”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ اور میری قبر کو میلہ گاہ نہ بناؤ۔ مجھ پر درود بھیجو۔ تمہارا بھیجا گیا درود مجھ…
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi DawudOriginal wording: رواه أبو داود
- 2Grade درجہ
- Hasan حسنGood: acceptable, slightly below Sahihقابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3350Sunan Abi Dawud (HadeethEnc 3350)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے گھروں کو نماز سے خالی رکھنے سے منع کیا ہے کہ وہ قبرستان کی طرح ہو جائیں، جہاں نماز پڑھی نہيں جاتی ہے۔ آپ نے اپنی قبر کی بار بار زیارت کرنے اور وہاں ایک خاص طریقے سے جمع ہونے سے منع کیا ہے، کیوں کہ یہ شرک کا سبب ہے۔ آپ نے روئے زمین کے کسی بھی حصے سے درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے، کیوں کہ آپ پر بھیجا گیا درود و سلام قریب و دور ہر جگہ سے یکساں طور پر پہنچ جاتا ہے۔ لہذا آپ کی قبر کے پاس بار بار جانے کی ضرورت نہیں ہے۔
حدیث کے فوائد
- گھروں کو اللہ کی عبادت سے خالی رکھنا منع ہے۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر کی زیارت کے لیے سفر کر کے جانا منع ہے؛ کیوں کہ آپ نے کہیں سے بھی درود بھیجنے کا حکم دیا ہے اور بتایا ہے کہ وہ آپ کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ ہاں، مسجد نبوی کے ارادے اور اس میں نماز پڑھنے کی نیت سے سفر کرنا جائز ہے۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر کی زیارت ایک مخصوص طریقے سے اور مخصوص زمانے میں بار بار کر کے اسے میلے کی شکل دینا حرام ہے۔ دیگر قبروں کا بھی یہی حکم ہے۔
- اللہ کے یہاں اس کے نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم کے مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ پر درود و سلام بھیجنے کو ہر زمانے میں اور ہر جگہ سے مشروع کیا گیا ہے۔
- قبروں کے پاس نماز پڑھنا منع ہے، یہ بات صحابہ کو اچھی طرح معلوم تھی، یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے گھروں کو قبرستانوں کی طرح بنانے سے منع کیا ہے جہاں نماز نہیں پڑھی جاتی۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) forbade that houses be free from prayers and thus become like graves, where prayer is not offered. He forbade frequently visiting his grave and gathering there in an usual manner, for this is a means leading to polytheism. He commanded that we invoke Allah's blessings upon him from any place on earth, for this will reach him from the near and the distant places alike; so, there is no need to frequent his grave.