جب کوئی مومن یا مسلم وضو کرتے وقت چہرہ دھوتا ہے، تو جیسے ہی چہرہ سے پانی گرتا ہے، یا پانی کا آخری قطرہ گرتا…
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3284Sahih Muslim (HadeethEnc 3284)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
شرعی وضو میں چار اعضا کو پاک وصاف کیاجاتاہے۔ چہرہ ، دونوں ہاتھ ، سر اور دونوں پاؤں۔
یہ صفائی حسی بھی ہوتی ہے اور معنوی بھی۔
اس کا حسی ہونا تو ظاہر ہے۔ کیوںکہ اس میں انسان اپنا چہرہ، دونوں ہاتھ، اور دونوں پاوں دھوتا ہے اور سر کا مسح کرتاہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سر کو بھی اسی طرح دھویا جاتا، جیسے بقیہ اعضا کو دھویا جاتاہے، لیکن اللہ تعالی نے سر کے معاملے میں تخفیف فرما دی۔ کیوںکہ سر میں بال ہوتے ہیں اور یہ بدن کا سب سے اوپر والا حصہ ہے۔ چنانچہ اگر سر کو دھویا جاتا، خاص طور پر جب کہ اس میں بال بھی ہوں، تو اس میں لوگوں کے لیے مشقت ہوتی، خصوصا سردی کے دنوں میں ۔ لیکن یہ اللہ عزوجل کی رحمت ہے کہ اس نے سر کے معاملے میں صرف مسح کرنا فرض کیا۔ جب انسان وضو کرتاہے تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ وہ اعضا وضو کو حسی طور پر صاف کرتاہے ۔ یہ اسلام کی اکملیت پر دلیل ہے کہ اس کے ماننے والوں پر فرض کیا گیا ہے کہ وہ ان اعضا کو صاف کریں جو اکثر ظاہر اور کھلے رہتے ہیں ۔ اور طہارت معنویہ سے مراد ایک مسلمان بندے کا گناہوں سے پاکی حاصل کرنے کا عمل ہے۔ جب وہ اپنے چہرے کو دھوتا ہے، تو وہ سارے گناہ جھڑ جاتے ہیں، جن کا ارتکاب آنکھوں سے ہوا ہے۔ واضح رہے کہ یہاں آنکھ کا ذکر _واللہ اعلم_ بطور تمثیل ہے۔ ورنہ ناک سے بھی خطا ہوتی ہے، منہ سے بھی خطا ہوتی ہے؛ انسان ایسی باتیں کر لیتا ہے، جو حرام ہیں، ایسی چیزیں سونگھ لیتا ہے، جنھیں سونگھنے کا اسے حق نہیں ہوتا، لیکن آنکھ کا ذکر بطور خاص اس لیے ہواہے کہ اکثر گناہ آنکھ سے ہی سر زد ہوتے ہیں۔ اور اس حدیث میں گناہوں کی معافی سے مراد صغیرہ گناہوں کی معافی ہے۔ جب کہ کبیرہ گناہوں کی بخشش کے لیے توبہ ضروری ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) clarified that when a Muslim or a believer performs ablution and washes his face during the ablution, every minor sin he looked at with his eyes comes out of his face with the water falling after washing or with the last drop of water. When he washes his hands, every minor sin he committed with his hands comes out of his hands with the water or with the last drop of water. When he washes his feet, every minor sin his feet walked towards comes out with the water or with the last drop of water, until he comes out cleansed of minor sins by the end of ablution.