مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ اس کے ہر کام میں اس کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ جب کہ ایسا مومن کے علاوہ کسی اور کے لیے…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3298Sahih Muslim (HadeethEnc 3298)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مومن کے احوال پر بطور استحسان تعجب فرما رہے ہیں۔ کیوں کہ اس کے سارے احوال خیر کے حامل ہیں۔ جب کہ یہ شرف مومن کے علاوہ کسی اور کو حاصل نہيں ہے۔ اگر اسے خوشیاں ملتی ہیں اور وہ اللہ کا شکر بجا لاتا ہے، تو اسے شکر کی وجہ سے اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے۔ جب کہ اگر اسے تکلیف کا سامنا ہوتا ہے اور وہ اسے اللہ کے یہاں اجر و ثواب کا ذریعہ سمجھتا ہے، تو اسے صبر کی بنا پر اجر و ثواب ملتا ہے۔ اس طرح اس کا دامن ہر حال میں اجر و ثواب سے بھرا رہتا ہے۔
حدیث کے فوائد
- آسودہ حالی پر شکر کرنے اور تنگ حالی پر صبر کرنے کی فضیلت۔ جس نے یہ دونوں کام کر لیے، اسے دونوں جہان کی خیر حاصل ہو گئی۔ اس کے برخلاف جس نے نعمت پر شکر ادا نہیں کیا اور مصیبت پر صبر نہيں کیا، وہ اجر و ثواب سے محروم اور گناہ کا حق دار رہے گا۔
- ایمان کی فضیلت۔ ہر حال میں اجر و ثواب صرف اہل ایمان ہی کو حاصل ہو سکتا ہے۔
- خوش حالی کے وقت شکر کرنا اور تنگ حالی کے وقت صبر کرنا اہل ایمان کا شیوہ ہے۔
- قضا و قدر پر ایمان انسان کو تمام احوال میں رضائے کامل کی راہ پر گامزن رکھتا ہے۔ جب کہ غیر مومن کی حالت اس سے بالکل الگ ہوتی ہے۔ کوئی نقصان ہو جائے تو ناراض اور نعمت مل جائے تو اس میں مست ہوکر اللہ کی عبادت سے دور ہو جاتا ہے اور اسے نافرمانی کے کاموں میں خرچ کرنے لگتا ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) expresses wonder, by way of admiration, at the believer's affairs and conditions because all of his conditions are good, and this is for none except the believer. Whenever something good happens to him, he thanks Allah for it and gets rewarded for showing gratitude. If something bad happens to him, he shows patience and seeks reward from Allah and, thus, gets rewarded for showing patience. So, he gets rewarded in all cases.