صحیح بخاری
Sahih al-Bukhari

”میری تعریف میں ایسے حد سے نہ گزرو، جیسے عیسائی لوگ عیسی ابن مریم (علیہ السلام) کی تعریف میں حد سے گزر گئے۔…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3406Sahih صحیح
عَن عُمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قال: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ؛ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ، فَقُولُوا: عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ».
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: ”میری تعریف میں ایسے حد سے نہ گزرو، جیسے عیسائی لوگ عیسی ابن مریم (علیہ السلام) کی تعریف میں حد سے گزر گئے۔ میں تو محض اللہ کا بندہ ہوں۔ اس لیے مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Umar ibn al-Khattāb (may Allah be pleased with him) reported: I heard the Prophet (may Allah’s peace and blessings be upon him) say: "Do not exaggerate in praising me as the Christians exaggerated in praising the son of Mary, for I am only His slave. So, call me the slave of Allah and His Messenger."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhari
Original wording: رواه البخاري
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3406

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنی تعریف میں افراط کے شکار ہونے اور شرعی حد سے آگے بڑھنے، آپ کو اللہ کے اوصاف اور اس کے خاص افعال سے متصف قرار دینے، اللہ کے بارے میں غیب کو جاننے کا دعوی کرنے اور آپ کو اللہ کے ساتھ پکارنے سے منع فرمایا ہے۔ جیسا کہ نصرانیوں نے عیسی ابن مریم علیہ السلام کے ساتھ کیا۔ پھر بتایا کہ آپ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ ہیں اور اس بات کا حکم دیا کہ ہم آپ کو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہیں۔

حدیث کے فوائد

  • اس میں تعظیم اور مدح کے بارے میں شرعی حد سے آگے بڑھنے سے منع کیا گیا ہے، کیوں کہ یہ چیز شرک کی جانب لے جاتی ہے۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جس بات سے آگاہ کیا تھا، وہ اس امت کے اندر واقع ہو ہی گئی ہے۔ چنانچہ ایک گروہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں غلو کا شکار ہو گیا، ایک گروہ اہل بیت کے بارے میں غلو میں پڑ گیا اور ایک گروہ اولیا کے بارے میں غلو میں مبتلا ہو گیا۔ اس طرح یہ سارے لوگ شرک میں مبتلا ہوگئے۔
  • اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے خود کو اللہ کا بندہ بتایا ہے، تاکہ یہ بتا سکیں کہ آپ کی ساری ضرورتیں اللہ پوری کرتا ہے اور آپ کو رب کی کوئی خصوصیت دینا جائز نہيں ہے۔
  • اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے خود کو اللہ کا رسول بتایا ہے، تاکہ یہ وضاحت ہوسکے کہ آپ کو اللہ کی جانب سے بھیجا گیا ہے، لہذا آپ کی تصدیق کرنا اور آپ کی اتباع کرنا واجب ہے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) prohibits immoderateness and exceeding the Shariah-prescribed limit in praising him and forbids ascribing to himself the peculiar attributes and actions of Allah or knowledge of the unseen, or that he should be supplicated to along with Allah, as the Christians did with Jesus, the son of Mary (peace be upon him). Then, he made it clear that he is one of the servants of Allah and commanded us to call him: the servant and Messenger of Allah.

Topics موضوعات