مستقبل میں ایسے حکمراں سامنے آئیں گے، جن کے کچھ کام تمہیں بھلے لگیں گے اور کچھ برے۔ ایسے میں جو ان (کے برے…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3481Sahih Muslim (HadeethEnc 3481)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ ہماری حکمرانی کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں آ جائے گی، جن کے کچھ کام شریعت کے مطابق ہونے کی وجہ سے ہمیں صحیح لگیں گے اور کچھ کام شریعت مخالف ہونے کی وجہ سے ہمیں غلط لگیں گے۔ اس طرح کے حالات میں جو شخص ان کے غلط کاموں کو اپنے دل سے برا جانے گا اور اس حیثیت میں نہیں ہوگا کہ ان کی تردید کر سکے، تو وہ گناہ اور نفاق سے بری مانا جائے گا۔ اس کے برخلاف جس کے پاس ہاتھ سے روکنے یا زبان سے تردید کرنے کی طاقت ہوگی اور وہ اپنی ذمے داری ادا کرے گا، تو وہ گناہ کرنے اور اس میں شریک ہونے سے محفوظ رہے گا۔ لیکن جو ان کے ان برے کاموں سے مطمئن رہے گا اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان گناہوں میں شریک ہوگا، وہ انہی کی طرح ہلاکت کا شکار ہو جائے گا۔
پھر صحابہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ کیا ہم اس طرح کے حکمرانوں سے جنگ نہ کریں، تو آپ نے ان کو ایسا کرنے سے منع کیا اور فرمایا کہ نہیں، ایسا اس وقت تک نہ کرنا، جب تک وہ تمھارے درمیان نماز قائم کرتے رہیں۔
حدیث کے فوائد
- محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے اللہ کے نبی ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ آپ نے مستقبل میں سامنے آنے والی کچھ غیبی باتوں کی پیشین گوئی فرمائی اور وہ باتیں ہو بہو اسی طرح سامنے آبھی گئیں، جس طرح آپ نے پیشین گوئی فرمائی تھی۔
- غلط کام سے نہ تو مطمئن ہونا جائز ہے اور نہ اس میں شریک ہونا۔ بلکہ اس کا انکار کرنا واجب ہے۔
- جب حکمراں شریعت مخالف کام کرنے لگیں، تو ان کاموں میں ان کی اطاعت جائز نہيں ہے۔
- مسلم حکمرانوں کے خلاف بغاوت کرنا جائز نہيں ہے۔ کیوں کہ اس کے نتیجے میں فساد برپا ہوگا، خوں ریزی ہوگی اور امن و شانتی کا ماحول ختم ہوگا۔ لہذا نافرمان حکمرانوں کے غلط رویوں کو برداشت کرنا اور ان کی اذیتوں پر صبر کرنا اس سے کہیں زیادہ آسان ہے۔
- نماز کی بڑی اہمیت ہے۔ نماز کفر اور اسلام کے درمیان امتیاز کرنے والی چیز ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informs us that rulers will be appointed to be in charge of us. We will approve some of their deeds for conforming with Shariah, and we will disapprove other deeds for contradicting Shariah. Whoever hates such evil deeds in his heart and is unable to forbid them is absolved of sin and hypocrisy. Whoever is able to forbid evil with his hand or tongue and does so is safe from bearing sin and from participating in it. However, those who are content with their evil deeds and follow them will be doomed just like them.
Then, they asked the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him): Shall we not fight against such rulers? He (may Allah's peace and blessings be upon him) forbade them from that and said: No, as long as they establish the prayer amongst you.