تم سے پہلے لوگوں (پچھلی امتوں) میں سے ایک شخص کا حساب کیا گیا اور اس کے نامہ اعمال میں کوئی نیکی نہ ملی سوائے…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3707Sahih Muslim (HadeethEnc 3707)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
”حُوسِب رجُل“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک شخص سے اس کے آگے بھیجے گئے اعمال پر حساب لیا۔ "ممن كان قَبْلَكُمْ"۔ یعنی وہ پچھلی امتوں میں سے تھا۔ ”فلم يُوجد له من الخَيْر شَيء“ یعنی اس کے پاس کوئی ایسا نیک عمل نہ نکلا جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا باعث ہو۔ ”إلا أنه كان يُخَالط الناس وكان مُوسِرا“ یعنی وہ لوگوں سے خرید و فروخت اور لین دین کیا کرتا تھا اور امیر شخص تھا۔ ”وكان يأمُر غِلْمَانَه أن يَتَجَاوَزُوا عن المُعْسِر“ یعنی جب لوگوں سے ان کے ذمہ واجب الادا قرض وصول کرنے ہوتے تو وہ اپنے نوکروں سے کہتا کہ تنگ دست یعنی ایسے غریب قرض دار سے نرمی کے ساتھ معاملہ کریں جو قرض ادا کرنے پر قدرت نہ رکھتا ہو بایں طور کہ خوشحالی تک اسے مہلت دیں یا پھر اس کا کچھ قرض کم کردیں۔ ”قال الله -عز وجل-: نحن أحق بذلك منه؛ تَجَاوزُوا عنه“۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کے لوگوں سے اچھے سلوک،ان کے ساتھ مہربانی کا معاملہ کرنے اور ان کے لیے آسانی پیدا کرنے کے بدلے میں اسے معاف فرما دیا۔
Explanation
"A man from among those who were before you was called to account", i.e. a man from the previous nations was held accountable by Allah for the actions he had done. "No good deeds were found in his record", i.e. he had done no righteous deeds that bring one closer to Allah, the Almighty. "Except that he, being a rich man, used to enter into transactions with people", i.e. he used to conduct business transactions with them and give them loans. "And used to command his servants to show leniency towards those who were insolvent", i.e. he ordered his servants to be tolerant with those who cannot pay back their debts by giving them respite or by reducing their debt. "Allah, the Exalted, said: We are more entitled to this (leniency) than him. Pardon him", i.e. Allah forgave him as a reward for his kind treatment of people and his gentleness and leniency with them.