جس نے کسی ہدایت کی طرف بُلایا، اسے اس کی پیروی کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا اور اس سے پیروی کرنے…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3373Sahih Muslim (HadeethEnc 3373)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جس نے اپنے قول و عمل کے ذریعے لوگوں کو حق اور خیر کا راستہ دکھایا، اسے اس کے بعد اس راستے پر چلنے والے تمام لوگوں کے برابر اجر و ثواب ملے گا اور اس سے بعد میں چلنے والوں کے اجر و ثواب میں کوئی کٹوتی بھی نہيں ہوگی۔ اس کے برخلاف جس نے اپنے قول و عمل کے ذریعے لوگوں کو کسی برائی، گناہ یا کسی حرام کام کا راستہ دکھایا، اسے بعد میں اس راستے پر چلنے والے تمام لوگوں کے برابر گناہ ہوگا اور اس سے بعد کے لوگوں کے گناہ میں کوئی کمی بھی نہيں ہوگی۔
حدیث کے فوائد
- ہدایت کی دعوت دینے کی فضیلت۔ کم ہو یا زیادہ۔ دعوت دینے والے کو عمل کرنے والے کے برابر ثواب ملتا ہے۔ یہ دراصل اللہ کا بہت بڑا فضل و کرم ہے۔
- گمراہی کی دعوت دینے کا نقصان۔ گمراہی کم ہو یا زیادہ۔ گمراہی کی دعوت دینے والے کو اس پر عمل کرنے والے کے برابر ثواب ملتا ہے۔
- انسان کو اجر و ثواب اسی نوعیت کا ملتا ہے، جس نوعیت کا اس کا عمل ہوتا ہے۔ لہذا جو کسی اچھے کام کی دعوت دے گا، اسے اچھا کام کرنے والے کے برابر ثواب ملے گا اور جو کسی برے کام کی دعوت دے گا، اسے برا کام کرنے والے کے برابر گناہ ہوگا۔
- ایک مسلمان کو اس بات سے خبردار رہنا چاہیے کہ لوگوں کے سامنے اس کے کھلے عام گناہ کرنے کی وجہ سے کہیں دوسرے لوگ اسے دیکھ کر وہ گناہ نہ کرنے لگيں۔ کیوں کہ اسے دیکھ کر وہ برا کام کرنے والے دوسرے لوگوں کے گناہ کا بوجھ بھی اسے اٹھانا پڑے گا، چاہے اس نے ان کو ترغیب دی ہو یا نہ دی ہو۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) clarified that whoever guides people, leads them, and urges them, with words or deeds, to adopt a path of truth and goodness will attain a reward similar to that attained by those who followed him without diminishing the followers' reward in any way. On the other hand, whoever guides and leads people, with words or deeds, to a path of falsehood and evil that involves sin, misdeed, or something prohibited will incur guilt and sin similar to those incurred by the ones who followed him without diminishing their sins in any way.