صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

نبی ﷺ کی تمام بیویوں میں جتنی غیرت مجھے خدیجہ رضی اللہ عنہا سے آتی تھی اتنی کسی اور سے نہیں آتی تھی حالانکہ…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3140Sahih صحیح
عن عائشة رضي الله عنها قالت: «ما غِرْتُ على أحد من نساء النبي صلى الله عليه وسلم ما غِرْتُ على خديجة رضي الله عنها ، وما رأيتها قط، ولكن كان يُكثر ذِكْرَها، وربما ذبح الشَّاةَ، ثم يُقطعها أَعْضَاءً، ثم يَبْعَثُهَا في صَدَائِقِ خديجة، فربما قلت له: كأن لم يكن في الدنيا إلا خديجة! فيقول: «إنها كانت وكانت وكان لي منها وَلَدٌ».
وفي رواية: وإن كان لَيَذْبَحُ الشَّاءَ، فيُهدي في خَلَائِلِهَا منها ما يَسَعُهُنَّ.
وفي رواية: كان إذا ذَبَحَ الشَّاةَ، يقول: «أرسلوا بها إلى أصدقاء خديجة».
وفي رواية: قالت: اسْتَأْذَنَتْ هالة بنت خويلد أخت خديجة على رسول الله صلى الله عليه وسلم فعرف استئذان خديجة، فارْتَاحَ لذلك، فقال: «اللهم هالة بنت خويلد».
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کی تمام بیویوں میں جتنی غیرت مجھے خدیجہ رضی اللہ عنہا سے آتی تھی، اتنی کسی اور سے نہیں آتی تھی حالانکہ انہیں میں نے انہیں کبھی دیکھا بھی نہ تھا، لیکن آپ ﷺ ان کا ذکر بکثرت فرمایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ جب کبھی بکری ذبح کرتے تو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے خدیجہ رضی اللہ عنہا کی ملنے والیوں کو بھیجتے تھے۔ بسا اوقات میں آپ ﷺ سے کہتی : جیسے دنیا میں خدیجہ رضی اللہ عنہاکے سوا کوئی عورت ہے ہی نہیں! اس پر آپ ﷺ فرماتے کہ وہ ایسی تھیں اور ایسی تھیں اور ان سے میری اولاد ہے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ اگر کبھی بکری ذبح کرتے تو ان سے میل محبت رکھنے والی خواتین کو اس میں سے اتنا ہدیہ بھیجتے جو ان کے لیے کافی ہو جاتا۔
ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ جب کبھی بکری ذبح کرتے تو فرماتے کہ یہ خدیجہ کی سہیلیوں کے ہاں پہنچادو۔
ایک اور روایت میں ہے، عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن، ہالہ بنت خویلد نے ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ کو خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اجازت مانگنا یاد آگیا، آپ ﷺخوش ہو اٹھے اور فرمایا ”اللہ! یہ تو ہالہ بنت خویلد ہیں“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her) reported: I never felt jealous of any of the Prophet's wives more than I felt jealous of Khadījah (may Allah be pleased with her). I never saw her, but he used to mention her a lot. He would slaughter a sheep and cut it into pieces and then send (gifts of meat) to the friends of Khadījah. I would sometimes say to him: "It is as if there was none in the world except Khadījah!" And he would say: "She was such-and-such, and I had children from her."
In another narration: "He would slaughter a sheep and send enough meat to her close friends."
In a third narration: "When he slaughtered a sheep, he would say: 'Send it to the friends of Khadījah.'"
In a fourth narration: "Hālah bint Khuwaylid, the sister of Khadījah, asked for permission to enter unto the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him). So he remembered the way Khadījah would seek permission. This pleased him, and he said: 'O Allah, (let it be) Hālah bint Khuwaylid.'"
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اس حدیث کی تمام روایات متفق علیہ ہیں۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3140

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اُمُّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کی تمام بیویوں میں جتنی غیرت مجھے خدیجہ رضی اللہ عنہا سے آتی تھی، اتنی کسی اور سے نہیں آتی تھی، اور وہ نبی ﷺ کی سب سے پہلی بیوی تھیں، عائشہ رضی اللہ عنھا کے انہیں دیکھنے سے قبل ہی ان کا انتقال ہوچکا تھا، نبی ﷺ کا مدینہ طیبہ میں یہ معمول تھا کہ جب کوئی بکری ذبح فرماتے تو خدیجہ رضی اللہ عنھاکی سہیلیوں کے ہاں اس کے کچھ گوشت کاہدیہ بھیجتے ، عائشہ رضی اللہ عنھا برداشت نہ کرپاتیں اور کہہ دیا کرتیں :اے اللہ کے رسول!ایسا لگتا ہے کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے سوا دنیا میں کوئی اور خاتون ہی نہیں۔
چنانچہ آپ ﷺ یہ فرماتے کہ وہ ایسے کرتی تھیں، یوں کرتی تھیں اور ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کی خوبیاں ذکر فرماتے۔ نیز آپ ﷺ اس محبت، بے پناہ پیار اور انتہائی گہری وابستگی کے راز میں زور پیدا کرتے ہوئے فرماتے کہ "ان سے مجھے اولاد بھی ہے"۔ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہونے والے فرزند، ابراہیم رضی اللہ عنہ کے سوا آپ ﷺ کی جملہ چار لڑکیاں اور تین لڑکے،خدیجہ رضی اللہ عنہا ہی سے تھے اور ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کو قبطی بادشاہ نے نبی ﷺ کو ہدیہ میں دیا تھا۔
ایک مرتبہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن، ہالہ بنت خویلد رضی اللہ عنہما تشریف لائیں اور گھر میں آنے کی اجازت طلب کی اور ان کے اجازت مانگنے کا انداز، خدیجہ رضی اللہ عنہا کے اجازت مانگنے جیسا تھا کیونکہ ان کی آواز، ان کی بہن جیسی تھی، چنانچہ آپ ﷺ کو اس سے خدیجہ رضی اللہ عنہا کی یاد آگئی تو آپ ﷺ میں خوشی و مسرت کے جذبات امنڈ آئے۔

Explanation

‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her) says that she never felt jealous of any of the Prophet's wives more than she felt jealous of Khadījah (may Allah be pleased with her) who was the Prophet's first wife and had died before ‘Ā’ishah saw her. In Madīnah, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) would slaughter a sheep and send gifts of meat to the friends of Khadījah. ‘Ā’ishah lost her patience, so she said to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) that it was as if there was none in the world except Khadījah. Therefore, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said that Khadījah did such-and-such good things, and he mentioned her qualities. He added something that revealed the secret of his deep love, amiability, and connection with Khadījah: he had children from her. Indeed, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) had four daughters and three sons, and they were all from Khadījah, except for his son Ibrahīm, who was from Māriyah al-Qibtiyyah, whom the king of the Copts gave as a present to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him).
Once, the sister of Khadījah, Hālah ibnt Khuwaylid, sought permission to meet the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him). Since her voice and demeanor were similar to Khadījah's, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) remembered Khadījah and was pleased on that account.

Topics موضوعات