جو شخص اسلام میں کوئي اچھا طریقہ جاری کرے گا، اسے اس کا اجر ملے گا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والے تمام…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3506Sahih Muslim (HadeethEnc 3506)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
جریر بن عبد اللہ البجلی رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بہت عظیم حدیث ہے، جس سے نبیﷺکی اپنی امت پر شفقت اور مہربانی کا اندازہ ہوتا ہے۔ صحابۂ کرام دن کے ابتدائی حصے میں نبیﷺکے ساتھ بیٹھے تھے کہ اتنے میں کچھ لوگ آئے، جن میں سے اکثر یا سب کے سب مضر قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے دھاری دار چادریں لپیٹ رکھی تھیں اور اپنی تلواریں لٹکائی ہوئے تھے۔ یعنی ہر انسان کے بدن پر ایک کپڑا تھا، جسے اس نے اپنا ستر چھپانے کے لیے لپیٹ رکھا تھا اور اپنی گردن پر باندھا ہوا تھا۔ ان کے پاس حکم کی بجا آوری کے لیے تلواریں تھیں۔ رضی اللہ عنہم۔
ان کی یہ حالت زار دیکھ کر نبیﷺ کا چہرۂ انور متغیر ہو گیا اور اس کا رنگ بدل گیا۔ یہ لوگ مضر قبیلے سے تھے جو عرب کے معزز ترین قبائل میں سے تھا۔ حاجت مندی کی وجہ سے ان کا یہ حال ہو گیا تھا۔ آپ ﷺ اپنے گھر میں داخل ہوئے اور پھر باہر تشریف لائے۔ پھر آپ ﷺنے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دینے کو کہا۔ لوگوں کو نماز پڑھائی اور پھر انھیں خطبہ دیا۔ آپ ﷺنے اپنی عادت کے مطابق اللہ تعالی کی حمد بیان کی اور پھر اللہ تعالی کا یہ فرمان تلاوت کیا: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيراً وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيباً﴾ (النساء:1) ترجمہ: ”اے لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلائیں۔ اس اللہ سے ڈرو، جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اور رشتے داری کے تعلقات کو بگاڑنے سے بچو۔ بے شک الله تم پر نگرانی کر رہا ہے“۔
اور اللہ تعالی کے اس فرمان کو بھی پڑھا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ﴾ (الحشر: 18)ترجمہ: ”اے ایمان والو! الله سے ڈرو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور الله سے ڈرو؛ کیوں کہ الله تمھارے کاموں سے خبردار ہے“۔
پھر آپ ﷺ نے صدقہ کرنے کی ترغیب دی اور فرمایا: ”ہر آدمی کو چاہیے کہ صدقہ کرے؛ دینار و درہم کا ، کپڑے کا ، گندم کے صاع کا ، کھجور کے صاع کا ، حتی کہ فرمایا گو کھجور کا ایک ٹکڑا ہی ہو“۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم خیر کے کاموں پر بہت زیادہ حریص تھے اور بہت تیزی کے ساتھ اور بڑھ چڑھ کر ان میں حصہ لیا کرتے تھے۔ وہ اپنا اپنا گھر گئے اور صدقے کا سامان لے کر آئے۔ یہاں تک کہ ایک شخص درہموں سے بھرا ایک تھیلا لے کر آیا، جسے اٹھانے میں اسے بہت مشکل ہو رہی تھی، بلکہ وہ اس سے اٹھ ہی نہیں رہا تھا۔ اس نے اسے نبی ﷺ کے سامنے رکھ دیا۔
راوی حدیث نے کھانے اور کپڑوں وغیرہ کے دو بڑے ڈھیر دیکھے، جو مسجد میں جمع تھے۔ نبیﷺ کا چہرۂ انور جو پہلے متغیر ہو چکا تھا، اب ایسے چمک رہا تھا، جیسے سونا ہو۔ ان فقرا کی حاجت پوری کرنے کے لیے جیسے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا، اس پرخوشی کی وجہ سے آپ ﷺ کے چہرے پر چمک اور روشنی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اسلام میں کوئي اچھا طریقہ جاری کرے گا، اسے اس کا اجر ملے گا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کے برابر اجر ملے گا۔ جب کہ عمل کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جاۓ گی اور جو اسلام میں کوئی بُرا طریقہ جاری کرے گا، تو اس پر اس کا گناہ ہوگا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کے برابر گناہ ہوگا اور عمل کرنے والوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں کی جاۓ گی“۔
نبی ﷺ کے فرمان: (مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلامِ سُنَّةً حَسَنَةً) میں سنت سے مراد یہ ہے کہ جس نے کسی سنت پر عمل کا آغاز کیا۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ جس نے کوئی نیا طریقہ ایجاد کیا، کیوں کہ جس نے اسلام میں کوئی نئی شے ایجاد کی، وہ مردود ہوتی ہے نہ کہ اچھی۔ یہاں مراد یہ ہے کہ جس نے سب سے پہلے عمل کا آغاز کیا، جیسے اس آدمی نے کیا تھا، جو تھیلا لے کر آیا تھا۔ رضی اللہ عنہ۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو جب توفیق ملتی ہے، تو وہ اسلام میں کسی سنت کو فروغ دیتا ہے، چاہے اس میں پہل کرکے ہو یا اسے زندہ کرکے۔
Explanation
This Hadīth shows the Prophet's care and compassion towards his followers. As the Companions were with the Prophet, early in the day, there came a group of people, mostly or entirely from Mudar tribe, wearing very simple clothes, which indicated their poverty, and hanging their swords, a sign of readiness to receive order for Jihād. The Prophet's face changed when he saw their poor state despite belonging to Mudar, one of the noblest Arab tribes. So, he entered home and then went out. He ordered Bilāl to proclaim the Adhān and then he offered the prayer and addressed the people. Praising Allah, the Almighty, as usual, he recited the verses that reads: (O mankind, fear your Lord, who created you from one soul and created from it its mate and dispersed from both of them many men and women. And fear Allah, through whom you ask one another, and the wombs. Indeed Allah is ever, over you, an Observer) [Sūrat An-Nisā':1]; (O you who believe, fear Allah and keep your duty to Him. And let every one look what he has sent forth for the tomorrow. Indeed, Allah is Acquainted with what you do) [Sūrat al-Hashr: 18]. Then, he encouraged the people to give charity, and in response they began to give, and a man would give his dinar in charity, another would give a dirham, and others would give their garment or a Sā‘ of wheat or dates. Then, he encouraged charity even if it were half a date. The Companions (may Allah be pleased with them) were most keen on doing good, rushing and vying towards this. One of them came with a bundle that was almost too heavy for him to carry and placed it in front of the Prophet. Seeing all this goodness and generosity, which would meet the need of those poor people, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was very pleased, and he said: "Whosoever introduces a good practice in Islam, there is for him its reward and the reward of those who act upon it after him without anything being diminished from their rewards. And whosoever introduces an evil practice in Islam will shoulder its sin and the sins of all those who will act upon it, without diminishing in any way their burden." "A good practice" here refers to something already established and rooted in the religion, not contrived and added to it.