اے چچا جان، آپ لا الہ الا اللہ کہہ دیں، اس کلمہ کی بنیاد پر میں اللہ کے یہاں آپ کے حق دلیل پکڑوں گا۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3410Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3410)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ابو طالب حالت نزع میں تھے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان کے پاس آئے اور ان سے کہا : چچا جان! آپ لا الہ الا اللہ کہہ دیں۔ اس کلمہ کی بنیاد پر میں اللہ کے یہاں آپ کے حق میں گواہی دوں گا۔ یہ سن کر ابوجہل اور عبداللہ بن ابو امیہ نے کہا : ابو طالب! کیا تم اپنے باپ عبد المطلب کا دین چھوڑ دو گے؟ وہ مذہب دراصل بت پرستی کا مذہب تھا۔ دونوں ان سے بات کرتے رہے، یہاں تک کہ انھوں نے ان سے آخر میں کہہ ہی دیا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر چل کر اس دنیا سے جا رہا ہوں۔ یعنی شرک اور بت پرستی کے مذہب پر۔ یہ سن کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں آپ کے لیے اس وقت تک استغفار کرتا رہوں گا، جب تک میرا رب مجھے منع نہ کر دے۔ چنانچہ اسی پس منظر میں قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی : "نبی کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں، اگرچہ وه رشتہ دار ہی ہوں، اس امر کے ظاہر ہوجانے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں"۔ [سورہ توبہ : 113] اسی طرح ابو طالب کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: "آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاه ہے". [سورہ قصص : 56] آپ جسے راہ حق پر چلانا چاہیں، اسے راہ حق پر نہیں چلا سکتے۔ آپ کا کام صرف پہنچا دینا ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے حق کی راہ پر چلاتا ہے۔
حدیث کے فوائد
- مشرکوں کے حق میں مغفرت طلب کرنے کی حرمت، چاہے وہ کتنے ہی قریبی رشتے دار کیوں نہ ہوں اور ان کا عمل اور احسان کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔
- آبا و اجداد اور اکابرین کی تقلید اہل جاہلیت کی روش ہے۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا کمال شفقت اور لوگوں کی دعوت و ہدایت کے تئیں آپ کا حرص۔
- اس بات کا دعوی کرنے والوں کی تردید کہ ابو طالب مسلمان ہو گئے تھے۔
- اعمال کا دار و مدار خاتموں پر ہے۔
- نفع حاصل کرنے اور نقصان سے بچنے کے لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے لو لگانے کا بطلان۔
- جس نے علم، یقین اور اعتقاد کے ساتھ لا الہ الا اللہ کہہ دیا، وہ مسلمان ہوگیا۔
- برے ساتھیوں کا نقصان۔
- لا الہ الا اللہ کے معنی ہيں؛ بتوں، اولیا اور اللہ کے نیک بندوں کی عبادت سے دامن بچانا اور صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا۔ مشرکین بھی کلمۂ توحید کے اس معنی کو سمجھتے تھے۔
- مشرک مریض کی عیادت جائز ہے، جب اس کے مسلمان ہونے کی امید ہو۔
- راہ حق پر گام زن ہو جانے کی توفیق دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ کام کسی اور سے نہیں ہو سکتا۔ رسول کا کام صرف راہ بتا دینا اور پہنچا دینا ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) entered upon his uncle Abu Tālib when he was in his death throes and said to him: O Uncle, say: "La ilāha illallāh (there is no god but Allah)," a statement with which I can testify in your favor before Allah. Thereupon, Abu Jahl and ‘Abdullah ibn Abi ’Umayyah said: O Abu Tālib, would you abandon the religion of your father ‘Abdul-Muttalib, i.e. worshipping idols?! They both kept talking to him until the last thing he said to them was about the religion of Abdul-Muttalib, i.e., the religion of Shirk (polytheism) and idolatry. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him), thus, said: I will ask forgiveness for you as long as my Lord does not forbid me from doing so. Upon this, Allah Almighty revealed: {It is not fitting for the Prophet and those who believe to seek forgiveness for the polytheists[83], even if they are close relatives, after becoming clear to them that they are the people of the Blazing Fire.} [Surat at-Tawbah: 113] And the following verse was revealed concerning Abu Tālib: {You cannot guide whoever you like, but Allah guides whom He wills, and He knows best who will be guided.} [Surat al-Qasas: 56] You cannot guide whoever you like to guide; your duty is only to convey the message, and Allah guides whom He wills.