صحیح بخاری
Sahih al-Bukhari

عمر رضی اللہ عنہ مجھے بزرگ بدری صحابہ کے ساتھ مجلس میں بٹھاتے تھے۔ ان میں سے بعض کو یہ ناپسند گزرا۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3377Sahih صحیح
عن عبد الله ابن عباس رضي الله عنهما كان عمر رضي الله عنه يُدْخِلُنِي مع أَشْيَاخِ بَدْرٍ فَكَأَنَّ بَعْضَهُم وَجَدَ في نفسه، فقال: لم يُدْخِلُ هذا معنا ولنا أبناءٌ مثله؟! فقال عمر: إنه من حَيْثُ عَلِمْتُمْ! فدعاني ذاتَ يومٍ فأَدَخَلَنِي مَعَهُمْ فما رأيتُ أنه دعاني يَوْمَئِذٍ إلا لِيُرِيَهُم، قال: ما تقولون في قول الله:(إذا جاء نصر الله والفتح)، [الفتح: 1]، فقال بعضهم: أَمَرَنَا نَحْمَدُ اللهَ ونَسْتَغْفِرُهُ إذا نصرنا وفَتَحَ علينا، وسكتَ بعضُهُم فَلَمْ يَقُلْ شيئًا، فقال لي: أكذلك تقولُ يا ابنَ عباس؟ فقلت: لا، قال: فما تقول؟ قلت: هو أَجَلُ رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم أَعْلَمَهُ له، قال: "إذا جاء نصر الله والفتح" وذلك علامةُ أجلِكَ، "فسبح بحمد ربك واستغفره إنه كان توابا" فقال عمر رضي الله عنه : مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إلَّا مَا تَقُولُ.
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ مجھے بزرگ بدری صحابہ کے ساتھ مجلس میں بٹھا تے تھے۔ ان میں سے کسی کو یہ ناپسند گزرا تو انہوں نے کہا کہ اسے مجلس میں ہمارے ساتھ کیوں بٹھاتے ہیں، اس کے جیسے تو ہمارے بچے ہیں؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کی وجہ تمہیں معلوم ہے۔پھر انہوں نے مجھے ایک دن بلایا اور ان بدری صحابہ کے ساتھ بٹھا دیا۔ میں سمجھ گیا کہ آپ نے مجھے اس دن اس لیے بلایا ہے تاکہ انہیں دکھا سکیں۔ پھر اُن سے پوچھا: اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟ ۔ ”إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ“ (الفتح:1)۔ ان میں سے کچھ نے کہا کہ جب ہمیں مدد اور فتح حاصل ہوئی تو اللہ کی حمد اور اس سے استغفار کا حکم دیا گیا ہے۔ اور کچھ لوگ خاموش رہے اور کوئی جواب نہیں دیا ۔ پھر آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا کہ: ابن عباس رضی اللہ عنہما ! کیا تمہارا بھی یہی خیال ہے ؟ میں نے کہا: نہیں۔ پوچھا پھر تمہاری کیا رائے ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ: اس میں رسول اللہ ﷺ کی وفات کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو اس کے بارے میں بتایا ہے اور فرمایا: کہ جب اللہ کی مدد اور فتح آ پہنچے۔ جو کہ آپ کی وفات کی علامت ہو گی تو پھر آپ اپنے پروردگار کی پاکی وتعریف بیان کیجیے اور اس سے بخشش مانگا کیجیے ۔ بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ میرے علم کے مطابق بھی یہی معنی ہے جو تم نے بیان کیا ہے۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Abdullāh ibn ‘Abbās (may Allah be pleased with him) reported: ‘Umar (may Allah be pleased with him) used to make me sit with the elderly men who had fought in the Battle of Badr. Some of them did not like that and said to ‘Umar: "Why do you bring in this boy to sit with us while we have sons like him?" ‘Umar replied: "Because of his status, which you already know about." One day ‘Umar called me and made me sit in the gathering of those people; and I think that he called me just to show them. ‘Umar then asked them: "What do you say about the verse that says: {When there comes the help of Allah and the conquest} [Sūrat An-Nasr: 1]?" Some of them said: "We are ordered to praise Allah and ask for His forgiveness when He helps us and grants us victory." Some others kept quiet and said nothing. Thereupon, ‘Umar asked me: "Do you say the same, O Ibn ‘Abbās?" I replied: ‘No.’ He said: "What do you say then?" I replied: "That is a sign of the Messenger’s death, of which Allah informed him. He says: O Muhammad, when there comes the help of Allah to you against your enemies and the Conquest of Makkah, which is a sign of your death, you should celebrate the praises of your Lord and ask for His forgiveness; verily, He is the One who accepts repentance." Upon that, ‘Umar said: "I do not know anything about it other than what you have said."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhari
Original wording: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3377

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

عمر رضی اللہ عنہ کا طریقۂ کار یہ تھا کہ وہ صاحب الرائے لوگوں سے ان معاملات میں مشورہ کیا کرتے تھے جن میں آپ کو کوئی اشکال ہوتا اور بدری بزرگوں اور بڑے بڑے صحابہ کے ساتھ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بھی شامل کیا کرتے تھے جو ان کی بنسبت بہت کم سن تھے۔ وہ اس سے ناراض ہوئے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کیسے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ان کے ساتھ شامل کرتے ہیں اور ان کے بیٹوں کو شامل نہیں کرتے۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ انہیں عبد اللہ بن عباس کی علمی قدر و منزلت اور ذہانت و فطانت سے آگاہ کریں۔ انہوں نے انہیں جمع کیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بھی بلایا اور ان پر اس سورت کو پیش کیا: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجاً فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا}۔ (سورہ نصر) ترجمہ: جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے اور تو لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق آتا دیکھ لے۔ تو اپنے رب کی تسبیح کرنے میں جُٹ جا، حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت کی دعا مانگ، بیشک وه بڑا ہی توبہ قبول کرنے واﻻ ہے۔‘‘ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے اس سورت کے بارے میں دریافت کیا تو ان کے دو گروہ بن گئے۔ ایک گروہ تو چپ رہا اور ایک گروہ نے کہا کہ: اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جب نصرت اور مدد آ جائے تو ہم اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کریں اور اس کی حمد و تسبیح بیان کریں۔ تاہم عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کا اصل مدعا جاننا چاہتے تھے اور ان کا مقصد یہ نہیں تھا کہ وہ الفاظ و کلمات کا معنیٰ معلوم کریں۔ انہوں ںے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ تم اس سورت کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس میں رسول اللہ ﷺ کی وفات کی طرف اشارہ ہے یعنی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ ﷺ کی وفات کا وقت قریب آ چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت آپ ﷺ کو عطا کی کہ: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} یعنی جب مکہ فتح ہو جائے گا تو یہ تمہاری وفات کی علامت ہو گی چنانچہ۔ {فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا}۔ ترجمہ:’’تو اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت کی دعا مانگ، بے شک وه بڑا ہی توبہ قبول کرنے واﻻ ہے‘‘۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ نے کہا: مجھے بھی اس سورت کے بارے میں وہی کچھ معلوم ہے جو تم جانتے ہو۔ اس سے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی فضیلت واضح ہو گئی۔

Explanation

‘Umar (may Allah be pleased with him) used to consult people of wisdom and good reasoning about problematic issues. He used to let Ibn ‘Abbās, despite his young age, attend the gatherings along with the senior Companions and participants of the Battle of Badr. They were angry, however, that ‘Umar allowed Ibn ‘Abbās in and disregarded their own children. So, ‘Umar wanted to show them the status of Ibn ‘Abbās in knowledge, intelligence, and wits. He gathered them and invited him to the gathering. He recited Sūrat An-Nasr to them, which reads: {When there comes the help of Allah and the conquest, and you see the people entering into the religion of Allah in multitudes, then proclaim the praise of your Lord and ask forgiveness of Him. Indeed, He is ever Accepting of repentance} [Sūrat An-Nasr: 1-3]. When he asked them about its interpretation, some of them kept silent, while others said: “Allah, the Almighty, commands us to seek His forgiveness and to praise and exalt Him when He grants us victory and conquest.” However, ‘Umar (may Allah be pleased with him) was asking about the implicit significance of these verses, not their literal meaning. So, he put the question to Ibn ‘Abbās, and he said that the Sūrah was a sign of the Prophet’s imminent death, and Allah gave it to him as notice. {When there comes the help of Allah and the conquest}, meaning: the Conquest of Makkah; this is a sign of your impending death. {Then proclaim the praise of your Lord and ask forgiveness of Him. Indeed, He is ever Accepting of repentance.} Thereupon, ‘Umar (may Allah be pleased with him) said: “I know nothing about it save what you have said.” Thus, Ibn ‘Abbās’s merit became manifest.

Topics موضوعات