”منافقوں پر سب سے بھاری نماز عشا اور فجر کی نماز ہے اور اگر انھیں ان نمازوں کے ثواب کا اندازہ ہو جائے، تو…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3366Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3366)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم منافقوں کے بارے میں اور نماز میں، بالخصوص عشا اور فجر کی نماز میں ان کی سستی کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ آپ یہ بھی بتا رہے ہیں کہ اگر منافقوں کو پتہ ہو جائے کہ ان دونوں نمازوں کو جماعت ميں شامل ہوکر مسلمانوں کے ساتھ ادا کرنے سے کتنا بڑا اجر و ثواب ملتا ہے، تو وہ اسی طرح گھٹنوں اور ہاتھوں کے بل چل کر ان دونوں نمازوں ميں شریک ہوں، جس طرح بچے چلنا سیکھنے سے پہلے گھٹنوں اور ہاتھوں کے بل آگے بڑھتے ہیں۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک بار اس بات کا ارادہ کر لیا تھا کہ کسی کو اپنی جگہ پر نماز پڑھانے کا حکم دے دیں، پھر کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر، جو لکڑیوں کے گٹھر لیے ہوئے ہوں، ان لوگوں کے پاس جائیں، جو جماعت میں شامل ہوکر نماز پڑھنے کے لیے مسجد نہیں آتے اور ان کے سمیت ان کے گھروں کو جلا ڈالیں۔ کیوں کہ انھوں نے جماعت میں شامل نہ ہو کر جو گناہ کیا ہے، وہ بہت بڑا ہے۔ لیکن آپ نے ایسا نہيں کیا، کیوں کہ گھروں میں معصوم عورتیں، بچے اور معذور لوگ بھی ہوتے ہیں، جن کا کوئی گناہ نہیں ہے۔
حدیث کے فوائد
- مسجد میں حاضر ہوکر جماعت کے ساتھ نماز نہ پڑھنا ایک سنگین جرم ہے۔
- منافق عبادت محض دکھاوا اور شہرت طلبی کے لیے کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مسجد اسی وقت جاتے ہیں، جب لوگ دیکھ رہے ہوں۔
- عشا و فجر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے پر زیادہ ثواب ہونا اور ان دونوں نمازوں کا اس لائق ہونا کہ اگر انسان کو گھٹنے کے بل بھی چل کر آنا پڑے، تو آئے۔
- عشا اور فجر کی نماز کی پابندی نفاق سے محفوظ ہونے کی نشانی ہے اور ان دونوں نمازوں میں شامل نہ ہونا منافقوں کی صفت ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) tells about the hypocrites and their laziness when it comes to attending the prayer, especially the 'Ishā' and Fajr prayers, and that if they were to know the amount of reward for attending them along with the Muslim congregation, they would come to it even if they had to crawl like infants upon their hands and knees.
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) thought of ordering the prayer to be commenced and appointing someone to lead the people in prayer instead of him. Then he would go, along with people carrying firewood, to men who were not attending the congregational prayer and burn their houses with fire, given the gravity of their sin in doing so. Yet, he did not do that because the houses contained women, innocent children, and others with valid excuses for not attending the prayer – for they committed no sin.