مسند احمد
Musnad Ahmad

جس شخص نے بدشگونی کی وجہ سے اپنا کام چھوڑ دیا اس نے شرک کیا۔ لوگوں نے دریافت کیا کہ اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ ﷺ…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3416Sahih صحیح
عن عبد الله بن عمرو بن العاص - رضي الله عنه- مرفوعاً: "مَن ردته الطِّيَرَة عن حاجته فقد أشرك، قالوا: فما كفارة ذلك؟ قال: أن تقول: اللهم لا خير إلا خيرك، ولا طَيْرَ إِلَّا طَيْرُكَ ولا إله غيرك".
عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص بدشگونی کی وجہ سے اپنا کام چھوڑ دیا اس نے شرک کیا۔ لوگوں نے دریافت کیا کہ: اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ (اس کا کفارہ یہ ہے کہ) تم یوں کہو: ”اللَّهُمَّ لاَ خَيْرَ إلا خَيْرُكَ وَلاَ طَيْرَ إلا طَيْرُكَ وَلاَ إِلَهَ غَيْرُكَ“۔ اے اللہ! تیری طرف سے ملنے والی خیر کے علاوہ کوئی خیر نہیں، تیرے شگون کے علاوہ کوئی شگون نہیں اور تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Abdullāh ibn ‘Amr ibn al-‘Ās (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: “Whoever is prevented from doing something because of his belief in bad omens has thus committed polytheism. They said: What is the expiation of that? He said: It is to say: "O Allah, there is no good except Your good, nor omen except Your omen, and there is no god but You.’”
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
مسند احمدMusnad Ahmad
Original wording: اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3416

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ ہمیں بتا رہے ہیں کہ جس شخص کو بدشگونی نے اس کام سے پھیر دیا جس کا وہ ارادہ رکھتا تھا تو اس نے گویا ایک طرح کا شرک کیا۔ جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس گناہ کبیرہ کے کفارے کے بارے میں آپ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے ان کی حدیث میں موجود اس مکرم عبارت کی طرف رہنمائی فرمائی جس میں معاملے کو اللہ کے سپرد کرنے اور اس کے علاوہ ہر کسی سے طاقت و قدرت کی نفی کرنے کا معنی پایا جاتا ہے۔

حدیث کے فوائد

  • بدشگونی کی وجہ سے اپنی حاجت سے رکنے والا شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔
  • مشرک کی توبہ کا قبول ہونا۔
  • بدشگونی میں پڑنے والا کون سی دعا پڑھے۔
  • خیر و شر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہوتے ہیں۔

Explanation

The Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) informs us that whoever refrains from doing anything that he had intended to do out of belief in bad omens, has in some sense committed polytheism. When the Companions asked him about the expiation of this major sin, he instructed them to say those noble words mentioned in the Hadīth. This homily indicates entrusting all affairs to Allah and negating omnipotence from anyone other than Him.

Topics موضوعات