جب تم میں سے کسی کا وضو ٹوٹ جائے، تو جب تک وضو نہ کر لے، اللہ اس کی نماز قبول نہيں فرماتا۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3534Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3534)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ نماز کے صحیح ہونے کے لیے ایک شرط طہارت ہے۔ لہذا جس شخص کا پیشاب، پاخانہ اور نیند وغیرہ کی وجہ سے وضو ٹوٹ جائے اور وہ نماز پڑھنا چاہے، تو اس پر وضو کرنا ضروری ہوگا۔
حدیث کے فوائد
- ناپاکی کی حالت میں نماز قبول نہيں ہوتی، جب تک کہ حدث اکبر کی صورت میں غسل اور حدث اصغر کی صورت میں وضو نہ کر لیا جائے۔
- وضو نام ہے منہ میں پانی ڈال کر اسے منہ کے اندر گھمانے، پھر سانس کے ساتھ ناک میں پانی چڑھانے، پھر اسے نکال باہر کرنے اور ناک جھاڑنے، پھر چہرے کو تین بار دھونے، پھر دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت تین بار دھونے، پھر پورے سر کا ایک بار مسح کرنے اور پھر دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت تین بار دھونے کا۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) clarified that Tahārah (ritual purity) is one of the conditions for the validity of prayer. Hence, whoever wants to pray must make Wudū’ (ablution) if he has already nullified his Wudū’ by defecating, urinating, sleeping, etc.