صحیح مسلم
Sahih Muslim

جو شخص اسلام میں کوئي اچھا طریقہ جاری کرے گا، اسے اس کا اجر ملے گا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والے تمام…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3506Sahih صحیح
عن جرير بن عبد الله رضي الله عنه قال: كُنَّا في صَدرِ النَّهَار عِند رسول الله صلى الله عليه وسلم فَجَاءه قَومٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَار أَو العَبَاءِ، مُتَقَلِّدِي السُّيُوف، عَامَّتُهُم مِن مُضَر بَل كُلُّهُم مِن مُضَر، فَتَمَعَّر رسول الله صلى الله عليه وسلم لِمَا رَأَى بِهِم مِنَ الفَاقَة، فدَخَل ثُمَّ خَرج، فأَمَر بِلاَلاً فَأَذَّن وَأَقَام، فَصَلَّى ثُمَّ خَطَب، فقال: «(يا أيها الناس اتقوا ربكم الذي خلقكم من نفس واحدة) إلى آخر (إن الله كان عليكم رقيبًا) ، والآية الأخرى التي في آخر الحشر: (يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله ولتنظر نفس ما قدمت لغد) تَصَدَّق رَجُلٌ مِن دِينَارِهِ، مِن دِرهَمِهِ، مِن ثَوبِهِ، مِن صَاعِ بُرِّهِ، مِنْ صَاعِ تَمرِهِ -حتَّى قال- وَلَو بِشِقِّ تَمرَة» فَجَاء رَجُلٌ مِنَ الأَنصَار بِصُرَّةٍ كَادَت كَفُّهُ تَعجَزُ عَنْهَا، بل قَد عَجَزَت، ثُمَّ تَتَابَع النَّاسُ حَتَّى رَأَيتُ كَومَين مِن طَعَامٍ وَثِيَابٍ، حَتَّى رَأَيتُ وَجهَ رَسُول الله صلى الله عليه وسلم يَتَهَلَّلُ كَأَنَّه مُذْهَبَة.ٌ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «مَنْ سَنَّ فِي الإِسلاَم سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا، وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ، مِنْ غَيرِ أَنْ يَنْقُصَ مِن أُجُورِهِم شَيءٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي الإِسلاَم سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيه وِزْرُهَا، وَوِزرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بعدِه، من غير أن ينقُص مِن أَوزَارِهَم شيء».
جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم دن کے آغاز میں رسولﷺکے پاس تھے کہ آپﷺکے پاس کچھ ایسے لوگ آئے، جو ننگے بدن تھے، وہ اون کی دھاری دار چادریں یا کمبل ڈالے ہوئے اور گردنوں میں تلوار لٹکائے ہوئے تھے۔ ان کی اکثریت مضر قبیلے سے بلکہ سارے ہی مضر سے تھے۔ جب رسول اللہﷺنے ان کی فاقہ زدگی کا مشاہدہ فرمایا، تو آپ کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ آپ (گھر) کے اندر تشریف لے گئے اور باہر آگئے۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انھوں نے اذان دی، (پھر جب لوگ نماز کے لیے جمع ہوگئے تو) تکبیر کہی اور آپﷺنے نماز پڑھائی۔ اس کے بعد لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: (لوگو! اپنے اس رب سے ڈرو، جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا فرمایا) یہاں سے (یقینا اللہ تمھاری خبر نگہبانی کرنے والا ہے۔)تک۔ (سورۂ نساء:۱) اس کے بعد سورۂ حشر کی آخری آیت پڑھی۔( اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور ہر نفس کو چاہیے کہ اس نے کل(قیامت) کے لیے جو آگے بھیجا ہے، اسے دیکھے)۔ ( اس کےبعد آپ نے صدقہ و خیرات کی ترغیب دی) فرمایا: ہر آدمی کو چاہیے کہ صدقہ کرے؛ دینار و درہم کا ، کپڑے کا، گندم کے صاع کا ، کھجور کے صاع کا، حتی کہ فرمایا گرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ انصار میں سے ایک آدمی ایک تھیلی لے کر آیا، (جو اتنی بھاری تھی کہ) اس کی ہتھیلی اس کو اٹھانے سے عاجز آر ہی تھی؛ بلکہ عاجز ہو چکی تھی۔ پھر لوگ ( لے لے کر ) پے در پے آتے رہے، یہاں تک کہ میں نے دو ڈھیر دیکھے؛ ایک کھانے کے سامان کا اور دوسرا کپڑوں کا۔ تب میں نے دیکھا کہ رسول اللہﷺکا چہرۂ انور اس طرح چمک رہا تھا، گو یا سونے کا ٹکڑا ہو۔ پھر رسول اللہﷺنے فرمایا: "جو شخص اسلام میں کوئي اچھا طریقہ جاری کرے گا، اسے اس کا اجر ملے گا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کے برابر اجر ملے گا۔ جب کہ عمل کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جاۓ گی اور جو اسلام میں کوئی بُرا طریقہ جاری کرے گا، اس پر اس کا گناہ ہوگا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کے برابر گناہ ہوگا اور عمل کرنے والوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں کی جاۓ گی۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Jābir ibn ‘Abdullāh (may Allah be pleased with him) reported: We were with Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) shortly after dawn when there came to him some people clad in woolen rags, or covered with sleeveless blankets; and with swords hanging down from their necks. Most of them, rather all of them, belonged to the Mudar tribe. The Prophet's face changed when he saw them starving. Then he went into his house and came out; then he commanded Bilāl to proclaim the Adhān. So he proclaimed the Adhān and recited Iqāmah and the Prophet led the prayer. Then he delivered a sermon saying: (O mankind, fear your Lord, who created you from one soul and created from it its mate and dispersed from both of them many men and women. And fear Allah, through whom you ask one another, and the wombs. Indeed Allah is ever, over you, an Observer) [Sūrat An-Nisā':1]. He also recited a verse at the end of Sūrat al-Hashr: (O you who believe, fear Allah and keep your duty to Him. And let every one look what he has sent forth for the tomorrow.) Thereafter, every man gave in charity dinar, dirham, clothes, measure-fulls of wheat and measure-fulls of dates till he said: "(Give in charity) be it half a date." Then a man from the Ansār came with a bag which was difficult for him to hold in his hand. Thereafter, the people came successively (with charity) till I saw two heaps of food and clothes. I noticed that the Messenger's face was glowing like that of the bright moon or glittering gold. Then he said: "Whosoever introduces a good practice in Islam, there is for him its reward and the reward of those who act upon it after him without anything being diminished from their rewards. And whosoever introduces an evil practice in Islam will shoulder its sin and the sins of all those who will act upon it, without diminishing in any way their burden."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3506

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

جریر بن عبد اللہ البجلی رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بہت عظیم حدیث ہے، جس سے نبیﷺکی اپنی امت پر شفقت اور مہربانی کا اندازہ ہوتا ہے۔ صحابۂ کرام دن کے ابتدائی حصے میں نبیﷺکے ساتھ بیٹھے تھے کہ اتنے میں کچھ لوگ آئے، جن میں سے اکثر یا سب کے سب مضر قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے دھاری دار چادریں لپیٹ رکھی تھیں اور اپنی تلواریں لٹکائی ہوئے تھے۔ یعنی ہر انسان کے بدن پر ایک کپڑا تھا، جسے اس نے اپنا ستر چھپانے کے لیے لپیٹ رکھا تھا اور اپنی گردن پر باندھا ہوا تھا۔ ان کے پاس حکم کی بجا آوری کے لیے تلواریں تھیں۔ رضی اللہ عنہم۔
ان کی یہ حالت زار دیکھ کر نبیﷺ کا چہرۂ انور متغیر ہو گیا اور اس کا رنگ بدل گیا۔ یہ لوگ مضر قبیلے سے تھے جو عرب کے معزز ترین قبائل میں سے تھا۔ حاجت مندی کی وجہ سے ان کا یہ حال ہو گیا تھا۔ آپ ﷺ اپنے گھر میں داخل ہوئے اور پھر باہر تشریف لائے۔ پھر آپ ﷺنے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دینے کو کہا۔ لوگوں کو نماز پڑھائی اور پھر انھیں خطبہ دیا۔ آپ ﷺنے اپنی عادت کے مطابق اللہ تعالی کی حمد بیان کی اور پھر اللہ تعالی کا یہ فرمان تلاوت کیا: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيراً وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيباً﴾ (النساء:1) ترجمہ: ”اے لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلائیں۔ اس اللہ سے ڈرو، جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اور رشتے داری کے تعلقات کو بگاڑنے سے بچو۔ بے شک الله تم پر نگرانی کر رہا ہے“۔
اور اللہ تعالی کے اس فرمان کو بھی پڑھا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ﴾ (الحشر: 18)ترجمہ: ”اے ایمان والو! الله سے ڈرو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور الله سے ڈرو؛ کیوں کہ الله تمھارے کاموں سے خبردار ہے“۔
پھر آپ ﷺ نے صدقہ کرنے کی ترغیب دی اور فرمایا: ”ہر آدمی کو چاہیے کہ صدقہ کرے؛ دینار و درہم کا ، کپڑے کا ، گندم کے صاع کا ، کھجور کے صاع کا ، حتی کہ فرمایا گو کھجور کا ایک ٹکڑا ہی ہو“۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم خیر کے کاموں پر بہت زیادہ حریص تھے اور بہت تیزی کے ساتھ اور بڑھ چڑھ کر ان میں حصہ لیا کرتے تھے۔ وہ اپنا اپنا گھر گئے اور صدقے کا سامان لے کر آئے۔ یہاں تک کہ ایک شخص درہموں سے بھرا ایک تھیلا لے کر آیا، جسے اٹھانے میں اسے بہت مشکل ہو رہی تھی، بلکہ وہ اس سے اٹھ ہی نہیں رہا تھا۔ اس نے اسے نبی ﷺ کے سامنے رکھ دیا۔
راوی حدیث نے کھانے اور کپڑوں وغیرہ کے دو بڑے ڈھیر دیکھے، جو مسجد میں جمع تھے۔ نبیﷺ کا چہرۂ انور جو پہلے متغیر ہو چکا تھا، اب ایسے چمک رہا تھا، جیسے سونا ہو۔ ان فقرا کی حاجت پوری کرنے کے لیے جیسے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا، اس پرخوشی کی وجہ سے آپ ﷺ کے چہرے پر چمک اور روشنی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اسلام میں کوئي اچھا طریقہ جاری کرے گا، اسے اس کا اجر ملے گا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کے برابر اجر ملے گا۔ جب کہ عمل کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جاۓ گی اور جو اسلام میں کوئی بُرا طریقہ جاری کرے گا، تو اس پر اس کا گناہ ہوگا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کے برابر گناہ ہوگا اور عمل کرنے والوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں کی جاۓ گی“۔
نبی ﷺ کے فرمان: (مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلامِ سُنَّةً حَسَنَةً) میں سنت سے مراد یہ ہے کہ جس نے کسی سنت پر عمل کا آغاز کیا۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ جس نے کوئی نیا طریقہ ایجاد کیا، کیوں کہ جس نے اسلام میں کوئی نئی شے ایجاد کی، وہ مردود ہوتی ہے نہ کہ اچھی۔ یہاں مراد یہ ہے کہ جس نے سب سے پہلے عمل کا آغاز کیا، جیسے اس آدمی نے کیا تھا، جو تھیلا لے کر آیا تھا۔ رضی اللہ عنہ۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو جب توفیق ملتی ہے، تو وہ اسلام میں کسی سنت کو فروغ دیتا ہے، چاہے اس میں پہل کرکے ہو یا اسے زندہ کرکے۔

Explanation

This Hadīth shows the Prophet's care and compassion towards his followers. As the Companions were with the Prophet, early in the day, there came a group of people, mostly or entirely from Mudar tribe, wearing very simple clothes, which indicated their poverty, and hanging their swords, a sign of readiness to receive order for Jihād. The Prophet's face changed when he saw their poor state despite belonging to Mudar, one of the noblest Arab tribes. So, he entered home and then went out. He ordered Bilāl to proclaim the Adhān and then he offered the prayer and addressed the people. Praising Allah, the Almighty, as usual, he recited the verses that reads: (O mankind, fear your Lord, who created you from one soul and created from it its mate and dispersed from both of them many men and women. And fear Allah, through whom you ask one another, and the wombs. Indeed Allah is ever, over you, an Observer) [Sūrat An-Nisā':1]; (O you who believe, fear Allah and keep your duty to Him. And let every one look what he has sent forth for the tomorrow. Indeed, Allah is Acquainted with what you do) [Sūrat al-Hashr: 18]. Then, he encouraged the people to give charity, and in response they began to give, and a man would give his dinar in charity, another would give a dirham, and others would give their garment or a Sā‘ of wheat or dates. Then, he encouraged charity even if it were half a date. The Companions (may Allah be pleased with them) were most keen on doing good, rushing and vying towards this. One of them came with a bundle that was almost too heavy for him to carry and placed it in front of the Prophet. Seeing all this goodness and generosity, which would meet the need of those poor people, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was very pleased, and he said: "Whosoever introduces a good practice in Islam, there is for him its reward and the reward of those who act upon it after him without anything being diminished from their rewards. And whosoever introduces an evil practice in Islam will shoulder its sin and the sins of all those who will act upon it, without diminishing in any way their burden." "A good practice" here refers to something already established and rooted in the religion, not contrived and added to it.

Topics موضوعات