہوئے آدمی سے کہو کہ “خاموش ہو جاؤ” تو (ایسا کہہ کر)…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3107Sahih صحیح
عن أبِي هُرَيرةَ رضي الله عنه أنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلمَ قال: «إذا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ: أَنْصِتْ، يومَ الجمعةِ، والْإِمامُ يَخْطُبُ، فَقَدْ لَغَوْتَ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جب جمعہ کے دن امام خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے پاس بیٹھے ہوئے آدمی سے کہو کہ "خاموش ہو جاؤ" تو (ایسا کہہ کر) تم نے خود ایک لغو حرکت کی“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "If you say to your companion 'listen' on Friday while the Imām is delivering the sermon, you have thus engaged in idle talk."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق عليه
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3107

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جمعے کے خطبے میں شریک ہونے والے کے لیے ایک لازمی ادب یہ ہے کہ وہ خاموش ہوکر پوری توجہ کے ساتھ خطیب کی باتیں سنے، تاکہ نصیحتوں پر غور کر سکے۔ آگے آپ نے بتایا کہ جس نے خطبے کے دوران کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی کہی، جیسے کسی دوسرے شخص سے خاموش رہو یا دھیان سے سنو وغیرہ کہا، وہ جمعے کی نماز کی فضیلت سے محروم ہو جائے گا۔

حدیث کے فوائد

  • خطبہ سنتے وقت بات کرنا حرام ہے۔ یہاں تک کہ کسی غلط کام سے روکنے، سلام کا جواب دینے اور چھینکنے کے بعد الحمد للہ کہنے والے کے جواب میں یرحمک اللہ کہنے کے لیے بات کرنا بھی منع ہے۔
  • اس ممانعت کے دائرے سے وہ آدمی باہر ہے، جو امام کو مخاطب کرکے کوئی بات کہے یا امام اس کو مخاطب کرکے کوئی بات کہے۔
  • ضرورت کے وقت دو خطبوں کے درمیان بات کرنا جائز ہے۔
  • جب خطبے کے دوران اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا نام آئے، تو آپ پر درود و سلام سری طور پر بھیجا جائے گا۔ یہی حال دعا پر آمین کہنے کا بھی ہے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) points out that one of the ethics that should be observed by those who attend the Friday sermon is to listen to the preacher to ponder over the delivered lessons and that whoever speaks – albeit the least of words – while the Imām is giving the sermon and tells someone to "keep silent" or to 'listen' has thus missed the merit of the Friday prayer.

Topics موضوعات