Hadith 3578
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim صحیح بخاری · صحیح مسلم

مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر یہ شخص اسے پڑھ لے، تو اس کا غصہ دور ہو جائے”۔

3578Sahih صحیح
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ رضي الله عنه قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجُلاَنِ يَسْتَبَّانِ، فَأَحَدُهُمَا احْمَرَّ وَجْهُهُ، وَانْتَفَخَتْ أَوْدَاجُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا ذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ، لَوْ قَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ، ذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ» فَقَالُوا لَهُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ»، فَقَالَ: وَهَلْ بِي جُنُونٌ؟
سلیمان بن صُرَد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: میں اللہ کے نبی ﷺ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور (قریب ہی) دو آدمی آپس میں گالی گلوج کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک شخص کا چہرہ (مارے غصے کے) سرخ ہو گیا تھا اور اس کی رگیں پھول گئیں تھیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر یہ شخص اسے پڑھ لے، تو اس کا غصہ دور ہو جائے"۔ فرمایا: "اگر یہ شخص کہے: ”أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرجیم“ (میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں) تو اس کا غصہ ختم ہو جائے گا"۔ چنانچہ لوگوں نے اس سے کہا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کرو، تو اس نے کہا: کیا مجھے جنون لاحق ہے؟
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Sulaymān ibn Surad (may Allah be pleased with him) reported: I was sitting with the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) when two men started to insult each other, and the face of one of them turned red and his jugular veins got swollen. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Verily, I know a word; if he said it, his rage would go away. If he said: I seek refuge with Allah from the devil, his rage would go away." They said to him: The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Seek refuge with Allah from the devil." Thereupon he said: Am I mad?
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق عليه
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3578

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

دو لوگ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے ایک دوسرے کو گالی گلوج کر رہے تھے۔ ایک کی حالت تو یہ تھی کہ چہرہ سرخ ہو چکا تھا اور گردن کی رگیں پھول چکی تھیں۔

یہ منظر دیکھ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: مجھے ایک کلمہ معلوم ہے کہ اگر اس غصے والے شخص نے اسے کہہ لیا، تو اس کا غصہ دور ہو جائے گا۔ اسے "أعوذ بالله من الشيطان الرجيم" کہہ لینا چاہیے۔

چنانچہ صحابہ نے اس سے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے تجھے "أعوذ بالله من الشيطان الرجيم" پڑھنے کے لئے کہا ہے۔

لیکن اس نے جواب دیا: کیا میں مجنوں ہوں؟ اسے لگتا تھا کہ اللہ کی پناہ وہی مانگتا ہے، جسے جنون لاحق ہو۔

حدیث کے فوائد

  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ جب کسی چیز کا سبب پایا جاتا تو اس تعلق سے رہنمائی اور نصیحت کرنے کا اہتمام کرتے۔
  • غصہ دلانے کے پیچھے شیطان کا ہاتھ ہوتا ہے۔
  • غصہ آنے پر شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم۔ ارشاد باری تعالی ہے : "اور اگر آپ کو کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آنے لگے تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کیجیے۔"
  • گالی گلوج اور لعنت وملامت سے خبردار کرنا اور نفرت دلانا۔ کیوں کہ ان چیزوں سے تعلقات خراب ہوتے ہیں۔
  • جو شخص نصیحت نہ سن سکے، اس تک نصیحت پہنچانی چاہیے، تاکہ وہ بھی اس سے مستفید ہوسکے۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے غصہ سے خبردار کیا، کیوں کہ غصہ برائی اور انجام کی لاپرواہی کا پیش خیمہ ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ صرف اسی وقت آتا تھا، جب اللہ کی حرمتوں کو پامال کیا جائے۔ یہ قابل تعریف غصہ ہے۔
  • نووی اس حدیث کے الفاظ "کیا مجھے جنون لاحق ہے؟" کے بارے میں کہتے ہيں: ہو سکتا ہے کہ یہ بات کہنے والا شخص منافق تھا یا دیہات کا رہنے والا کوئی غیر شائستہ شخص۔

Explanation

Two men cursed and insulted each other in the presence of the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him), and the face of one of them turned red and the veins surrounding his neck became swollen.

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: Verily, I know a word; if this angry man said it, his anger would go away. If he said: I seek refuge with Allah from the accursed devil.

They said to him: The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: Seek refuge with Allah from the devil.

Thereupon he said: Am I mad? thinking that only the mad seek refuge with Allah from the devil.

Topics موضوعات