اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : آدم کی اولاد کا ہر عمل اس کے لیے ہے، سوائے روزے کے کہ وہ صرف میرے لیے ہے اور میں ہی…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3546Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3546)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ تعالی حدیث قدسی میں فرماتا ہے :
آدم کی اولاد کے ہر عمل کو دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھایا جاتا ہے۔ سوائے روزے کے۔ کیوں کہ روزہ میرے لیے ہے۔ اس میں ریا نہیں ہوتی۔ اس کا بدلہ بھی میں ہی دوں گا اور مجھے ہی پتہ ہے کہ اسے کتنا ثواب ملنا ہے اور اس کی نیکیوں کو کتنا گنا بڑھایا جانا ہے۔
اس کے بعد فرمایا : "روزہ ڈھال ہے۔" یعنی جہنم کی آگ سے حفاظت کا ذریعہ، پردہ اور ایک مضبوط قلعہ ہے۔ کیوں کہ روزہ انسان کو خواہشات کا شکار ہونے اور گناہوں میں پڑنے سے روکتا ہے۔ جب کہ جہنم خواہشات سے گھری ہوئی ہے۔
(جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو، تو فحش گوئی نہ کرے)۔ یعنی جماع اور اس کے مقدمات سے متعلق کوئی بات نہ کرے۔ ساتھ ہی مطلقا کوئی دوسری فحش گوئی بھی نہ کرے۔
(اور نہ شور و غل کرے) یعنی نہ جگھڑے اور نہ چیخ و پکار کرے۔
(اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ کرے يا اس سے لڑنے پر آمادہ ہو)۔ یعنی رمضان کے مہینے میں تو کہہ دے کہ اس وقت میں روزے سے ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ لڑنا ترک کر دے۔ لیکن اگر ہر حال میں لڑنے پر آمادہ ہو، تو جہاں تک ہو سکے کم سے کم زور صرف کر کے اس سے بچ نکلے۔
اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس ہستی کی قسم کھاکر بتایا، جس کے ہاتھ میں آپ کی جان تھی کہ روزے کی وجہ سے روزے دار کے منہ کی بدلی ہوئی بو اللہ کے یہاں اس سے کہیں زیادہ پاکیزہ ہے، جتنا انسان کے یہاں مشک کی بو۔ اسی طرح انسان کے جمعہ اور ذکر کی مجلسوں میں مشک لگانے کا جتنا ثواب ملتا ہے، اس سے کہیں زیادہ ثواب کی حامل ہے یہ بو ہوتی ہے۔
روزے دار کے لیے خوشی کے دو مواقع ہیں۔ افطار کے وقت افطار کی خوشی کہ بھوک اور پیاس ختم ہو گئی، روزہ پورا ہوا، عبادت مکمل ہوئی اور اس کے ذریعے اللہ نے معاملہ آسان کر دیا کہ اگلے کل پھر روزہ رکھا جا سکے۔
(اور جب اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے سے خوش ہوگا) اللہ کی جانب سے ملنے والے اجر و ثواب کو دیکھ کر۔
حدیث کے فوائد
- روزے کی فضیلت اور یہ کہ روزہ انسان کو دنیا میں شہوتوں سے اور آخرت میں جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھتا ہے۔
- روزے کے آداب میں فحش گوئی اور شور و غل سے اجتناب، لوگوں کی ایذا رسانیوں پر صبر اور برائی کا مقابلہ صبر و احسان سے کرنے جیسی چيزیں شامل ہیں۔
- روزے دار یا عبادت گزار جب اپنی عبادت کے مکمل اور پورا ہونے پر خوش ہوتا ہے، تو اس سے اس کے اخروی اجر و ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔
- انسان کو مکمل خوشی اللہ سے ملتے وقت نصیب ہوگی، جب صبر کرنے والوں اور روزے داروں کو بلا حساب و کتاب اجر و ثواب سے نوازا جائے گا۔
- ضرورت کے وقت یا کسی مصلحت کی بنا پر لوگوں کو اپنی عبادت سے مطلع کرنا ریاکاری میں داخل نہیں ہے۔ کیوں کہ اس حدیث میں آپ نے (میں روزے دار ہوں) کہنے کا حکم دیا ہے۔
- کامل روزہ رکھنے والا روزے دار وہ ہے، جس کے اعضاے جسم گناہوں سے بچے رہیں، زبان جھوٹ اور فحش گوئی سے دور رہے اور پیٹ کھانے پینے سے گریزاں رہے۔
- ویسے تو غیر روزے دار کے لیے بھی چیخنا، چلانا اور لڑنا جھگڑنا ممنوع ہے، لیکن روزے دار کے لیے ممانعت دو چند ہو جاتی ہے۔
- یہ حدیث ان حدیثوں میں سے ایک ہے، جن کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے پاک رب سے روایت کیا ہے۔ اس طرح کی حدیث کو حدیث قدسی یا حدیث الہی کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد وہ حدیث ہے، جس کے لفظ اور معنی دونوں اللہ کے ہوں۔ البتہ اس کے اندر قرآن کی خصوصیات، جیسے اس کی تلاوت کا عبادت ہونا، اس کے لیے طہارت حاصل کرنا اور اس کا معجزہ ہونا وغیرہ نہیں پائی جاتیں۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed that Allah Almighty says in the Qudsi Hadīth:
Every righteous deed offered by the son of Adam is multiplied by ten up to seven hundred times, except for fasting, which is for Me, as it does not involve ostentation, and I give reward for it. So, none but Me knows how great its reward is and how many times it is multiplied.
Then he said: (Fasting is a shield), protection, shelter, and a fortified fort against the Fire because it is all about abstaining from desires and committing sins, and the Fire is surrounded with desires.
(When it is the day when any of you is fasting, let him not engage in obscenity) at all through sexual intercourse and foreplay or through any obscene speech.
(And let him not speak in a loud voice) by quarreling and shouting.
(If anyone insults him or fights with him) in Ramadan, let him say: I am a fasting person; perhaps this will deter him. However, if he insists on real fighting, he should expel him with the least violent means first.
Then the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) swore by the One in Whose Hand that his soul is that the foul breath of the fasting person resulting from fasting is more pleasant than the smell of musk in the sight of Allah on the Day of Judgment and is a means of receiving a greater reward than that of the musk, which is recommended to be used on Fridays and during the Dhikr (remembrance of Allah) sessions.
The fasting person will have two occasions to rejoice: when breaking his fast, he rejoices at breaking his fast that eliminates his hunger and thirst; and he rejoices at completing his fast and accomplishing his act of worship, at the alleviation from his act of worship to his Lord, and at the strength it provides him with for his future fasting.
(And when he meets his Lord, he rejoices at his fast), i.e., at its recompense and reward.