Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim صحیح بخاری · صحیح مسلم

میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا۔ جب آپ ﷺ مکہ تشریف لاتے، تو پہلے طواف شروع کرتے وقت حجر اسود کو بوسہ دیتے اور سات…

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: « تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الوَدَاع بالعُمرَة إلى الحج وأهدَى، فَسَاقَ مَعَهُ الهَدْيَ مِن ذِي الحُلَيفَة، وَبَدَأَ رَسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَهَلَّ بالعمرة، ثُمَّ أَهَلَّ بالحج، فَتَمَتَّعَ النَّاس مع رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَهَلَّ بالعمرة إلَى الحج، فَكَان مِن النَّاس مَنْ أَهْدَى، فَسَاقَ الهَدْيَ مِن ذي الحُلَيفَة، وَمِنهُم مَنْ لَمْ يُهْدِ، فَلَمَّا قَدِمَ رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم قَالَ للنَّاس: مَنْ كَانَ مِنكُم أَهْدَى، فَإِنَّهُ لا يَحِلُّ مِن شَيء حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ، وَمَن لَم يَكُن أَهْدَى فَلْيَطُفْ بالبَيت وَبالصَّفَا وَالمَروَة، وَلْيُقَصِّر وَلْيَحْلِل، ثُمَّ لِيُهِلَّ بالحج وليُهدِ، فَمَن لم يجد هَدْياً فَلْيَصُم ثَلاثَةَ أَيَّام فِي الحج وَسَبعة إذَا رَجَعَ إلى أَهلِهِ فَطَافَ رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ، وَاستَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَيْءٍ، ثُمَّ خَبَّ ثَلاثَةَ أَطْوَافٍ مِنْ السَّبْعِ، وَمَشَى أَربَعَة، وَرَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بالبيت عِند المَقَام رَكعَتَين، ثُمَّ انصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا، وطاف بِالصَّفَا وَالمَروَة سَبعَةَ أَطوَاف، ثُمَّ لَم يَحلِل مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ منه حَتَّى قَضَى حَجَّهُ، وَنَحَرَ هَدْيَهُ يوم النَّحرِ، وَأَفَاضَ فَطَافَ بالبيت، ثُمَّ حَلَّ مِن كُلِّ شَيء حَرُمَ مِنهُ، وَفَعَلَ مِثل مَا فَعَلَ رَسول اللَّه صلى الله عليه وسلم : مَن أَهدَى وَسَاقَ الهَديَ مِن النَّاسِ».
«رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ يَقْدَمُ مكَّة إذا اسْتَلَمَ الرُّكْنَ الأَسْوَدَ -أَول ما يَطُوفُ- يَخُبُّ ثَلاثَةَ أَشْوَاطٍ».
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں عمرہ کو حج کے ساتھ ملا کر تمتع کیا اور ذوالحلیفہ کے مقام سے ہدی (قربانی) کا جانور ساتھ لے لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے عمرہ کا تلبیہ پڑھا پھر اس کے بعد حج کا تلبیہ پڑھا۔ لوگوں نے بھی رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ عمرہ کو حج کے ساتھ ملا کر تمتع کیا۔ بعض لوگ قربانی کے جانور اپنے ساتھ لائے تھے، چنانچہ وہ ذو الحلیفہ سے انہیں لیکر چلے اور بعض وہ تھے جو قربانی کا جانور اپنے ساتھ نہیں لائے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ (مکہ) پہنچ گئے تو لوگوں سے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص قربانی کا جانور ساتھ لایا ہے، اس کے لئے کوئی حرام چیزحلال نہیں ہے جب تک کہ وہ حج کو پورا نہ کرلے اور جو شخص قربانی کا جانور ساتھ نہ لایا ہے تو وہ (عمرہ کے لئے) خانہ کعبہ کا طواف کرے، صفا و مروہ کے درمیان سعی کرے اوربال کتروا کر (عمرہ کا) احرام کھول دے (یعنی جو چیزیں حالت احرام میں ممنوع تھیں انہیں مباح کر لے) اور اس کے بعد حج کے لئے دوبارہ احرام باندھے اور قربانی کرے۔ جس شخص کو قربانی کا جانور میسر نہ ہو وہ ایام حج میں تین روزے رکھے اورسات روزے تب رکھےجب وہ اپنے اہل و عیال میں واپس پہنچ جائے۔ بہر کیف رسول اللہ ﷺ نے مکہ پہنچ کر (عمرہ کے لئے) خانہ کعبہ کا طواف کیا اور سب سے پہلےحجر اسود کو استلام کیا۔ پھر طواف کے سات چکروں میں سے تین چکروں میں رمل فرمایا (یعنی تیز رفتاری سے چلے) اور باقی چار چکروں میں اپنی معمول حالت میں چلے، پھر خانہ کعبہ کے گرد طواف پورے کرنے کے بعد مقام ابراہیمی پر دو رکعت نماز پڑھی۔ اس کے بعد (خانہ کعبہ) سے لوٹ کر صفاء پر آئے اور صفا و مروہ کے درمیان سات چکر لگائے۔ پھر ان چیزوں میں سے کسی کو اپنے اوپر حلال نہیں فرمایا جن کو احرام کی وجہ سے اپنے اوپر حرام کیا تھا (یعنی احرام سے باہر نہ آئے) یہاں تک کہ آپ ﷺاپنے حج سے فارغ ہوگئے اور قربانی کے دن اپنی قربانی ذبح کی اور پھر مکہ واپس لوٹ آئے اور طواف افاضہ کیا اور ان چیزوں کو جن کو احرام کی وجہ سے اپنے اوپر حرام کیا تھا حلال کرلیا اور لوگوں میں سے جو لوگ اپنے ساتھ قربانی لائے تھے انہوں نے بھی اسی طرح کیا جس طرح رسول اللہ ﷺ نے کیا۔
(ایک اور روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ) میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ ﷺ مکہ تشریف لائے تو طواف شروع کرتے وقت پہلے حجر اسود کو استلام کیا اور (طواف کے سات چکروں میں سے) تین چکروں میں رمل کیا۔
‘Abdullāh ibn ‘Umar (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) performed both ‘Umrah and Hajj in his Farewell Hajj, performing ‘Umrah first and then Hajj, and offered a sacrificial animal. He drove his sacrificial animals with him from Dhu al-Hulayfah. The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) started by assuming Ihrām for ‘Umrah, and after that, he assumed Ihrām for Hajj. And the people too performed ‘Umrah and Hajj with him. So he assumed Ihrām for ‘Umrah first and stayed in Makkah until Hajj. There were some people who brought sacrificial animals and drove them from Dhu al-Hulayfah, while others did not. When the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) arrived, he said to the people: "Whoever among you has brought the sacrificial animal should not do anything prohibited on account of Ihrām until he ends his Hajj. And whoever among you has not brought the sacrificial animal should make Tawāf around the Ka‘bah, make Sa‘i between Safa and Marwah, shorten his hair, and end his Ihrām. Thereafter, he must offer a sacrificial animal. If anyone cannot afford a sacrificial animal, he should fast three days during Hajj and seven days when he returns home." The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) performed Tawāf around the Ka‘bah on his arrival (at Makkah). He touched the corner (the Black Stone) first of all and then walked briskly during the first three rounds and normally during the last four ones. Then, he offered a two-Rak‘ah prayer at the Station of Ibrahīm, after which he went to Safa and Marwah and performed seven rounds of Sa‘ibetween them. He did not do anything prohibited on account of Ihrām till he finished all the rituals of Hajj and slaughtered his sacrificial animal on the Day of Nahr (sacrifice). He then hastened (to Makkah) and performed Tawāf around the Ka‘bah. Upon doing this, everything that had been forbidden because of Ihrām became permissible for him. Those who took and drove the sacrificial animals with them did the same as the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him).
Ibn ‘Umar said: "I saw that when the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) arrived in Makkah, he would touch the Black Corner in the beginning of his Tawāf and walk briskly for three rounds."

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3309

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

نبی ﷺ جب اپنے اس حج کے لیے اہل مدینہ کے میقات ذو الحلیفہ کی طرف روانہ ہوئے، جس میں آپ ﷺ نے بیت اللہ، مناسکِ حج اور لوگوں کو الوداع کہا، لوگوں تک اپنا پیغام رسالت پہنچایا اور اس پر انھیں گواہ بنایا، تو آپ ﷺ نے عمرہ اور حج دونوں کی نیت سے احرام باندھا۔ آپ ﷺ حج قران کر رہے تھے۔ حج قران تمتع کہلاتا ہے۔ لوگوں نے بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمتع کیا۔ چنانچہ ان میں سے بعض نے تو عمرہ و حج دونوں کی نیت سے احرام باندھا اور بعض نے صرف عمرہ کے لیےاحرام باندھا اور اس سے فارغ ہونے کے بعد دل میں حج کی نیت رکھی، جب کہ کچھ لوگوں نے اکیلے حج کی نیت سے احرام باندھا۔ نبی ﷺ نے لوگوں کو ان تینوں صورتوں میں اختیار دیا تھاکہ وہ جیسے چاہیں، کر لیں۔ نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے کچھ صحابہ ذو الحلیفہ ہی سے اپنے ساتھ ہدی کا جانور لے کر چلے تھے، جب کہ بعض لوگوں نے ہدی کے جانور اپنے ساتھ نہیں لیے تھے۔ جب وہ مکہ کے قریب پہنچے، تو آپ ﷺ نے ان لوگوں کو جو ہدی کا جانور ساتھ نہیں لائے تھے اور انھوں نے یا تو اکیلے حج کی نیت کر رکھی تھی یا پھر عمرہ و حج دونوں کی نیت کے ساتھ احرام باندھا تھا، ترغیب دلائی کہ وہ حج کی نیت کو فسخ کرتے ہوئے اسے عمرہ بنا دیں۔ جب انھوں نے طواف اور سعی کر لی، تو آپ ﷺ نے انھیں تاکید فرمائی کہ اپنے بال کتروا کر عمرہ کا احرام کھول دیں اور پھر حج کے لیے احرام باندھیں اور قربانی دیں؛ کیوںکہ انھوں نے ایک ہی سفر میں دو عبادتیں کی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جسے قربانی کا جانور دستیاب نہ ہو، وہ دس دن روزے رکھے۔ تین دن ایام حج میں۔ ان کا وقت تب سے شروع ہو جاتا ہے، جب آدمی عمرہ کے لیے احرام باندھتا ہے اور سات اس وقت رکھے، جب اپنے گھر والوں کے پاس واپس لوٹ آئے۔
نبی ﷺ جب مکہ تشریف لائے، تو حجر اسود کو استلام کیا اور کعبہ کےگرد سات چکر لگائے۔ تین میں رمل کیا؛ کیوںکہ یہ مکہ آنے کے فورا بعد کیا جانے والا طواف تھا اور چار چکروں کو چل کر پورا کیا۔ پھر مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز ادا کی۔ پھر صفا پر آئے اور اس کے اور مروہ کے مابین سات چکر لگائے؛ دونوں علامتوں کے درمیان آپ ﷺ دوڑتے اور باقی مسافت چل کر طے کرتے۔آپ ﷺ نے تب تک اپنا احرام نہیں کھولا، جب تک اپنا حج پورا کر کے یوم النحر میں قربانی ذبح نہیں کرلیا۔ جب آپ ﷺ اپنے حج، جمرہ عقبہ کی رمی، یوم النحر کو قربانی ذبح کرکے اور اپنے سر کو مونڈ کر فارغ ہو چکے،جسے تحلل اول کہا جاتا ہے، تو اس دن صبح کو بیت اللہ کی طرف لوٹ گئے اور اس کا طواف (یعنی طواف افاضہ) کیا۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے لیے ہر اس شے کو حلال کر لیا، جس سے آپ ﷺ (احرام کی وجہ سے) اجتناب کر رہے تھے، حتی کہ بیویوں سے مباشرت بھی۔ آپ ﷺ کے جو صحابہ اپنے ساتھ ہدی کا جانور لائے تھے، انھوں نے بھی ویسے ہی کیا، جیسے آپ ﷺ نے کیا ۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) set out to Dhu al-Hulayfah, the Miqāt (place where one assumes Ihrām) for the residents of Madīnah, intending to perform the Farewell Hajj in which he bid farewell to the Sacred House and the rituals of Hajj. He also bid farewell to the people and conveyed his message to them and made them bear witness to that. He assumed Ihrām for both Hajj and ‘Umrah. Thus, he performed Qirān Hajj. Since Qirān Hajj involves Tamattu‘, the people entered into Tamattu‘ along with him. Some people assumed Ihrām for Hajj and ‘Umrah, while others assumed Ihrām for ‘Umrah, intending to perform Hajj next. Some others assumed Ihrām for Hajj only. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) let them choose between the three types of Hajj. He, and so did some of his Companions, drove the sacrificial animals with him from Dhu al-Hulayfah, while others did not do so. When they approached Makkah, some of those who brought the sacrificial animals with them intending to do Ifrād or Qirān Hajj, suggested that they should revoke Hajj and replace it with ‘Umrah. But when they performed Tawāf and Sa‘i, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) ordered them emphatically to shorten their hair, end the state of Ihrām for ‘Umrah, assume Ihrām for Hajj, and offer the sacrificial animals in order for them to perform both Hajj and ‘Umrah on a single journey. He ordered those who could not afford to offer a sacrificial animal to fast ten days: three during the Hajj days, starting from the time they assume Ihrām for ‘Umrah, and seven when they would return home.
When the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) arrived at Makkah, he touched the Black Stone and performed seven rounds of Tawāf. He walked energetically during the first three rounds, which represented the Tawāf of Arrival, and normally in the remaining four rounds. Then he offered two Rak‘ahs behind the Station of Ibrahīm, headed towards Mount Safa, and performed the seven-round Sa‘i between Safa and Marwah. He would run between the two pillars and walk in a normal pace elsewhere. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) did not end his Ihrām until he finished Hajj and slaughtered his sacrificial animals on the Day of Nahr. After he had finished Hajj, had thrown the ‘Aqabah pebbles, and had slaughtered his sacrificial animals and shaved his head on the Day of Nahr, in what is known as the first Tahallul, he headed towards the Ka‘bah in the forenoon and performed Tawāf around it. Then he did all the things that were prohibited under Ihrām, including having sexual relations with his wives. Those among his Companions who had driven the sacrificial animals with them followed suit.

Topics موضوعات