بیماری کا ایک سے دوسرے کو لگ جانا اور بد شگونی لینا کوئی چیز نہیں۔ البتہ مجھے فال اچھی لگتی ہے”۔ صحابہ کرام…
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3422Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3422)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ عہد جاہلیت کے لوگوں کا یہ عقیدہ باطل ہے کہ بیماری اللہ کے فیصلے اور اس کی لکھی تقدیر کے بغیر ہی ایک شخص سے دوسرے شخص کی جانب منتقل ہو جایا کرتی ہے۔ اسی طرح بدشگونی لینا بھی باطل ہے۔ بدشگونی نام ہے کسی مسموع یا مرئی چیز، جیسے پرندوں، جانوروں، معذور لوگوں، اعداد یا دنوں وغیرہ سے بدفالی لینے کا۔ اس حدیث میں بدشگونی کے لیے " الطيرة" لفظ کا استعمال اس لیے ہوا ہے کہ عہد جاہلیت میں بدشگونی کا یہ طریقہ بہت مشہور تھا۔ ہوتا یہ تھا کہ عرب کے لوگ جب سفر یا تجارت وغیرہ کوئی کام شروع کرنا چاہتے، تو پرندہ اڑا کر دیکھتے۔ اگر پرندہ دائیں اڑتا، تو اسے نیک فال سمجھ کر قدم آگے بڑھاتے اور اگر بائيں اڑتا، تو بدشگونی کے عقیدے کے تحت قدم پیچھے واپس کھینچ لیتے۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ آپ کو فال اچھی لگتی ہے۔ فال یہ ہے کہ انسان کو کوئی اچھی بات سن کر فرحت و سرور حاصل ہو اور وہ اپنے رب سے حسن ظن قائم کر لے۔
حدیث کے فوائد
- اللہ پر توکل اور یہ کہ خیر صرف اللہ ہی لاتا ہے اور شر کو صرف صرف وہی دور کرتا ہے۔
- بدشگونی سے ممانعت۔ بدشگونی یہ ہے کہ انسان کسی چیز سے برا شگون لے اور اس کی وجہ سے عملی اقدام سے رک جائے۔
- فال منع شدہ بدشگونی میں داخل نہیں ہے۔ یہ دراصل اللہ سے حسن ظن ہے۔
- ہر چیز اللہ وحدہ لا شریک لہ کى تقدیر کے مطابق ہوتی ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informs that transitive disease in which the people of the pre-Islamic era of ignorance used to believe, thinking the disease is transmitted by itself to others apart from Allah's decree, is false. And the Tiyarah, which is regarding something audible or visible, as an evil omen whether it is from birds, animals, people with deformities, numbers, days, etc. He mentioned the "Tayr" (bird) specifically because it was commonly known during the pre-Islamic era of ignorance, as a bird would be urged to fly when someone intended to do something like travel, trade, or anything else. If the bird flew to the right, he would take this as a good omen and proceed with what he intended, whereas if the bird flew to the left, he would take this as a bad omen and refrain from doing what he intended. Then, he (may Allah's peace and blessings be upon him) informed that he liked the good omen, which is the happiness and joy that one feels when hearing a good word that makes him have good expectations of his Lord.