جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور پھر دو رکعت نماز پڑھی، جس میں اس نے اپنے جی میں کوئی بات نہ کی، اللہ…
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3313Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3313)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے عملی طور پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ کے وضو کا طریقہ سکھایا، تاکہ بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ چنانچہ انھوں نے ایک برتن میں پانی منگوایا، پھر پانی کو دونوں ہاتھوں پر تین بار انڈیلا، بعد ازاں اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا، پانی لے کر اپنے منہ میں ڈالا، اندر گھمایا اور باہر نکال دیا، پھر سانس کے ساتھ ناک کے اندر پانی کھینچا، پھر اسے نکال کر ناک جھاڑا، پھر اپنے چہرے کو تین بار دھویا، پھر اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت تین بار دھویا، پھر پانی سے بھیگے ہوئے ہاتھوں کو ایک بار سر پر پھیرا، پھر اپنے پیروں کو ٹخنوں سمیت تین بار دھویا۔
جب وضو سے فارغ ہو گئے تو بتایا کہ انھوں نے دیکھا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی طرح وضو کیا اور اس کے بعد یہ خوش خبری دی کہ جس نے آپ کے وضو کی طرح وضو کیا اور خشوع و خضوع اور دلجمعی کے ساتھ اپنے رب کے سامنے حاضر ہوکر دو رکعت نماز پڑھی، تو اس کے اس کامل وضو اور اس خالص نماز کے بدلے میں اللہ اس کے پچھلے گناہ معاف کر دے گا۔
حدیث کے فوائد
- وضو شروع کرتے وقت دونوں ہاتھوں کو برتن میں ڈالنے سے پہلے دھونا مستحب ہے، اگرچہ نیند سے نہ بھی اٹھاہو۔ اس کے برخلاف اگر رات کی نیند سے بیدار ہوا ہو، تو دونوں ہاتھوں کو دھونا واجب ہے۔
- معلم کو ایسا طریقہ اپنانا چاہیے کہ بات آسانی سے سمجھ میں آ جائے اور سیکھنے والے کے دل میں بیٹھ جائے۔ اس کا ایک طریقہ یہ ہے تعلیم عملی طور پر دی جائے۔
- مصلی کو دنیوی مصروفیتوں سے متعلق سبھی خیالات کو دور رکھ کر نماز پڑھنی چاہیے۔ کیوں کہ نماز مکمل اسی وقت ہوتی ہے، جب دل و دماغ کو حاضر رکھ کر پڑھی جائے۔ ورنہ دل میں آنے والے خیالات سے بچنا مشکل ہے۔ انسان کو خیالات کی رو میں بہنے کی بجائے اس سلسلے میں اپنے نفس سے لڑنا چاہیے۔
- وضو دائیں طرف سے کرنا سنت ہے۔
- کلی کرنے، ناک میں پانی چڑھانے اور ناک جھاڑنے کے درمیان ترتیب کا خیال رکھنا مشروع ہے۔
- چہرے، ہاتھوں اور پیروں کو تین تین بار دھونا مستحب اور ایک بار دھونا واجب ہے۔
- اللہ کی جانب سے پچھلے گناہ اس وقت معاف کیے جاتے ہیں، جب دو کام ایک ساتھ ہوں؛ حدیث میں بیان کیے گئے طریقے کے مطابق وضو کیا جائے اور دو رکعت نماز پڑھی جائے۔
- وضو کے وقت دھوئے جانے والے ہر عضو کی حدود متعین ہیں۔ چنانچہ چہرے کی حد لمبائی میں سر کے بال اگنے کی قدرتی جگہ سے ٹھڈی اور داڑھی کے بالوں تک اور چوڑائی میں ایک کان سے دوسرے کان تک ہے۔ ہاتھ کی حد انگلیوں کے کناروں سے کہنی تک ہے۔ کہنی سے مراد بازو اور ہاتھ کے بیچ کا جوڑ ہے۔ سر کی حد سر کے بال اگنے کی قدرتی جگہوں سے گردن کے اوپری حصے تک ہے۔ کانوں کا مسح سر ہی میں داخل ہے۔ جب کہ پاؤں کی حد پورا قدم نیز قدم اور پنڈلی کے بیچ کے جوڑ کے ساتھ ہے۔
Explanation
'Uthmān ibn' Affān (may Allah be pleased with him) practically taught the Prophet's manner of ablution to make it clearer. He asked for water in a vessel and poured water on his hands three times. After that, he entered his right hand into the vessel, took water with it, put it in his mouth and let it out. Then, he sniffed water into his nose and then blew it out. Then, he washed his face three times and then washed his forearms up to the elbows three times. Then, he passed his wet hand over his head once. Then, he washed his feet along with the ankles three times.
When he (may Allah be pleased with him) finished, he informed them that he saw the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) perform ablution like that ablution and that he (may Allah's peace and blessings be upon him) gave them glad tidings that whoever performs ablution like his ablution and offers two Rak'ahs, with presence of mind and humility before his Almighty Lord, Allah will recompense him for this complete ablution and this sincere prayer by forgiving his past sins.