اگر اس نے سچ کہا ہے، تو کامیاب ہو گیا۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3700Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3700)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
نجد کا رہنے والا ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا۔ بال بکھرے ہوئے تھے۔ آواز اونچی تھی۔ لیکن کیا کہہ رہا ہے، سمجھ میں نہيں آرہا تھا۔ یہاں تک کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا اور اسلامی فرائض کے بارے میں پوچھنے لگا۔
جواب میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے آغاز نماز سے کیا اور بتایا کہ اللہ نے اس پر دن اور رات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔
اتنا سننے کے بعد اس نے پوچھا کہ کیا ان پانچ نمازوں کے علاوہ بھی کوئی نماز مجھ پر فرض ہے؟
آپ نے جواب دیا : نہيں۔ البتہ تم نفل نمازیں جتنی چاہو، پڑھ سکتے ہو۔
بعد ازاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : تمھارے اوپر رمضان مہینے کے روزے بھی فرض ہيں۔
اس نے عرض کیا : کیا رمضان مہینے کے روزے کے علاوہ بھی کوئی روزہ مجھ پر فرض ہے؟
آپ نے جواب دیا : نہيں۔ البتہ تم نفل روزے رکھنا چاہو، تو رکھ سکتے ہو۔
پھر آپ نے اس کے سامنے زکاۃ کا ذکر کیا۔
لہذا اس نے پوچھا : کیا فرض زکاۃ کے بعد بھی کوئی صدقہ ضروری ہے؟
آپ نے کہا : نہيں۔ البتہ نفلی صدقے کرنا چاہو، تو کر سکتے ہو۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ان فرائض کو سننے کے بعد وہ شخص واپس چلا گیا۔ جاتے ہوئے اس نے اللہ کی قسم کھاکر بتایا کہ وہ کوئی کمی بیشی کیے بغیر ان فرائض کی پابندی کرے گا۔ اس کی بات سن کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: یہ آدمی اگر اپنی قسم پر کھرا اترا، تو کامیاب ہو جائے گا۔
حدیث کے فوائد
- اسلامی شریعت مکلفین کے لئے ایک کشادہ اور آسان شریعت ہے۔
- مذکورہ شخص کے ساتھ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا اچھا سلوک کہ اسے قریب آنے اور سوال کرنے کا موقع دیا۔
- دعوت الی اللہ کا کام بہ تدریج اہم ترین امور سے اہم امور کی جانب جاتے ہوئے کرنا چاہیے۔
- اسلام عقیدہ و عمل کا نام ہے۔ بلا ایمان عمل مفید نہیں اور بلا عمل ایمان کا کوئی فائدہ نہيں۔
- ان اعمال کی اہمیت اور یہ اعمال اسلام کے ارکان ہیں۔
- جمعے کی نماز پانچ وقت کی فرض نمازوں میں داخل ہے۔ کیوں کہ جمعے کی نماز جس پر واجب ہے، یہ اس کے حق میں اس دن کے ظہر کی نماز کی بدل ہے۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے تعلیم کا آغاز اسلام کے اہم ترین فرائض یعنی شہادتین کے بعد کے ارکانِ اسلام سے کیا۔ اس میں دونوں شہادتوں کا ذکر اس لیے نہيں ہے کہ سائل مسلمان تھا۔ اسی طرح حج کا ذکر اس لیے نہيں کیا ہے کہ یہ اس کی فرضیت سے پہلے کا واقعہ ہے یا پھر اس کا وقت نہيں آیا تھا۔
- واجبات کی ادائیگی ہی انسان کی کامیابی کے لیے کافی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہيں ہے کہ نوافل کا اہتمام سنت نہیں ہے۔ کیوں کہ قیامت کے دن نوافل کے ذریعے فرائض کی کمیوں کو دور کیا جائے گا۔
Explanation
A man from the people of Najd came to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him). His hair was disheveled, his voice was loud, and his words could not be understood until he approached the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and asked him about the obligations of Islam.
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) started with the prayer and informed him that Allah has enjoined upon him five obligatory prayers to be performed every day and night.
He said: Do I have to perform any other prayer besides these five prayers?
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) replied: No, unless you choose to perform something of the voluntary prayers.
Then, he (may Allah's peace and blessings be upon him) said: Among what has been enjoined upon you by Allah is fasting the month of Ramadan.
The man said: Do I have to fast any other day besides fasting Ramadan?
He said: No, unless you choose to fast voluntarily.
Afterward, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) mentioned Zakah to him.
The man said: Do I have to give any charity besides the obligatory Zakah?
He said: No, unless you do so voluntarily.
After listening to the Prophet's words about such obligations, the man turned away and swore by Allah that he would adhere to them without any addition or omission. Thereupon, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: If this man is truthful regarding his oath, he will be among the successful.