نیک اعمال کی طرف تیزی سے بڑھو، ان فتنوں سے پہلے، جو سخت تاریک رات کی طرح ہوں گے؛
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3138Sahih Muslim (HadeethEnc 3138)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مومن کو اچھے کاموں کی طرف تیزی سے بڑھنے اور زیادہ سے زیادہ اچھے کام کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں، قبل اس کے کہ اچھے کاموں سے روک دینے والے فتنوں اور شبہات کی آمد کی وجہ سے انھیں کرنا دشوار ہو جائے اور انسان کے ہاتھ سے موقع نکل جائے۔ یہ فتنے تاریکیوں کی شکل میں نمودار ہوں گے۔ مانو رات کے ٹکڑے ہوں۔ ان کے آنے کی وجہ سے حق باطل کے ساتھ اس طرح گڈ مڈ ہو جائے گا کہ انسان کے لیے دونوں کے درمیان فرق کرنا دشوار ہو جائے گا۔ حالت یہ ہوگی کہ انسان بدحواسی کا شکار ہو جائے گا۔ صبح مومن رہے گا، تو شام کو کافر ہو جائے گا۔ شام کو مومن رہے گا، تو صبح کافر بن جائے گا۔ دنیا کے متاع فانی کی وجہ سے دین سے کنارہ کش ہو جائے گا۔
حدیث کے فوائد
- دین کو مضبوطی سے پکڑے رہنے اور عمل صالح کی جانب تیزی سے آگے بڑھنے کی ضرورت، قبل اس کے کہ موانع حائل ہو جائيں۔
- آخری وقت میں گمراہ کن فتنوں کے پے در پے آنے کا اشارہ۔ صورت حال یہ ہوگی کہ ایک فتنہ جائے گا تو دوسرا فتنہ آ جائے گا۔
- جب انسان کا دین کمزور ہو جاتا ہے اور وہ متاع دنیا، جیسے مال وغیرہ کے چکر میں دین سے کنارہ کش ہو جاتا ہے، تو یہ اس کے دین سے انحراف، دین بیزاری اور فتنوں کے شکار ہونے کا سبب بن جاتا ہے۔
- اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ اچھے اعمال فتنوں سے نجات کا سبب ہے۔
- فتنوں کی دو قسمیں ہيں : شبہات کا فتنہ، جس کا علاج علم ہے اور شہوات کا فتنہ، جس کا علاج ایمان اور صبر ہے۔
- اس حدیث میں اس بات کا اشارہ ہے کہ جو قلیل العمل ہوگا، اس کی جانب فتنے زیادہ تیزی سے آئيں گے اور جو کثیرالعمل ہوگا، اسے اپنے عمل کے دھوکے میں آنے کے بجائے مزید عمل کرنا چاہیے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) is urging the believer to hasten to good deeds and perform them frequently before they become difficult and he gets preoccupied with tribulations and suspicious matters that would prevent him and turn him away from offering good deeds. During such tribulations, which are as dark as the night, the truth and falsehood are mixed up, and it becomes hard for people to distinguish between them. Their severity causes one to wander blindly to the extent that he would be a believer in the morning and become a disbeliever in the evening, or he would be a believer in the evening and become a disbeliever in the morning, abandoning his religion for the sake of a transient worldly gain.