اس طرح مت کہو کہ جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے، بلکہ یہ کہو کہ جو اللہ چاہے اور اس کے بعد پھر جو فلاں چاہے۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudسنن نسائیSunan an-Nasa'iمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: رواه أبو داود والنسائي في الكبرى وأحمد
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3352Sunan Abi Dawud & Sunan an-Nasa'i & Musnad Ahmad (HadeethEnc 3352)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ایک مسلمان دوران گفتگو "جو اللہ چاہے اور جو فلاں چاہے" کہے۔ یا اسی طرح "جو اللہ اور فلاں چاہے" کہے۔ ایسا اس لیے کہ اللہ کی مشیت اور اس کا ارادہ مطلق ہے اور اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ جب کہ عطف کے لیے "واو" کے استعمال سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ اللہ کے ساتھ کوئی شریک ہے اور دونوں برابر ہيں۔ اس لیے ایک مسلمان کو "جو اللہ چاہے اور پھر جو فلاں چاہے" کہنا چاہیے۔ اس لیے "واو" کی جگہ پر "ثم" کے استعمال سے بندے کی مشیت اللہ کی مشیت کے تابع ہو جائے گی۔ کیوں کہ "ثم" کسی کام کے کچھ دیر بعد ہونے کا فائدہ دیتا ہے۔
حدیث کے فوائد
- "جو اللہ چاہے اور آپ چاہيں" اور اس طرح دوسرے جملے، جن میں "واو" کے ذریعے اللہ پر عطف کیا گیا ہو، کہنا حرام ہے۔ کیوں کہ ایسا کہنا الفاظ و اقوال کے شرک میں آتا ہے۔
- "جو اللہ اور پھر آپ چاہیں" اور اس طرح کے ایسے جملے کہنا جائز ہے، جن کے اندر اللہ پر "ثم" کے ذریعے عطف کیا گیا ہو۔ کیوں کہ اس میں کوئی برائی نہيں ہے۔
- اللہ کی مشیت کا ثبوت اور بندے کی مشیت کا ثبوت۔ اس بات کی بھی وضاحت کہ بندے کی مشیت اللہ کی مشیت کے تابع ہے۔
- اللہ کی مشیت میں بندے کو شریک بنانے کی ممانعت، خواہ لفظی طور پر ہی کیوں نہ ہو۔
- اگر کسی نے اس طرح کا جملہ کہتے وقت اس بات کا یقین رکھا کہ بندے کی مشیت اللہ عز و جل کی مشیت ہی کی طرح عام اور مطلق ہے یا یہ کہ بندے کے پاس اللہ کی مشیت سے ہٹ کر اپنی مستقل مشیت ہوتی ہے، تو یہ شرک اکبر ہے۔ لیکن اگر اس طرح کا یقین نہ رکھا، تو شرک اصغر ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) forbids Muslims from saying: "What Allah wills and what so-and-so wills" in their speech, or saying: "What Allah wills and so-and-so". This is because Allah's will and determination are absolute and none shares them with Him. but using the conjunctive "and" denotes associating someone with Allah and regarding them as equals. However, one should say: What Allah wills, then what so-and-so wills; thus, making the slave's will subordinate to Allah's will by saying "then" instead of "and", since "then" denotes sequence with a gap in time between the two things in sequence.