”میری تمام امت معاف کردی جائے گی سوائے اعلانیہ گناہ کرنے والوں کے۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3756Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3756)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اس بات کی امید رہتی ہے کہ اللہ گناہ کرنے والے مسلمان کے ساتھ عفو و درگزر کا معاملہ کرے۔ لیکن ایسا فخر اور بے شرمی کے ساتھ گناہ کرنے والے کے ساتھ نہیں ہوتا۔ وہ شخص عفو و درگزر کا حق دار نہیں ہے، جو رات میں گناہ کرتا ہو اور صبح لوگوں کو بتاتا پھرتا ہو کہ اس نے گزشتہ رات فلاں گناہ کیا ہے، جب کہ اللہ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈال رکھا تھا۔ پوری رات اللہ نے پردہ ڈالے رکھا اور صبح ہوتے ہی اس نے اسے تار تار کر دیا۔
حدیث کے فوائد
- اللہ کی جانب سے پردہ پوشی کے بعد گناہ کا اعلان کرنے کی مذمت۔
- گناہ کا اعلان کرنا ایک طرح سے اہل ایمان کے درمیان برائی عام کرنا ہے۔
- اللہ جس کی دنیا میں پردہ پوشی فرمائے گا، آخرت میں بھی اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ یہ دراصل بندوں پر اللہ کے بے پایاں فضل و کرم کی ایک مثال ہے۔
- جس سے کوئی گناہ ہو جائے، وہ اپنے گناہ کو چھپائے اور اللہ کے سامنے توبہ کرے۔
- گناہ کا اعلان کرنے والے بڑے گناہ کے حق دار ہیں، جو جان بوجھ کر گناہ کا اعلان کرتے پھرتے ہیں اور خود کو اللہ کے عفو و درگزر سے محروم کر لیتے ہيں۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) clarified that it is hoped for the Muslim sinner to be pardoned and forgiven by Allah except for the one who declares his sin out of boastfulness and rudeness. Such a person does not deserve pardon as he sins at night, then, although Allah conceals his sin, in the morning, he tells others of committing such-and-such sin the night before. He spends his night screened by his Lord, but he removes Allah's screen in the morning and exposes himself.