صحیح بخاری
Sahih al-Bukhari

بریرۃ اور ان کے شوہر کی کہانی کی حدیث

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3741Sahih صحیح
عن ابن عباس رضي الله عنهما في قصة بريرة وزوجها، قال: قال لها النبي صلى الله عليه وسلم : «لو رَاجَعْتِهِ؟» قالت: يا رسول الله تأمرني؟ قال: «إنما أشْفَع» قالت: لا حاجة لي فيه.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بریره اور ان کے خاوند کے قصے ميں منقول ہے کہ نبی ﷺ نے ان (بريرہ) سے فرمایا کہ اگر تم اس (شوہر) سےٍ رجوع کر لو (تواچھا ہے)۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم! کیا آپ مجھے (لوٹنے کا) حکم دے رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میں تو صرف سفارش کر رہا ہوں، انہوں نے کہا: مجھے ان کی ضرورت نہیں۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Ibn ‘Abbās (may Allah be pleased with him) reported regarding the story of Barīrah and her husband: The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said to her: "If you would take him back?" She said: "O Messenger of Allah, are you ordering me to do so?" He replied: "I am just interceding." So she said: "I have no need for him."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhari
Original wording: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3741

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

بریرۃ رضی اللہ عنہا کے شوہر ایک غلام تھے جن کا نام مغیث تھا۔ بریرۃ رضی اللہ عنہا خریدے جانے سے قبل عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت کیا کرتی تھیں۔ جب عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں آزاد کرديا اورانہیں مغیث کے ساتھ رہنے یا ان سے علیحدہ ہونے کا اختیار مل گیا تو بریرۃ رضی اللہ عنہا نے ان سے علیحدگی اختیار کر لی۔ مغیث رضی اللہ عنہ اس خاندانی بندھن کے ٹوٹنے کے بعد مدینے کی گلیوں اور راستوں میں ان کے پیچھے روتے ہوئے پھرتے اور ان کے آنسو ان کی داڑھی پر بہہ رہے ہوتے ۔ یہ حالتِ زار بریرۃ رضی اللہ عنہا سے شدت محبت کی وجہ سے تھی۔ اس امید کے ساتھ کہ شاید وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں اور دوبارہ ان کی طرف لوٹ آئیں۔
اس پر نبی ﷺ نے بریرۃ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اگر تم ان سے رجوع کر لو تو تمہیں اجر ملے گا۔
انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم! کیا آپ مجھے اس بات کا حکم دے رہے ہیں کہ میں لازمی طور پر ان سے رجوع کرلوں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: میں تو صرف ان کے لیے سفارش کر رہا ہوں۔
اس پر بریرۃ رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھے ان سے رجوع کرنے کی خواہش اور حاجت نہیں ہے۔

Explanation

Barīrah's husband was a slave named Mugīth, and Barīrah used to serve ‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her) before she purchased her, then after ‘Ā’ishah freed her from slavery, she was given the choice whether to stay married to Mugīth or to separate from him (because she had become a free woman while he was still a slave). Barīrah chose to leave him. After this separation, Mugīth used to chase her through the roads of Madīnah crying with his tears flowing down his beard, perchance she would reconsider and go back to him. This was because of his extreme love for her.
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said to Barīrah: "If you would go back to him, you will receive reward (from Allah) for it."
She said: "O Messenger of Allah, are you ordering me to go back to him?"
He said: "I am only interceding on his behalf."
So she said: "I have no desire or need to go back to him."

Topics موضوعات