صحیح مسلم
Sahih Muslim

بہت سارے پراگندہ بال والے، لوگوں کے دھتکارے ہوئے ایسے ہیں کہ اگر اللہ تعالی پر قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ اُن…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3715Sahih صحیح
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « رُبَّ أَشْعَثَ أغبرَ مَدْفُوعٍ بالأبواب لو أَقسم على الله لَأَبَرَّهُ ».
ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”بہت سارے پراگندہ بال والے، لوگوں کے دھتکارے ہوئے ایسے ہیں کہ اگر اللہ تعالی پر قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ اُن کی قسم پوری فرما دے“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Perhaps a disheveled, rejected person at the doors, if he were to swear by Allah, He would fulfill his oath."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3715

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

”رُبَّ أَشْعَثَ أغبرَ مَدْفُوعٍ بالأبوابِ لَو أَقسَمَ على الله لَأَبَرَّهُ“ یہاں ’أشعث‘ الشعث سے ماخوذ ہے، یہ بالوں کی ایک صفت ہے۔ ’’شعره أشعث‘‘ یعنی اس کے پاس بالوں میں لگانے کے لیے تیل موجود نہیں، اور نہ ہی کنگھی کرنے کے لیے کچھ ہے اور نہ ہی ان کے ظاہری مظہر کا خیال رکھا گیا ہے۔ أغبر یعنی غبار آلود رنگ والا، گُریدہ کپڑوں والا۔ اور یہ سب کچھ زیادہ فقر کی وجہ سے ہوتا ہے۔
”مدفوع بالأبواب“ یعنی وہ شخص جس کا کوئی رتبہ اور مرتبہ نہیں ہے، جب لوگوں کے پاس آنے کی اجازت مانگے تو اسے اجازت نہ ملے، بلکہ دروازوں سے واپس کر دیے جائیں۔ اس لیے کہ لوگوں کے ہاں اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے، تاہم رب العالمین کے ہاں ان کا مقام ومرتبہ ہوتا ہے، اگر وہ اللہ پر قسم کھا لیں تو اللہ اسے پوری کر دیتا ہے۔ اگر وہ کہے کہ واللہ ایسا نہیں ہوگا تو نہیں ہوتا ہے، واللہ ایسا ہوگا تو ایسا ہی ہوتا ہے، اگر وہ اللہ پر قسم کھا لیں تو اللہ کے ہاں اس کے شرف اور مرتبے کی وجہ سے اللہ اس کی اپنی قسمیں پوری کر دیتا ہے۔
”لَو أَقسم على الله لَأَبَرَّهُ“ اللہ کے ہاں میزان تقویٰ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ﴾ ”اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وه ہے جو سب سے زیاده ڈرنے واﻻ ہے“، جو اللہ کے ہاں سب سے زیادہ متقی ہوگا وہ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ عزت والا ہوگا، اللہ اس کا معاملہ آسان فرمائے گا، دعا قبول کرے گا، تکلیفیں دور کرے گا اور اس کی قسم پوری کرے گا۔
وہ شخص اللہ پر جو قسم کھاتا ہے وہ کسی پر ظلم کرنے کی قسم نہیں ہوتی، نہ ہی اللہ کی ملکیت میں اللہ تعالیٰ پر جرأت کرنے پر مبنی قسم ہوتی ہے، بلکہ اللہ عزّ وجلّ پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی رضامندی کے کاموں یا اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے جائز کاموں میں قسم کھاتا ہے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed that among people there are those whose hair is tangled and dusty, who do not oil it or wash it frequently. They have no status in the eyes of people, and they are pushed away from doors and rejected out of contempt. However, if they were to swear an oath, Allah would fulfill it in honor of them, ensuring that their request is granted and protecting them from breaking their oath, due to their virtue and status with Allah.

Topics موضوعات