صحیح مسلم
Sahih Muslim

مفرِّدون سبقت لے گئے

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3719Sahih صحیح
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ، فَمَرَّ عَلَى جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ جُمْدَانُ، فَقَالَ: «سِيرُوا هَذَا جُمْدَانُ، سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ» قَالُوا: وَمَا الْمُفَرِّدُونَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «الذَّاكِرُونَ اللهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم مکے کے راستے میں محو سفر تھے۔ دوران سفر جُمْدان نامی ایک پہاڑ کے پاس سے گزرے تو فرمایا : ”چلتے رہو۔ یہ جمدان ہے۔ مفرِّدون سبقت لے گئے“۔ صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! مفرِّدون کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والی عورتيں‘‘۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) was walking on the path of Makkah, and he passed by a mountain called Jumdān, so he said: "Proceed, this is Jumdān. Al-Mufarridūn have gone far ahead." They said: O Messenger of Allah, what is Al-Mufarridūn? He said: "Those men and women who remember Allah frequently."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: رواه مسلم
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3719

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بہ کثرت اللہ کا ذکر کرنے والوں کا مقام بیان فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ ان کو یہ امتیازی شان حاصل ہو گیا کہ وہ دوسروں سے آگے بڑھ کر جنت کے اونچے درجات حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ آپ نے ان کی تشبیہ جُمْدان پہاڑ سے دی ہے، جو دیگر پہاڑوں سے نمایاں مقام رکھتا ہے۔

حدیث کے فوائد

  • بہ کثرت ذکر کرنا اور اس مبارک کام میں مشغول رہنا مستحب ہے۔ کیوں کہ آخرت میں سبقت‘ کثرتِ بندگی اور عبادتوں میں اخلاص کی بنا پر حاصل ہوگی۔
  • اللہ کا ذکر صرف زبان سے بھی ہوتا ہے، صرف دل سے بھی ہوتا ہے اور زبان اور دل دونوں سے بھی ہوتا ہے، جو کہ ذکر کا سب سے اونچا درجہ ہے۔
  • ذکر کی ایک قسم مقید شرعی اوراد بھی ہیں۔ جیسے صبح و شام اور فرض نمازوں کے بعد کے اوراد وغیرہ۔
  • نووی نے فرمایا: یاد رکھیں کہ ذکر کی فضیلت تسبیح، تہلیل، تحمید اور تکبیر وغیرہ تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ اللہ کے لیے نیکی کا کام کرنے والا ہر شخص اللہ کا ذکر کر رہا ہوتا ہے۔
  • اللہ کا ذکر ثابت قدمی کا ایک عظیم ترین سبب ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالی کا فرمان ہے: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ) [الأنفال: 45] ترجمہ : اے ایمان والو! جب تم کسی (مخالف) فوج سے بھڑ جاؤ تو ﺛابت قدم رہو اور بکثرت اللہ کو یاد کرو تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو۔
  • اللہ کا ذکر کرنے والوں کے درمیان اور جُمْدان پہاڑ کے درمیان وجہ تشبیہ یہ ہے کہ دونوں اپنی الگ الگ حیثیت اور انفرادی شان کے حامل ہيں۔ جس طرح جمدان پہاڑ دیگر پہاڑوں سے الگ واقع ہے، اسی طرح اللہ کا ذکر کرنے والے لوگ اگرچہ لوگوں کی بھیڑ میں ہوتے ہيں، لیکن ان کے دل اور زبانیں سب سے الگ تھلگ اللہ کے ذکر میں مشغول ہوا کرتی ہيں، خلوت کے اوقات کو غنیمت سمجھتی ہیں اور بھیڑ سے وحشت محسوس کرنے لگتی ہيں۔ وجہ تشبیہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جس طرح پہاڑ زمین کو مضبوطی اور پختگی عطا کرتے ہیں، اسی طرح ذکر انسان کو دین پر ثابت قدم رکھتا ہے۔ وجہ تشبیہ دنیا و آخرت کی بھلائیوں کی جانب سبقت بھی ہو سکتی ہے۔ جس طرح مدینہ سے مکہ کے سفر پر نکلے ہوئے شخص کا جمدان پہاڑ تک پہنچنا اس کے مکہ پہنچنے کی علامت ہوا کرتى ہے اور جمدان پہنچنے والے کو سبقت کرنے والا سمجھا جاتا ہے، اسی طرح اللہ کا ذکر کرنے والا کثرت ذکر کی بنا پر دوسرے پر سبقت کرنے والا شمار ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) highlighted the status of those who remember Allah frequently and how they are unique and far ahead of others given their highest ranks in the Gardens of Pleasure. He likened them to Mount Jumdān, which stands alone apart from other mountains.

Topics موضوعات