کہاں ہے اس بات پر اللہ کی قسم کھانے والا کہ وہ بھلائی نہیں کرے گا؟
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3728Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3728)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
حدیث کا معنی یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دروازے پر لڑنے والے دو اشخاص کی آوازیں سنی جو کسی مالی تنازعے پر الجھ رہے تھے۔ ان کی آوازیں اتنی بلند ہوئیں کہ ان کی آوازیں نبی ﷺ کے کانوں میں پڑیں جب کہ آپ ﷺ اپنے گھر میں تشریف فرما تھے۔ نبی ﷺ ان کی آوازوں پر متوجہ ہوئے تو ان میں سے ایک شخص کو سنا کہ وہ دوسرے سے مطالبہ کر رہا تھا کہ وہ یا تو اسے (قرض میں سے کچھ) معاف کردے یا اس کے ساتھ کچھ نرمی کرے۔ یعنی وہ کچھ قرض کم کرنے اور اس پر آسانی کرنےکا مطالبہ کر رہا تھا، جب کہ دوسرا شخص کہہ رہا تھا کہ اللہ کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا۔ پس رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لاۓ اور فرمایا: ”کہاں ہےاس بات پر اللہ کی قسم کھانے والا کہ وہ بھلائی نہیں کرےگا؟“ یعنی كہاں ہے وہ جو اللہ کا قسم کھا رہا ہے کہ نیکی نہیں کروں گا؟ تو اس نے کہا: میں ہوں اے اللہ کے رسول۔ اور اِس کے لیے وہی ہے جو یہ پسند کرے۔ یعنی میں ہی ہوں جس نے اللہ کی قسم اٹھائی (لیکن اب میں) اپنے لڑنے والے کو قرض میں سے کچھ معاف کرنے یا اس میں نرمی کرنے میں سے کسی ایک چیز کا اختیار دیتا ہوں جو اسے پسند ہو۔
مسند احمد (24405) اور صحیح ابن حبان (5032) میں الفاظ کچھ یوں ہیں: ”اگر تم چاہو تو جتنی رقم کم ہے وہ معاف کردیتا ہوں یا اصل رقم میں سے کچھ کم کردیتا ہوں۔ تو اس نے جو رقم کم تھی وہ معاف کردی“۔
نبی ﷺ نے دو لڑنے والوں میں صلح کی سعی فرمائی، چاہے وہ (قرض کی کچھ رقم) معاف کردینے سے ہو یا (اس میں) نرمی کے ذریعے۔ اور ایک اور حدیث میں اسی طرح کا ایک اور قصہ بھی ہے جس کو امام بخاری (2424) اور امام مسلم (1558) نے بیان کیا ہے۔ کعب بن مالک سے روایت ہے کہ ان کا عبد اللہ بن أبي حدرد الأسلمي پر کچھ قرض تھا۔ جب دونوں کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے قرض کا مطالبہ کیا جو بحث کی صورت اختیار کرگیا اور ان دونوں کی آوازیں بلند ہو گئیں۔ نبی ﷺ ان دونوں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”اے کعب! اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا- گويا وہ کہہ رہے ہوں آدھا“۔ تو انہوں نے (قرض) کا آدھا حصہ لے لیا اور آدھا چھوڑ دیا۔
پس مسلمان کو چاہیے کہ نیکی کرنے پر حریص ہو اور ایک نیکی یہ بھی ہے کہ لوگوں کے ما بین صلح کرا دی جاۓ۔ پس اگر دو لوگوں، گروہوں یا قبیلوں کے مابین لڑائی جھگڑا اور نفرت دیکھو تو ان کے درمیان صلح کی کوشش کرو تاکہ ہر اس چیز کا خاتمہ ہو سکے جو دوری اور بغض کا باعث ہے۔ اور اس کی جگہ بھائی چارے اور محبت کا راج ہو۔ بے شک اس میں بہت خیر اور خوب ثواب ہے۔ بلکہ یہ عمل دن کو روزہ، رات کو قیام اور صدقہ کرنے سے بھی زیادہ فضیلت کا حامل ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں روزہ، نماز اور صدقہ و خیرات سے بھی افضل عمل نہ بتاؤں؟ (صحابہ نے عرض کیا) کیوں نہیں اے اللہ کے رسول (ضرور بتائیں)!، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”آپس میں صلح کرانا“۔ (ابو داود: 4919، شیخ البانی نے صحیح ابو داود میں اس کو صحیح کہا ہے)
Explanation
Hadīth explanation: The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) heard two men arguing over a financial matter. Their voices were so loud that he heard them while he was inside his house. He listened to them and heard one of them asking the other to reduce the amount of debt that he owes him or to show him leniency in collecting it. The other man's answer was: "By Allah! I will not do that." Thereupon, the Prophet went out to them and asked who it was who was swearing by Allah that he would not do a good deed. One of the two men said: "I am that person, O Messenger of Allah. I will give him whatever he wishes."
In another narration (about debt forgiveness) reported by Ahmad and Ibn Hibbān: "The man said: 'If you wish, I will waive the amount they are short of, and if you wish, I will waive part of the original sum.' So he waived the amount they were short of."
This narration was mentioned in this chapter for an obvious reason: to indicate that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) sought reconciliation between the two disputing men, either by reducing the loan, or by showing leniency. There is a similar narration relevant to this topic that was mentioned by Al-Bukhāri and Muslim on the authority of Ka‘b ibn Mālik (may Allah be pleased with him). He reported that ‘Abdullāh ibn Abi Hadrad al-Aslami owed him money, and so when he met him and asked for his money, they argued until their voices became loud. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) passed by them and said: "O Ka‘b!" and then gestured with his hand as if he was saying "half", so Ka‘b took half of what ‘Abdullāh owed him and waived the other half.
The Muslim should strive in doing good deeds, especially in reconciling between people and easing their circumstances. If he sees two people, two groups, or two tribes disputing and fighting one another, he should seek to reconcile between them in order to remove what is causing disunity and hatred and to replace it with brotherhood and love. Doing this is more rewarding than fasting, praying, and giving charity. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Shall I not tell you of what is higher in rank than fasting, praying, and giving charity?" They said: "Yes, O Messenger of Allah." He said: "Reconciling between two parties." [Abu Dawūd; classified as Sahīh by Al-Albāni]