’’اللہ کے حدود پر قائم رہنے والوں اور ان کی خلاف ورزی کرنے والوں کی مثال ایسے لوگوں کی سی ہے جنہوں نے ایک…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-BukhariOriginal wording: رواه البخاري
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3341Sahih al-Bukhari (HadeethEnc 3341)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ کے حدود پر قائم رہنے والوں، اس کے احکامات کی تعمیل کرنے والوں، بھلائی کا حکم دینے والوں اور برائی سے روکنے والوں کی ایک عمدہ مثال پیش کی ہے۔ اور اللہ کی حدود کی خلاف ورزی کرنے والوں، بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے سے گریز کرنے والوں اور غلط کام کرنے والوں اور سماج کی نجات پر مرتب ہونے والے اس کے اثرات کی مثال ایک ایسی قوم سے پیش کی جو کشتی پر سوار ہوئے اور اس بات کے لیے قرعہ اندازی کی کہ کون کشتی کے بالائی حصے میں سوار ہوگا اور کون زیریں حصے میں۔ چنانچہ کچھ لوگوں کے حصے میں بالائی حصہ آیا اور کچھ لوگوں کے حصے میں زیریں حصہ۔ (چوں کہ پانی کا انتظام بالائی حصے میں تھا، اس لیے) زیریں حصے والوں کو پانی حاصل کرنے کے لیے بالائی حصے والوں سے ہوکر گزرنا پڑتا تھا۔ ایسے میں زیریں حصے والوں نے سوچا کہ اگر پانی حاصل کرنے کے لیے زیريں حصے میں ایک سوراخ کر لیں، تو بہتر ہو۔ اس طرح ہم بالائی حصے والوں کو تکلیف میں ڈالنے سے بچ سکتے ہیں۔ اس طرح کے حالات میں بالائی حصے والوں نے اگر زیريں حصے والوں کا ہاتھ نہ پکڑا اور ان کو سوراخ کرنے سے نہ روکا، تو کشتی ڈوب جائے گی اور سارے لوگ ہلاک ہو جائیں گے۔ جب کہ اگر ان کا ہاتھ پکڑ لیا، تو سارے لوگ بچ جائيں گے۔
حدیث کے فوائد
- سماج کی حفاظت اور نجات میں بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی اہمیت۔
- تعلیم دینے کا ایک طریقہ مثال پیش کرنا ہے۔ اس سے غیر محسوس چیزوں کو محسوس چیزوں کے لباس میں پیش کیا جا سکتا ہے تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو۔
- غلط کام ہوتے ہوئے دیکھنا اور اس کا انکار نہ کرنا ایسی برائی ہے، جس کا نقصان پورے سماج کو ہوتا ہے۔
- غلط کام کرنے والوں کو زمین میں فساد پھیلانے کی چھوٹ دینا سماج کو ہلاکت کی جانب لے جاتا ہے۔
- غلط کام اچھی نیت سے کرنے سے وہ کام صحیح نہیں ہو جاتا۔
- مسلم سماج کی اصلاح کی ذمے داری تمام لوگوں پر عائد ہوتی ہے، کسی ایک شخص پر نہیں۔
- مخصوص لوگوں کے گناہ کا عذاب عام لوگوں کو بھی جھیلنا پڑ سکتا ہے، اگر ان کو گناہ سے روکا نہ جائے۔
- غلط کام کرنے والے ایسا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے غلط کام سماج کے لیے بہتر ہیں۔ ایسا منافق بھی کرتے ہیں۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) stated that the example of those who comply with the limits set by Allah, adhere to the commands of Allah, enjoin what is good, and forbid what is evil; and the example of those who transgress the limits set by Allah, refrain from what is good and commit what is evil, and the effect of this on the salvation of the society, is like the example of a people who boarded a ship and drew lots to decide who would sit in the upper part of the ship and who would sit in its lower part. Some of them got the upper part, while others got its lower part. Whenever those in the lower part wanted to bring water, they had to pass by those above them. So, those in the lower part said: If we could only make a hole in our place in the lower part to bring water therefrom without bothering those above us. If those in the upper part let them do that, the ship would sink with all of them. However, if they forbade and prevented them from doing this, both groups would be saved.