لڑکے کی کہانی، بادشاہ، جادوگر اور راہب کے ساتھ
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
فَبَينَما هو عَلَى ذلِك إِذ أَتَى عَلَى دَابَّةٍ عَظِيمَةٍ قَد حَبَسَت النَّاسَ، فَقَال: اليومَ أعلَمُ السَّاحرُ أفضَلُ أم الرَّاهبُ أفضَل؟ فَأخَذَ حَجَرا، فَقَالَ: اللَّهُم إن كَانَ أمرُ الرَّاهِبِ أَحَبَّ إليكَ مِن أمرِ السَّاحِرِ فَاقتُل هذه الدّابَّة حَتَّى يَمضِي النَّاسُ، فَرَمَاهَا فَقَتَلَها ومَضَى النَّاسُ، فَأتَى الرَّاهبَ فَأَخبَرَهُ. فَقَالَ لَهُ الرَّاهبُ: أَي بُنَيَّ أَنتَ اليومَ أفضَل منِّي قَد بَلَغَ مِن أَمرِكَ مَا أَرَى، وَإنَّكَ سَتُبْتَلَى، فَإن ابتُلِيتَ فَلاَ تَدُلَّ عَلَيَّ؛ وَكانَ الغُلامُ يُبرِىءُ الأكمَهَ وَالأَبرصَ، ويُداوي النَّاس من سَائِرِ الأَدوَاء، فَسَمِعَ جَليس لِلملِكِ كَانَ قَد عَمِيَ، فأتاه بَهَدَايا كَثيرَة، فَقَالَ: مَا ها هُنَا لَكَ أَجمعُ إن أنتَ شَفَيتَنِي، فقال: إنّي لا أشْفِي أحَدًا إِنَّمَا يَشفِي اللهُ تَعَالَى، فَإن آمَنتَ بالله تَعَالَى دَعَوتُ اللهَ فَشفَاكَ، فَآمَنَ بالله تَعَالَى فَشفَاهُ اللهُ تَعَالَى، فَأَتَى المَلِكَ فَجَلسَ إليهِ كَما كَانَ يَجلِسُ، فَقَالَ لَهُ المَلِكُ: مَن رَدّ عليكَ بَصَرَكَ؟ قَالَ: رَبِّي، قَالَ: وَلَكَ رَب غَيري؟ قَالَ: رَبِّي وَرَبُّكَ اللهُ، فَأَخَذَهُ فَلَم يَزَل يُعَذِّبُهُ حَتَّى دَلَّ عَلَى الغُلامِ، فَجيء بالغُلاَمِ، فَقَالَ لَهُ المَلِك: أيْ بُنَيَّ، قد بَلَغَ مِن سِحرِك مَا تُبْرىء الأكمَهَ وَالأَبْرَصَ وتَفعل وتَفعل؟! فَقَالَ: إنِّي لا أَشفي أحَدًا، إِنَّمَا يَشفِي الله تَعَالَى. فَأَخَذَهُ فَلَم يَزَل يُعَذِّبُهُ حَتَّى دَلَّ عَلَى الرَّاهبِ؛ فَجِيء بالرَّاهبِ فَقيلَ لَهُ: ارجِع عن دينكَ، فَأَبى، فَدَعَا بِالمنشَار فَوُضِعَ المِنشارُ في مَفْرق رأسه، فَشَقَّهُ حَتَّى وَقَعَ شِقَّاهُ، ثُمَّ جِيءَ بِجَليسِ المَلِكِ فقيل لَهُ: ارجِع عن دِينِك، فَأَبَى، فَوضِعَ المِنشَارُ في مَفْرِق رَأسِه، فَشَقَّهُ بِهِ حَتَّى وَقَعَ شِقَّاهُ، ثُمَّ جِيءَ بالغُلاَمِ فقيلَ لَهُ: ارجِع عَن دِينكَ، فَأَبَى، فَدَفَعَهُ إِلَى نَفَر مِن أصحَابه، فَقَالَ: اذهبوا بِه إِلى جَبَلِ كَذَا وَكَذَا فَاصعَدُوا بِهِ الجَبَل، فَإِذَا بَلَغتُم ذِرْوَتَهُ فَإِن رَجَعَ عَن دِينِهِ وَإلاَّ فَاطرَحُوهُ. فَذَهَبُوا بِهِ فَصَعِدُوا بِهِ الجَبَلَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ أكْفنيهم بِمَا شِئْتَ، فَرَجَفَ بهِمُ الجَبلُ فَسَقَطُوا، وَجاءَ يَمشي إِلَى المَلِكِ، فَقَالَ لَهُ المَلِكُ: مَا فَعَلَ أصْحَابُكَ؟ فَقَالَ: كَفَانِيهمُ الله تَعَالَى، فَدَفَعَهُ إِلَى نَفَر مِن أَصحَابِه فَقَالَ: اذهَبُوا بِهِ فاحمِلُوهُ في قُرْقُورٍ وتَوَسَّطُوا بِهِ البَحر، فَإن رَجعَ عَن دِينِه وإِلاَّ فَاقْذِفُوه. فَذَهَبُوا بِهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اكْفِنيهم بمَا شِئتَ، فانكَفَأَت بِهمُ السَّفينةُ فَغَرِقُوا، وَجَاء يمشي إِلَى المَلِكِ. فقال له الملِك: ما فعلَ أصحابك؟ فَقَالَ: كَفَانيهمُ الله تَعَالَى. فَقَالَ لِلمَلِكِ: إنَّكَ لست بقاتلي حتى تفعل ما آمُرُكَ به. قَالَ: ما هو؟ قَالَ: تجمع الناس في صعيد واحد وتَصْلبني على جِذع، ثم خُذ سهمًا من كِنَانَتي، ثم ضَعِ السهم في كَبدِ القوس ثم قل: بسم الله رب الغلام، ثم ارْمِني، فإنَّكَ إِذَا فَعَلت ذلك قَتَلتَني، فَجَمَعَ النَّاسَ في صَعيد واحد، وَصَلَبَهُ عَلَى جِذْع، ثُمَّ أَخَذَ سَهْمًا من كِنَانَتِهِ، ثم وضع السهم في كَبِدِ القوس، ثم قَالَ: بسم الله رب الغلام، ثم رَمَاهُ فَوقَعَ في صُدْغِهِ، فَوَضَعَ يَدَهُ في صُدْغِهِ فمات، فقال الناس: آمَنَّا بِرَبِّ الغُلامِ، فأتي المَلِكُ فقيلَ لَهُ: أَرَأَيْتَ مَا كنت تَحْذَرُ قَد والله نَزَلَ بكَ حَذَرُكَ، قد آمَنَ الناس. فأَمَرَ بِالأُخْدُودِ بأفْواهِ السِّكَكِ فَخُدَّتْ وأُضْرِمَ فيها النِّيرانُ وقال: من لم يَرْجِع عن دينه فأقحموه فيها، أو قيلَ لَهُ: اقتَحِم فَفَعَلُوا حَتَّى جَاءت امرأة ومعَها صَبيٌّ لها، فتَقَاعَسَت أن تَقَع فيها، فقال لها الغُلام: يا أمه اصبِري فإنَّكِ َعلى الحقِّ».
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3303Sahih Muslim (HadeethEnc 3303)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اس حدیث میں ایک عجیب وغریب قصّے کا بیان ہے اور وہ یہ کہ سابقہ زمانہ میں ایک بادشاہ تھا جس کے پاس ایک جادوگر تھا، بادشاہ نے اس جادوگر کو اپنا خاص مشیر بنا رکھا تھا تاکہ اسے اپنے مقاصد میں استعمال کرے گرچہ وہ دین کی بنیاد پر ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ یہ بادشاہ اپنے ذاتی مقاصد کا خاص دھیان رکھتا تھا اور وہ ظالم بادشاہ تھا جو لوگوں کو اپنی عبادت کے لیے بھی مجبور کرتا تھا۔ یہ جادوگر جب بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں تو آپ میرے ساتھ ایک لڑکے کو بھیج دیں تاکہ میں اسے جادو سکھا سکوں۔ جادوگر نے لڑکے کا انتخاب کیا کیونکہ لڑکا تعلیم حاصل کرنے اہل اور زیادہ مناسب ہوتا ہے اور وہ جب کوئی چیز سیکھتا ہے تو جلدی نہیں بھولتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس لڑکے کے ساتھ اچھائی کا ارادہ کیا، چنانچہ اس لڑکے کا گزر ایک دن ایک راہب کے پاس سے ہوا اور اس نے اس کی باتیں سنیں جو اس کو پسند آئیں، کیونکہ یہ راہب یعنی عبادت گزار اللہ کی عبادت کرتا اور صرف اچھی باتیں بولتا اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی عبادت گزار عالم ہو لیکن اس پر رہبانیت کا غلبہ تھا، اسی لیے اس کا نام راہب پڑا۔ چنانچہ یہ لڑکا جب گھر سے نکلتا اور راہب کے پاس بیٹھتا تو جادوگر کے پاس دیر سے پہنچتا تو جادوگر اس لڑکے کو مارتا کہ تو دیر سے کیوں آتا ہے؟ لڑکے نے اس کی شکایت راہب سے کی اور مار سے بچنے کا نسخہ دریافت کیا، راہب نے کہا کہ جب تو جادوگر کے پاس جائے اور مار کا ڈر ہو تو کہہ دیا کرنا کہ مجھے میرے گھر والوں نے روک لیا تھا اورجب تو گھر والوں کے پاس جائے اور تاخیر کی وجہ پوچھیں تو کہہ دینا کہ مجھے جادوگر نے روک لیا تھا، اس طرح تو دونوں کی ڈانٹ سے محفوظ ہوجائے گا ـــــــ اللہ ہی بہتر جانے ــــــــ راہب نے اس لڑکے کو ایسا کرنے کے لیے کہا جب کہ وہ جھوٹ تھا، شاید اس نے یہ سوچا ہوگا کہ اس میں جو مصلحت پوشیدہ ہے وہ جھوٹ کے نقصان پر غالب ہے، یا پھر اس کا ارادہ توریہ اور معنوی طور پر روکنے کا رہا ہے۔ لڑکے نے ایسا ہی کیا اور اس قابل ہوگیا کہ وہ راہب کے پاس آتا اور اس کی باتیں سنتا اور پھر جادوگر کے پاس جاتا، جب جادوگر اپنے پاس دیر سے آنے پر اس کو سزا دیتا تو کہتا کہ میرے گھر والوں نے مجھے روک لیا تھا اور جب گھر لوٹتا اور راہب کے پاس دیر ہوجاتی تو کہتا ہے کہ جادوگر نے روک لیا تھا۔
ایک دن ایک بہٹ بڑا جانور شیر گزرا اور اس نے لوگوں کا راستہ روک لیا، لڑکا اس طرف آیا تو اس نے کہا میں آج آزمانا چاہوں گا کہ جادوگر میرے لیے افضل ہے یا راہب بہترہے، اورپھر ایک پتھر لیا اور کہنے لگا: اے اللہ! اگر راہب کا معاملہ میرے لیے بہتر ہے تو اس پتھر سے یہ جانور مرجائے، پھر اس کو پتھر سے مارا تو وہ جانور مرگیا اور لوگ گزرنے لگے۔
اور لڑکے نے جان لیا کہ راہب کا معاملہ جادوگر کے بالمقابل اس کے حق میں بہتر ہے۔ پھر لڑکے نے راہب کو اس کی خبر دی تو راہب نے اس لڑکے سے کہا: آج تو مجھ سے افضل ہے، یقیناً تیرا رتبہ یہاں تک پہنچا جو میں دیکھتا ہوں اور تو عنقریب آزمایا جائے گا،اور اگر تو آزمایا جائے تو میرا نام نہ بتلانا۔
(اس لڑکے کا حال یہ تھا کہ) وہ مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو صحیح کردیتا تھا بلکہ لوگوں کی ہر بیماری کا علاج بھی کردیتا تھا۔ بادشاہ کا ایک ہم نشین اندھا ہوگیا اس نے لڑکے کے بارے میں سنا تو وہ بہت سے تحفائف لے کراس کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ اگر تم مجھے شفا دے دو تو یہ سارے تحائف جو میں یہاں لے کر آیا ہوں وہ تمہارے لیے ہوجائیں گے، اس لڑکے نے کہا کہ میں تو کسی کو شفا نہیں دے سکتا، شفا تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے، اگر تم اللہ پر ایمان لے آؤ تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ تمہیں شفا دے دے، پھر وہ (شخص) اللہ پر ایمان لے آیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے شفا عطا فرمادی۔پھر اس اندھے آدمی کو لایا گیا جوکہ بادشاہ کا ہم نشین تھا، وہ اللہ پر ایمان لے آیا اور بادشاہ پر ایمان لانے سے انکار کردیا، بادشاہ نے اس سے کہا کہ وہ اپنے دین سے پھر جائے لیکن لڑکے نے انکار کردیا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ (مشکل حالات میں) انسان کو صبر سے کام لینا چاہیے۔ پھر راہب کو لایا گیا اور اس سے کہا گیا کہ تو اپنے مذہب سے پھرجا، راہب نے انکار کردیا۔ اس پر بادشاہ نے آرا منگوا کر اس کے سر کی مانگ پر رکھوایا اور اسے چروا کر دو ٹکڑے کروادیا۔ پھر اس لڑکے کو بلوایا گیا، وہ آیا تو اس سے بھی یہی کہا گیا کہ اپنے مذہب سے پھرجا۔ اس نے بھی انکار کردیا تو بادشاہ نے اس لڑکے کو اپنے کچھ ساتھیوں کے حوالے کرکے کہا: اسے فلاں پہاڑ پر لے جاؤ اور اسے اس پہاڑ کی چوٹی پر چڑھاؤ، اگر یہ اپنے مذہب سے پھر جائے تو اسے چھوڑ دینا اور اگر انکار کردے تو اسے پہاڑ کی چوٹی سے نیچے دھکیل دینا۔ چنانچہ بادشاہ کے ساتھی اس لڑکے کو پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے تو اس لڑکے نے کہا: اے اللہ! تو میرے لیے اُن کے بالمقابل کافی ہے، جس طرح تو چاہے مجھے ان سے بچالے۔ اس پہاڑ پر فوراً ایک زلزلہ آیا جس سے بادشاہ کے وہ سارے ساتھی گرگئے اور وہ لڑکا چلتے ہوئے بادشاہ کی طرف آگیا۔ بادشاہ نے اس لڑکے سے پوچھا کہ تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ لڑکے نے کہا: اللہ پاک نے مجھے ان سے بچالیا ہے۔پھر بادشاہ نے اس کو اپنے چند ساتھیوں کے حوالے کیا اور کہا کہ اس کو ایک کشتی میں دریا کے اندر لے جاؤ، اگر اپنے دین سے پھر جائےتو خیر، ورنہ اس کو دریا میں دھکیل دینا۔ وہ لوگ اس کو لے گئے، لڑکے نے کہا کہ اے اللہ! تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچا لے، چنانچہ وہ کشتی بادشاہ کے ان ساتھیوں سمیت الٹ گئی اور وہ سارے کے سارے غرق ہوگئے اور وہ لڑکا چلتے ہوئے بادشاہ کے پاس پہنچا۔بادشاہ نے اس لڑکے سے کہا کہ تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بچا لیا ہے، پھر لڑکے نے بادشاہ سے کہا کہ تو مجھے اس وقت تک نہ مارے سکے گا جب تک کہ جو طریقہ میں بتلاؤں وہ نہ کرے، بادشاہ نے کہا کہ وہ کیا ہے؟ اس لڑکے نے کہا کہ سارے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرو اور مجھے سولی کے تختے پر لٹکاؤ پھر میرے ترکش سے ایک تیر نکالو اور اس تیر کو کمان کے بیچ میں رکھو اور پھر کہو: اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے، پھر مجھے تیر مارو اگر تم اس طرح کرو تو مجھے قتل کرسکتے ہو! چنانچہ بادشاہ نے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کیا اور پھر اس لڑکے کو سولی کے تختے پر لٹکادیا، پھر اس کے ترکش میں سے ایک تیر لیا اور اس تیر کو کمان کے بیچ میں رکھ کر کہا کہ اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے، پھر وہ تیر اس لڑکے کو مارا تو وہ تیر اس لڑکے کی کنپٹی میں جا گھسا، تو لڑکے نے اپنا ہاتھ تیر لگنے والی جگہ پر رکھا اور مر گیا، (یہ دیکھ کر) سب لوگوں نے کہا کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے، ہم اس لڑکے کے رب پرایمان لائے، ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے۔ بادشاہ آیا اور اس سے کہا گیا کہ: جس سے ڈر رہے تھے وہی ہوا یعنی لوگ ایمان لے آئے۔ چنانچہ بادشاہ نے راستوں کے دروازوں پر خندق کھودنے کا حکم دے دیا۔ پھر خندق کھودی گئی اور ان خندقوں میں آگ جلادی گئی، بادشاہ نے کہا: جو شخص اس دین سے (یعنی لڑکے کے دین سے) نہ پھرے اسے خندقوں میں دھکیل دو، یا اس سے کہا جائے کہ ان خندقوں میں داخل ہو۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا، یہاں تک کہ ایک عورت آئی جس کی گود میں اس کا بچہ بھی تھا، وہ عورت (بچے کی وجہ سے) آگ میں کودنے سے پیچھے ہٹی تو بچے نے کہا کہ: اے امی جان صبر کر! اس لیے کہ تو حق پر ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed that there was once a king among the nations before us, and he had a magician. When the magician grew old, he said to the king: I have become old, so send me a young man whom I can teach magic. So, the king sent him a young man, who, on his way to the magician, met a monk. He sat with him once, listened to his words and admired him. Whenever he went to the magician, he used to sit with the monk, then on reaching the magician, the latter would beat him for being late. So, the boy complained this to the monk, who said to him: Whenever you are afraid of the magician, tell him that your family detained you. And whenever you are afraid of your family, tell them that the magician detained you. So the boy carried on like that (for some time). Then a huge, terrible beast once appeared on the road, and the people were unable to pass. The boy said: Today I shall know whether the magician is better or the monk. So, he took a stone and said: O Allah, if the affair of the monk is better in Your Sight than that of the magician, then kill this beast so that the people can cross (the road). Then he struck it with a stone and killed it, and the people passed the road. The boy came to the monk and informed him about it. The monk said to him: O my son, today you are better than me, and you have achieved what I see! You will be put on trial. And in case you are put to trial, do not inform (them) about me. The boy used to treat the people who suffered from congenital blindness, leprosy, and other diseases with the permission of Allah. There was a courtier of the king who had become blind. He came and brought many gifts to the boy and said: All these gifts are for you on the condition that you cure me. He said: I do not cure anybody; it is only Allah who cures people. So, if you believe in Allah, I shall supplicate Allah, and He will cure you. So, he believed in Allah, and Allah cured him. Later, the courtier came to the king and sat in the place where he used to sit before. The king said: Who gave you back your sight? He said: My Lord. He said: Do you have another Lord besides me?! He said: My Lord and your Lord is Allah. The king took him and kept on torturing him until he told him about the boy. So, the boy was brought to the king, who said to him: O boy, your magic reached the extent that you cure congenital blindness, leprosy, and other diseases. He said: Indeed, I do not cure anyone. Only Allah can cure. So, he tortured him extensively until he told him about the monk. Then the monk was brought to the king, who said to him: Renounce your religion. The monk refused. So, the king ordered a saw to be brought and placed on the middle of his head, and he fell, sawn in two halves. Then the courtier of the king was brought, and it was said to him: Renounce your religion. He refused to do so, and so a saw was brought and placed on the middle of his head, and he fell, sawn in two halves. Then the boy was brought, and it was said to him: Renounce your religion. He refused, and so the king sent him to some of his followers, between three and ten in number. He said to them: Ascend the mountain with him till you reach its top, then see if he abandons his religion; otherwise, throw him from the top. They took him and ascended the mountain. The boy said: O Allah, save me from them by any means You wish. So, the mountain shook and quaked violently, and they all fell down, and the boy came back walking to the king. The king said: What did your companions do? He said: Allah saved me from them. So he handed him over to another group of his men and said: Take him away, load him onto a small boat until you reach the middle of the sea. If he renounces his faith, then good. Otherwise, throw him into the sea. So they took him away. He said: O Allah, save me from them by any means You wish. Suddenly, their boat capsized, drowning them all, and he walked back to the king. The king said to him: What did your companions do? The boy replied: Allah saved me from them. Then he said to the king: You will not be able to kill me until you do as I order you. He said: And what is that? The boy said: Gather the people in an open space. Crucify me on a tree trunk. Then take an arrow from my quiver, place it in the bow’s grip, and say: In the Name of Allah, Lord of the boy. Then shoot me—for if you do so, you will kill me. So he assembled the people in one place, crucified him on a trunk, took an arrow from his quiver, placed it in the bow’s center, and said: In the Name of Allah, Lord of the boy. Then he shot him—the arrow struck his temple between his eye and ear. The boy placed his hand on the wound and died. The people said: We believe in the Lord of the boy, we believe in the Lord of the boy, we believe in the Lord of the boy. Then it was said to the king: Do you see what you feared? By Allah, what you feared has indeed come to pass. The people followed the boy and all believed in his Lord. So the king ordered great, elongated trenches to be dug at the crossroads, lit with raging fires, and commanded: Whoever does not renounce his religion—throw him in it. They carried out his orders until a woman came with her child. She hesitated, frozen in place, reluctant to enter the fire. Then her child said to her: O mother, be patient! For indeed, you are upon the truth.