صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

ہم سے پہلے مال غنیمت کسی کے لیے حلال نہ تھا۔ پھر اللہ تعالی نے ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھتے ہوئے اسے…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3288Sahih صحیح
عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعًا: «غَزَا نَبِيٌّ مِن الأَنبِيَاء -صلوات الله وسلامه عليهم- فقال لقومه: لاَ يَتبَعَنِّي رجُل مَلَك بُضْعَ امرَأَةٍ وَهُوَ يُرِيدُ أنْ يَبنِي بِهَا وَلَمَّا يَبْنِ بِهَا، وَلاَ أحَدٌ بَنَى بُيُوتًا لم يَرفَع سُقُوفَهَا، ولاَ أَحَدٌ اشتَرَى غَنَمًا أو خَلِفَات وهو يَنتظِرُ أَولاَدَها، فَغَزَا فَدَنَا مِنَ القَريَةِ صَلاةَ العَصر أو قَرِيباً مِن ذلك، فَقَال للشَّمسِ: إِنَّك مَأمُورَة وأَنَا مَأمُور، اللَّهُمَّ احْبِسْهَا عَلَينَا، فَحُبِسَتْ حَتَّى فَتَحَ الله عليه، فَجَمَع الغَنَائِم فَجَاءَت -يعني النار- لِتَأكُلَهَا فَلَم تَطعَمها، فقال: إِنَّ فِيكُم غُلُولاً، فَليُبَايعنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَة رجل، فَلَزِقَت يد رجل بِيَدِهِ فقال: فِيكُم الغُلُول فلتبايعني قبيلتك، فلزقت يد رجلين أو ثلاثة بيده، فقال: فيكم الغلول، فَجَاؤوا بِرَأس مثل رأس بَقَرَةٍ من الذَّهَب، فَوَضَعَهَا فجاءت النَّارُ فَأَكَلَتهَا، فَلَم تَحِلَّ الغَنَائِم لأحَدٍ قَبلَنَا، ثُمَّ أَحَلَّ الله لَنَا الغَنَائِم لَمَّا رَأَى ضَعفَنَا وَعَجزَنَا فَأَحَلَّهَا لَنَا».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انبیا علیہم الصلوۃ و السلام میں سے ایک نبی نےجنگ كا ارادہ کیا، تو اپنی قوم سے کہا کہ میرے ساتھ وہ جہاد میں نہ آئے، جس کا کسی عورت سے نکاح ہوا ہو اور ابھی تک اس سے شب باشی نہ کی، ہو جب کہ وہ اس کا ارادہ رکھتا ہو۔ وہ شخص (بھی نہ آۓ) جس نے گھر تعمیر کیا ہو اور ابھی اس کی چھت نہ رکھی ہو۔ وہ شخص (بھی نہ آۓ) جس نے بھیڑ بکریاں یا حاملہ اونٹنیاں خریدی ہوں اور اسے ان کے بچے جننے کا انتظار ہو۔ پھر انھوں نے جہاد کیا اور عصر کے وقت یا اس کے قریب قریب بستی کے پاس پہنچے۔ اور سورج سے کہنے لگے کہ: "تو بھی اللہ کا تابع فرمان ہے اور میں بھی اس کا تابع فرمان ہوں۔ اے اللہ! ہمارے لیے اسے اپنی جگہ پر روک دے"۔ چنانچہ سورج رک گیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں فتح عنایت فرمائی۔ پھر انھوں نے اموال غنیمت کو جمع کیا اور آگ اسے جلانے کے لیے آئی؛ لیکن جلا نہ سکی۔ یہ دیکھ کر نبی نے کہا کہ تم میں سے کسی نے مال غنیمت میں چوری کی ہے۔ اس لیے ہر قبیلے کا ایک آدمی آ کر میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔ (جب بیعت ہوئی تو) ایک قبیلے کے شخص کا ہاتھ ان کے ہاتھ پر چپک گیا۔ انھوں نے کہا کہ چوری تمھارے قبیلے والوں نے کی ہے۔ اب تمھارے قبیلے کے سب لوگ آئیں اور بیعت کریں۔ چنانچہ اس قبیلے کے دو یاتین آدمیوں کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے پر چپک گیا تو انھوں نے فرمایا کہ چوری تمہی لوگوں نے کی ہے۔ چنانچہ وہ لوگ گائے کے سر کی طرح سونے کا ایک سر لائے اور اسے مال غنیمت میں رکھ دیا، تو آگ نے آ کر اسے جلا دیا۔ ہم سے پہلے مال غنیمت کسی کے لیے حلال نہ تھا۔ پھر اللہ تعالی نے ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھتے ہوئے اسے ہمارے لیے جائز کر دیا“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "One of the prophets (peace be upon them) set out on a military expedition. He said to his people: 'Let not anyone accompany me who has married a woman and wishes to consummate his marriage with her but has not yet done so, or one who has built a house but has not yet erected its roof, or one who has bought sheep or pregnant she-camels and is waiting for their offspring.' Then he marched on and approached a village at the time of the afternoon prayer or close to that, so he said to the sun: 'You are commanded and so am I. O Allah, hold it back (from setting) for us,' and it was held back until Allah granted him victory. He gathered the spoils of war, and the fire came down to devour them but it did not devour them. He said: 'Some of you misappropriated the spoils of war, so one man from each tribe should give me his pledge of allegiance.' They all did so and the hand of one man stuck to his hand, so he said: 'Your tribe is guilty of misappropriation of the spoils of war. Let all the members of your tribe give their pledge of allegiance to me.' They did so and the hands of two or three men stuck to his hand. He said: 'You have taken something from the spoils of war illegally.' So they brought an amount of gold equal in size to the head of a cow. They placed it among the spoils so the fire approached and devoured them. The spoils of war were not made lawful for any people before us, then Allah made the spoils of war lawful for us when He saw our weakness and helplessness, so He made them lawful for us."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3288

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

نبی ﷺ نے انبیا علیہم الصلوۃ و السلام میں سے ایک نبی کے بارے میں بتایا کہ انھوں نے ایک قوم کے ساتھ جنگ کا ارادہ کیا، جن سے جہاد کا انھیں حکم دیا گیا تھا۔ لیکن آپ علیہ السلام نے ہر اس شخص کو جس نے کسی عورت سے نکاح کیا ہو، لیکن ابھی تک اس سے ہم بستری نہ کی ہو اور ہر اس شخص کو جس نے گھر تیار کیا ہو، لیکن ابھی تک اس کی چھت نہ رکھی ہو اور ہر اس آدمی کو جس نے کچھ بھیڑ بکریاں اور حاملہ اونٹنیاں خریدی ہوں اور ان کے بچے جننے کا منتظر ہو، ان سب کو (جہاد میں شرکت سے) روک دیا۔کیوںکہ ان کے دل ان چیزوں میں لگے ہوتے ہیں، جو ان کے لیے باعث دل چسبی ہیں۔ شادی شدہ آدمی کی توجہ اپنی بیوی پر ہوتی ہے،جس سے اس نے ابھی تک مباشرت نہ کی ہو۔ وہ اس کے لیے مشتاق رہتا ہے۔ اسی طرح وہ شخص جس نے گھر کی دیواریں تو اٹھا لی ہوتی ہیں، لیکن اس کی چھت نہیں ڈالی ہو، اس کا ذہن بھی اپنے گھر پر لگا ہوتا ہے، جس میں وہ اور اس کے اہل خانہ رہائش پذیر ہونا چاہتے ہیں۔اسی طرح حاملہ اونٹنیوں اور بھیڑ بکریوں کے مالک کا دل بھی ان میں لگا ہوتا ہے اور وہ ان کے بچے جننے کا منتظر ہوتا ہے۔
جہاد کے لیے تو انسان کو بالکل فارغ ہونا چاہیے، بایں طور کہ جہاد کے سوا اسے کوئی اور فکر نہ ہو۔ پھر اس نبی نے جنگ کی اور اس قوم پر نماز عصر کے بعد حملہ کیا۔ رات قریب آ رہی تھی، چنانچہ انھیں اندیشہ لاحق ہوا کہ اگر رات کی تاریکی چھا گئی، تو فتح حاصل نہ ہوسکے گی۔ اس لیے انھوں نے سورج سے مخاطب ہو کر فرمایا: "تو بھی حکم کا پابند ہے اور میں بھی حکم کا پابند ہوں"۔ تاہم سورج کا حکم تکوینی حکم تھا اور اللہ کی طرف سے اس نبی کو جو حکم تھا وہ تشریعی تھا۔
نبی کو جہاد کرنے کا حکم تھا اور سورج مامور تھا کہ جہاں اللہ نے حکم دیا، اس طرف رواں دواں رہے۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے: الشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ" (يس: 38)
ترجمہ: اور سورج کے لیے جو مقرره راه ہے، وه اسی پر چلتا رہتا ہے۔۔ یہ غالب باعلم اللہ تعالی کا مقرر کردہ اندازہ ہے۔
جب سے اللہ نے اسے پیدا کیا ہے، یہ جہاں کا حکم ہے، وہاں چلا جا رہا ہے، بایں طور کہ نہ تو آگے پیچھے ہوتا ہے اور نہ ہی اوپر نیچے۔
اس نبی نے دعا کی: ”اے اللہ!ہمارے لیے اسے اپنی جگہ روک دے“۔ چنانچہ اللہ تعالی نے سورج کو روک دیا اور وہ اپنے وقت پر غروب نہ ہوا، یہاں تک کہ اس نبی نے جنگ کر لی اور بہت سارا مال غنیمت ان کے ہاتھ آیا۔ سابقہ امتوں میں جنگ میں شریک ہونے والوں کے لیے اموال غنیمت حلال نہیں تھے، بلکہ اموال غنیمت کا حلال ہونا صرف اور صرف اس امت کی خصوصیت ہے۔ و للہ الحمد۔ جب کہ سابقہ امتوں کے لوگ مال غنیمت کو اکٹھا کرتےاور اگر اللہ کہ ہاں یہ مقبول ہوتا، تو ایک آگ نازل ہو کر اسے جلا ڈالتی۔ اس نبی کو جب مال غنیمت حاصل ہوا اور وہ جمع کیا گیا، تو آگ نے نازل ہو کر اسے نہ جلایا۔ اس پر یہ نبی کہنے لگے: ”تم میں سے کسی نے مال غنیمت میں چوری کی ہے“۔
پھر انھوں نے حکم دیا کہ ہر قبیلے میں سے ایک آدمی آگے آ کر اس بات پر ان سے بیعت کرے کہ انھوں نے چوری نہیں کی ہے۔ جب انھوں سے اس بات پر بیعت کرنا شروع کیا کہ انھوں نے چوری نہیں ہے تو اس دوران ان میں سے ایک آدمی کا ہاتھ نبی علیہ الصلوۃ و السلام کے ہاتھ میں چپک گیا ۔ہاتھ چپکنے پر انھوں نے فرمایا: "چوری تم میں ہے"۔ یعنی اس قبیلہ والوں نے چوری کی ہے۔ پھر آپ علیہ السلام نے حکم دیا کہ اس قبیلے میں سے ہر کوئی الگ الگ بیعت کرے۔ اس پر ان میں سے دو یا تین آدمیوں کے ہاتھ چپک گئے۔ اس نبی نے فرمایا: ”چوری تمھارے اندر ہے“۔ چنانچہ وہ لوگ چوری شدہ مال لے کر آئے۔ انھوں نے سونے سے بنی بیل کے سر کی مانند ایک شے چھپا رکھی تھی۔ جب اسے لا کر مال غنیمت میں رکھ دیا گیا تو آگ نے اسے جلا دیا۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) recounts the story of one of the prophets (peace be upon them) who set forth to fight a people against whom he was commanded to make Jihad. However, that prophet forbade from marching with him anyone who had married a woman but had not yet consummated his marriage with her or who had built a house but had not yet raised its roof or who had purchased sheep or pregnant she-camels and was waiting for them to give birth. That is because those people would be preoccupied with those concerns: the married man is preoccupied with his bride whom he has not yet consummated his marriage with and he longs for her. Likewise, the one who built a house and has not yet raised its roof is preoccupied with his house that he wishes to live in with his family. Also, the owner of pregnant she-camels and sheep is preoccupied with them and is waiting for them to give birth. Performing Jihad requires that the person be completely unoccupied, having no concern except fighting in the cause of Allah. Then, this prophet set out for battle, approaching his destination after midday with the night approaching. So, he feared that if darkness fell, he would not be able to achieve victory. He addressed the sun, saying: "You are subservient to Allah and so am I." But the sun's command is a universal command, while his command is a legislative one. He is commanded to fight in the cause of Allah, and the sun is commanded to move as Allah, the Exalted, has commanded it; Allah says: {And the sun runs on its fixed course for a term. That is the decree of the All-Mighty, the All-Knowing} [Sūrat Yāsīn: 38]. Ever since Allah created the sun, it has been moving as it was commanded, neither advancing nor delaying nor changing its altitude. The prophet said: "O Allah, hold it back (from setting) for us." So Allah held the sun back and it did not disappear at its normal time until that prophet conquered the village and gained many spoils of war. In previous nations, the spoils of war were not lawful for the army; rather, the lawfulness of spoils is one of the distinct characteristics of this (Muslim) nation, and all praise is due to Allah. As for the previous nations, they used to gather all the spoils, and if Allah accepted them, a fire would come down from the sky and devour them. Hence, the spoils were gathered, but the fire did not descend upon them or devour them. This prophet then said: "There is some misappropriation of the spoils." Then he commanded that each tribe present one person to pledge allegiance to him, proving that his tribe had not been dishonest with regard to the booty. When they gave him their pledge of allegiance, the hand of one of them stuck to the prophet's hand. Thereupon, he said: "Your tribe is the source of misappropriation." Then he commanded that each person from that tribe pledge allegiance individually, and the hands of two or three men stuck to his, whereupon he said: "You are the misappropriators." Then they brought it out, and they had hidden an amount of gold as big as the size of a bull's head. When the gold was brought and placed with the spoils, the fire devoured them.

Topics موضوعات