بلا شبہ تیرے لیے وہ ثواب ہے جس کی تجھے امید ہے۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3561Sahih Muslim (HadeethEnc 3561)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
مسجد کی طرف جانا اور وہاں سے واپس لوٹنا۔ اگر انسان اس سے اللہ کے یہاں اجر و ثواب کی امید رکھے تو اسے اس پر اجر دیا جائے گا۔ اس حدیث میں اس شخص کا واقعہ ہے جس کا گھر مسجد سے دور تھا، اور وہ بہت دور سے مسجد کی طرف آتا تھا اور وہ مسجد کی طرف آتے اور وہاں سے واپس لوٹتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھتا تھا۔ تو بعض لوگوں نے ان سے کہا اگر آپ ایک گدھا خرید لیں تاکہ اندھیرے میں اور گرمی کی شدت میں اس پر سوار ہو کر آیا کریں، یعنی عشاء اور فجر کی نماز کے اندھیرے میں اور سخت گرمی یعنی گرمی کے موسم میں بالخصوص حجاز میں، جہاں کی فضا بہت گرم ہوتی ہے۔
صحابی نے کہا کہ اگر میرا گھر مسجد کے پہلو میں ہو تو یہ میری خوشی کا باعث نہیں۔ یعنی وہ اس پر خوش ہے کہ اس کا گھر مسجد سے دور ہے اور وہ مسجد تک پیدل چل کر آتا ہے اور پیدل واپس لوٹتا ہے۔ اور اسے اپنے گھر کے مسجد سے قریب ہونے پر خوشی نہیں ہے۔ کیوں کہ اگر اس کا گھر مسجد سے قریب ہوتا تو اس کے لیے ان قدموں کی نیکی نہیں لکھی جاتی۔ اور اس نے یہ بیان کیا کہ وہ مسجد جاتے آتے ان قدموں پر اللہ کے ہاں نیکیوں کی امید رکھتا ہے۔ اس پر اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ نے یہ سب ثواب تیرے لیے جمع کردیا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ مسجد تک آتے جاتے جس چیز کی تم امید رکھتے ہو، اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اسے لکھ دیا ہے۔
ایک اور روایت میں ہے: ”إِنَّ لَكَ مَا احْتَسَبْتَ“ یعنی بلا شبہ تیرے لیے وہ ثواب ہے جس کی تجھے امید ہے۔
Explanation
’Ubayy ibn Ka‘b (may Allah be pleased with him) informed that a man from the Ansār lived farthest from the Prophet's Mosque, yet he never missed a prayer—he would attend every prayer with the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him). So it was said to him: If you were to buy a donkey to ride during the darkness of night and the heat of the ground in the daytime, he replied: It would not please me for my house to be next to the mosque. I want Allah to record for me my walking to the mosque for prayer and my return when I go back to my family. His words reached the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him), who said: "Verily, Allah has gathered all of that for you."