قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا اور اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا، جس سے اس کے پیٹ کی انتڑیاں باہر نکل…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3345Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3345)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
کسی نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ عثمان بن عفان کے پاس جاکر ان سے لوگوں کے درمیان رو نما ہونے والے فتنے کے بارے میں بات کیوں نہيں کرتے اور اس آگ کو بجھانے کی کوشش کیوں نہيں کرتے؟ جواب میں انھوں نے کہا کہ انھوں نے ان سے بات تو کی ہے، لیکن رازداری کے ساتھ۔ تاکہ مصلحت حاصل ہو جائے اور کوئی فتنہ سر نہ اٹھائے۔ وہ کہنا یہ چاہتے تھے کہ وہ لوگوں کے سامنے کھل کر امراء کی نکیر نہیں کرنا چاہتے، تاکہ خلیفہ کے خلاف زبان درازی کی نوبت نہ آئے۔ کیوں کہ اس سے فتنے اور برائی کا دروازہ کھلے گا اور وہ نہيں چاہتے کہ یہ دروازہ سب سے پہلے ان کے ہاتھ سے کھلے۔
اس کے بعد اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ امرا کو تنہائی میں نصیحت کرتے ہيں اور کسی کی چاپلوسی نہيں کرتے کہ منہ پر ان کی غلط تعریف کریں۔ چاہے امیر ہی کیوں نہ ہو۔ یہ طرز عمل انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ حدیث سننے کے بعد اختیار کیا کہ قیامت کے دن ایک آدمی کو لا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ جہنم کی آگ اتنی تیز ہوگی کہ گرنے کے ساتھ ہی اس کے پیٹ سے انتڑیاں نکل کر باہر آجائيں گی۔ ایسے میں وہ شخص اپنی انتڑیوں کے ساتھ ایسے چاروں طرف گھوم رہا ہوگا، جیسے گدھا چکی کے چاروں طرف گھومتا ہے۔ یہ منظر دیکھ جہنمی اس کے اردگرد حلقہ بناکر جمع ہو جائيں گے اور اس سے پوچھیں گے کہ اے فلاں! کیا تم ہمیں بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکا نہيں کرتے تھے؟
وہ جواب دے گا: یہ سچ ہے کہ میں تمھیں بھلائی کا حکم دیتا تھا، لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتا تھا۔ میں برائی سے روکتا تھا، لیکن خود اس میں ملوث ہو جایا کرتا تھا۔
حدیث کے فوائد
- حکمرانوں کو نصیحت تنہائی میں کرنی چاہیے اور اس کا ذکر عوام الناس کے سامنے نہيں کرنا چاہیے۔
- ایسے شخص کے لیے سخت وعید، جس کا قول اس کے فعل کے خلاف ہو۔
- امرا کے ساتھ ادب و احترام کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور ان کو بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا چاہیے۔
- امرا کی مداہنت اور دل میں کچھ رکھنے اور ان کے سامنے کچھ اور کہنے کی مذمت۔
Explanation
It was said to Osāmah ibn Zayd (may Allah be pleased with him): Why do you not go to ‘Uthmān ibn Affān (may Allah be pleased with him) and speak to him about the strife that has occurred among the people and the effort to put a complete end to it? He informed them that he spoke to him secretly, seeking the best interest, not inciting strife; that was because he did not want to openly denounce the rulers in public, lest it may be a reason for offense towards the Caliph – a door to strife and evil I will not be the first to open.
Then, Osāmah (may Allah be pleased with him) said that he advised the rulers in secret and did not flatter anyone, even if he was a ruler, and did not flatter them by praising them to their faces falsely. This was after he heard the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) say that a man will be brought on the Day of Resurrection and thrown into Hellfire, and his intestines will come out of his stomach quickly due to the intense heat and severe torment. He will go around his intestines in this state in Hellfire like a donkey goes around its millstone. The people of Hellfire will gather around him in the form of a circle surrounding him, and they will ask him: O so-and-so, did you not use to command what is right and forbid what is wrong?!
He will say: I used to command what is right, but I would not do it, and I used to forbid what is wrong, but I would do it.